شام کی جنگ لبنان میں شروع

آخری وقت اشاعت:  بدھ 22 اگست 2012 ,‭ 13:55 GMT 18:55 PST
لبنان کا شہر طرابلس

طرابلس لبنان کا دوسرا بڑا شہر ہے اور اس میں سنی اور علوی فرقوں کے درمیان پہلے ہی کافی تناؤ ہے

شمالی لبنان میں سنیوں اور علوی فرقے کے درمیان لڑائی میں بارہ افراد ہلاک اور ایک سو سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔

لبنان میں سنیوں اور علویوں کے درمیان تنازع کی وجہ پڑوسی ملک شام کی صورتحال ہے۔ سنی شامی حزبِ اختلاف جبکہ علوی شام کی حکومت کی حمایت کر رہے ہیں۔

شمالی شہر تریپولی میں سنیوں اور علویوں کے درمیان مسلح جھڑپیں گزشتہ رات سے جاری ہیں۔ شام کے صدر بشارالاسد مسلمانوں کے علوی فرقے سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ اُن سے محاز آرا حزبِ اختلاف میں اکثریت سنیوں کی ہے۔

لبنان کے وزیراعظم نجیب مکاتی نے فریقین سے اِس ’بے مقصد‘ لڑائی کو ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔

لبنان میں بی بی سی کی نامہ نگار باربرا پلیٹ نے کہا ہے کہ لبنان میں سنیوں اور علویوں کے درمیان مستقل تناؤ اب اور بڑھ گیا ہے۔

لبنان کے شہر طرابلس میں گزشتہ دو دن سے سڑکوں پر لڑائی لڑی جا رہی ہے۔

شام کے صدر بشار السد کو بھی جو کہ خود علوی ہیں، ملک میں حزبِ مخالف کے سنی جنگجوؤں کا سامنا ہے۔

دونوں گروہوں کے درمیان پرانی عداوت نے شام کے حالات کی وجہ سے نئی شکل اختیار کر لی ہے۔

لبنان کے وزیرِ اعظم نجیب میقاتی نے جو کہ خود سنی ہیں، دونوں فریقوں سے اپیل کی ہے کہ طرابلس میں لڑی جانے والی اس ’بے مقصد‘ جنگ کو ختم کریں۔ طرابلس کی آباد دو لاکھ نفوس پر مشتمل ہے اور لبنان کا دوسرا بڑا شہر ہے۔

انہوں نے طرابلس کے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے آپ کو کسی دوسرے کی جنگ کے لیے اسلحہ نہ بننے دیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔