افغانستان:ہلمند میں سترہ شہریوں کے سر قلم

آخری وقت اشاعت:  پير 27 اگست 2012 ,‭ 07:22 GMT 12:22 PST

افغانستان میں جنوبی صوبہ ہلمند کے مقامی حکام نے بتایا ہے کہ صوبے میں تشدد کے واقعات میں سترہ شہریوں کا سر قلم کر دیا گیا ہے جبکہ ایک دوسرے حملے میں کم از کم دس افغان فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔

حکام نے بتایا کہ شہریوں کی گردنی زنی کا واقعہ جنوبی صوبہ ہلمند کے موسی قلعہ ضلع میں اتوار کی شب پیش آیا۔

ہلمند صوبے کے گورنر ترجمان داؤد احمدی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’گذشتہ شب کاجاکی میں سترہ لوگوں کی گردنیں قلم کر دی گئیں جن میں دو خواتین بھی شامل ہیں۔‘

حکام کے مطابق ان افراد کی لاشوں پر تشدد اور گولیوں کے نشانات بھی موجود ہیں۔

داؤد احمدی نے بتایا کہ جس وقت حملہ کیا گیا یہ افراد ایک محفلِ موسیقی اور خواتین کا رقص دیکھنے کے لیے جمع ہوئے تھے۔ طالبان خواتین اور مردوں کی ایک ساتھ محفلوں میں شرکت کو پسند نہیں کرتے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’میں یقین سے یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ یہ طالبان کا کام ہے۔‘

انھوں نے بتایا ’ہمیں ابھی تک یہ نہیں معلوم ہو سکا ہے کہ ان کے پیچھے کون ہیں۔ ہماری تفتیش جاری ہے۔‘

دس فوجیوں کی ہلاکت کے بارے میں صوبائی حکومت نے کہا ہے کہ یہ حملہ اس وقت ہوا جب حملہ آوروں نے صوبہ ہلمند کے واشیر ضلع میں ایک سیکورٹی چوکی پر حملہ کیا۔

خبروں میں بتایا گیا ہے کہ اتوار کی شب ہوئے ایک حملے میں چار دیگر فوجی بھی زخمی ہوئے ہیں۔

صوبہ ہلمند میں ہوئے حملے میں کم از کم پانچ مزید فوجی غائب ہیں اور یہ واضح نہیں ہے کہ آیا انہیں اغوا کیا گیا ہے یا وہ اپنی مرضی سے حملہ آوروں کے ساتھ چلے گئے۔

افغان فوج اور امریکہ کی قیادت والی نیٹو فورسز کے علاقائی کوارڈینیٹنگ ادارے کے نائب سربراہ کرنل محمد اسماعیل ہوتک نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’واشیر ضلع کی ہماری ایک چوکی پر حملہ ہوا ہے اور اس حملے میں دس فوجی مارے گئے ہیں۔‘

لیکن اس کے برعکس ہلمند صوبہ کے سرکاری ترجمان داؤد احمدی نے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ حملہ ’اندرونی سازش‘ تھی اور یہ کہ ’مزید پانچ فوجی اپنے اسلحے سمیت طالبان کے ساتھ چلے گئے ہیں۔‘

حکام کے بتایا کہ واقعے کی جانچ کی جا رہی ہے۔

دریں اثناء یہ خبر بھی ہے کہ افغان فوجیوں نے مشرقی لغمان صوبے میں پیر کی صبح دو نیٹو فوجیوں کو ہلاک کر دیا ہے۔

بین الاقوامی امدادی سیکورٹی فورسز یعنی ایساف کے ترجمان نے خبررساں ایجنسی کو بتایا کہ ’ایساف کے فوجیوں نے جواب میں گولیاں برسائیں اور حملہ آور کو ہلاک کر دیا۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔