اصلاحات پر فرانس کا زور، ’سانس لینے کی مہلت دی جائے‘

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 25 اگست 2012 ,‭ 13:34 GMT 18:34 PST

فرانس کے صدر فرانسوا اولاند نے یونانی وزیر اعظم سے مذاکرات کے بعد کہا ہے کہ یونان کو یہ ثابت کرنا ہو گا کہ وہ بین الاقوامی قرض دہندگان کے مطالبات کے مطابق اصلاحات لا سکیں گے۔

اس سے قبل یونان کے وزیراعظم اینتونیس سوماراس نے کہا تھا کہ وہ فرانسیسی صدر کے ساتھ ملاقات میں اس بات پر زور دیں گے کہ یونان میں معاشی اصلاحات کو نافذ کرنے کے لیے انہیں مزید وقت دیا جائے۔

پیرس میں یورو زون بحران سے متعلق بات چیت ایک ایسے وقت میں ہورہی ہے جب سماراس جرمن چانسلر انجیلا مارکل سے یہ درخواست کرچکے ہیں کہ ان کے ملک کو ’سانس لینے کی مہلت‘ دی جائے۔

مارکل نے کہا تھا کہ وہ چاہتی ہیں کہ یونان یورو زون کا حصہ بنا رہے لیکن وہ یہ بھی امید کرتی ہیں یونان کو دیے جانے والے بیل آوٹ پیکج کے ضوابط پر قائم رہیں گی۔

بی بی سی کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پیرس میں ہونے والے مذاکرات کے دوران فرانسیسی صدر یہی پیغام دوہرائیں گے۔

جرمن چانسلر انجیلا مارکل اور فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند نے جمعرات کو یونان کے معاشی بحران سے متعلق بات چیت کی تھی اور کہا تھا کہ یونان سخت معاشی اصلاحات نافذ کرے۔

ہمارے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پیرس میں سماراس اس بات پر زور دیں گے کہ امید سے زیادہ کساد بازاری اور انتخابات کے سبب معاشی بحران اور اقتصادی خسارے کوکم کرنے کے لیے انہیں مزید وقت دیا جائے۔

"مید سے زیادہ کساد بازاری اور انتخابات کے سبب معاشی بحران اور اقتصادی خسارے کوکم کرنے کے لیے انہیں مزید وقت دیا جائے۔"

یونانی وزیر اعظم

مارکل سے بات چیت کے بعد جمعہ کو یونانی وزیر اعظم نے کہا تھا ’یونان اپنے عہد پر قائم رہے گا اور اپنی ذمہ داری کو نبھائے گا۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ عمل پہلے ہی شروع ہوچکا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم مزید مالی امداد نہیں مانگ رہیں ہیں۔ ہم صرف تھوڑی اور مہلت چاہتے ہیں۔

عالمی مالی ادارہ آئی ایم ایف ، یورپین سینٹرل بینک اور یورپی کمیشن اس بات پر غور و فکر کررہے ہیں کہ کیا یونان اپنی معشیت میں اصلاحات کے لیے بھرپور کوشش کر رہا ہے یا نہیں۔

واضح رہے کہ یورو زون کے ممالک نے یونان کو مالی امداد کے طور پر کئی بلین ڈالر کی امداد دی تھی اور یونان نے عہد کیا تھا کہ وہ اس قرضے کے بدلے میں اپنے اخراجات میں کٹوتی کرے گا۔

فرانس اور جرمنی نے یونان کو سب سے زیادہ امداد دی تھی۔

یونان گزشتہ پانچ برس سے مالی بحران کا شکار ہے۔ یونان میں بے روزگاری کی شرح میں اضافہ ہوا ہے اور وہ قرض کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔