نائجیریا کی حکومت کی بوکوحرام سے بات چیت

آخری وقت اشاعت:  پير 27 اگست 2012 ,‭ 05:04 GMT 10:04 PST

بوکو حرام تنظیم کے ایک رکن جو نائجیریا میں سخت اسلامی قوانین کا نفاذ چاہتی ہے۔

نائجیریا کی حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے ملک میں ہونے والے حملوں کو روکنے کے لیے اسلامی شدت پسند تنظیم بوکو حرام سے غیر رسمی بات چیت شروع کی ہے۔

نائجیریا کے صدارتی ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ بات چیت رابطہ کاروں کے ذریعے کی جاری ہے تاہم انہوں نے اس کی تفصیلات نہیں بتائیں۔

بوکو حرام تنظیم نے چند روز قبل حکومت سے امن مذاکرات کو مسترد کر دیا تھا۔

بوکوحرام تنظیم نائجیریا کو مکمل طور پر اسلامی ریاست بنانا چاہتی ہے۔ اس تنظیم پر سینکڑوں لوگوں کی ہلاکت اور گرجا گھروں سمیت اہم اہداف پر حملوں کے الزامات ہیں۔

صدر کے ترجمان ریوبن اباتی کا کہنا تھا ’رابطہ کاروں کے ذریعے ہونے والے اس بات چیت کا مقصد یہ جاننا ہے کہ یہ درحقیقت کیا چاہتے ہیں اور اس بحران کے حل کے لیے کیا کِیا جاسکتا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس بات چیت کا مقصد نائجیریا کا استحکام، جان و مال کی حفاظت اور امن کو یقینی بنانا ہے۔ ‘

ترجمان کے مطابق یہ بات چیت تنظیم کے چند افراد سے ہو رہی ہے۔ اس تنظیم میں کئی گروہ شامل ہیں۔

نائجیریا میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں سے بات چیت کے حوالے سے یہ پہلا حکومتی بیان ہے۔

اس سے قبل امن بات چیت کی کوشش بہت جلد ناکام ہو گئی تھی۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق ابھی تک ان تازہ مذاکرات کے حوالے سے بوکو حرام نے کوئی بیان نہیں دیا ہے۔

نائجیریا بظاہر دو حصوں میں منقسم دکھائی دیتا ہے جہاں شمال میں مسلمان آبادی کی اکثریت ہے جبکہ جنوب میں عیسائی آبادی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔