افغانستان میں نو امریکی فوجیوں کو سزا

آخری وقت اشاعت:  منگل 28 اگست 2012 ,‭ 06:18 GMT 11:18 PST

قڑان جلائے جانے کا واقعہ فروری میں پیش آیاجس کے خلاف افغانستان میں پر تشدد احتجاج بھی ہوا جس میں تیس افراد ہلاک ہوئے۔

فغانستان میں قرآنی نسخے جلائے جانے کے واقعے میں ملوث اور شدت پسندوں کی لاشوں کی بے حرمتی کرنے والے نو امریکی فوجیوں کے خلاف انضباطی کارروائی کی گئی ہے۔

یہ دونوں الگ الگ واقعات اسی سال پیش آئے اور ان کے خلاف افغانستان میں پر تشدد احتجاج بھی ہوا جس میں تیس افراد ہلاک ہوئے۔

ان نو امریکی فوجیوں کو کیا سزا دی گئی ہے، اس کی تفصیل نہیں بتائی گئی۔

خیال ہے کہ ان کی تنخواہیں کاٹی جائیں گی یا عہدوں میں تنزلی کی جائے گی۔ تاہم، افغانستان میں انہیں سخت سے سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا، اور ماہرین کا کہنا ہےکہ افغانستان کے شہری اور ارکانِ پارلیمان انضباطی کارروائی سے مطمئن نہیں ہوں گے۔

امریکی فوج کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ واقعہ غیر ارادی تھا اور اس میں اسلام کی تذلیل کرنے کی ارادی کوشش شامل نہیں تھی۔

چھ امریکی فوجیوں کے خلاف قراآن کے نسخے جانے کے الزام تحت جبکہ تین کو طالبان جنگجوؤں کے لاشوں کے ساتھ ویڈیو بنانے کے الزام میں کارروائی کی گئی ہے۔

قرآن جلائے جانے کا واقعہ بیس فروری کو پیش آیا اور افغان صدر حامد کرزئی نے ایسا کرنے والے امریکی فوجیوں کے خلاف مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا تھا۔

حالیہ فیصلہ کے خلاف صدر کے دفتر نے بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس حوالےسے فیصلے کا جائزہ لینے کے بعد ردِ عمل دیا جائے گا۔

کابل کے شمال کے واقع بگرام فوجی اڈے پر قرآن کے سو نسخے اور دیگر اسلامی دستاویزات جلائی گئی تھیں جن میں سے بعض نسخے مکمل جلنے سے بچا لیے گئے تھے۔

یہ قرآن اور کتابیں پروان جیل سے نکالے گئے تھے جہاں یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ انہیں قیدی آپ میں پیغام رسانی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

اس معاملے میں ایک مترجم کو بھی موردِ الزام ٹھہرایا گیا ہے جس نے بظاہر یہ کہا تھا کہ زیادہ تر کتابیں شدت پسندی سے متعلق ہیں اور انہیں ضائع کرنے کے لیے مناسب طریقہ بھی تجویز نہیں کیا۔

امریکی فوج نے تین فوجیوں کو طالبان جنگجوؤں کی لاشوں پر پیشاب کرنے اور اس عمل کی ویڈیو بنانے کے الزام میں سزا سنائی ہے۔ ایک فوجی کو لاشوں پر پیشاب کرنے، دوسرے کو ان لاشوں کے ساتھ تصاویر بنوانے اور تیسرے کو تفتیش کاروں کے ساتھ غلط بیانی کرنے پر سزا سنائی گئی ہے۔

ان سزا یافتہ فوجیوں کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے تاہم امریکی فوجیوں کے مطابق ان کے خلاف تادیبی کارروائی کی تفصیلات بعد میں جاری کر دی جائیں گی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔