فرانس: یاسر عرفات کی موت کی تحقیقات شروع

آخری وقت اشاعت:  بدھ 29 اگست 2012 ,‭ 23:15 GMT 04:15 PST

فلسطینی شہریوں کی ایک بڑی تعداد کا خیال ہے کہ یاسر عرفات کو اسرائیل نے زہر دے کر قتل کیا گیا

فرانس میں استغاثہ نے فلسطینی رہنما یاسر عرفات کی موت کے بارے میں تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

سال دو ہزار چار میں فرانس کے ایک فوجی ہسپتال میں یاسر عرفات کا انتقال ہو گیا تھا۔

فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ استغاثہ نے قتل کی تحقیقات شروع کرنے پر رضا مندی ظاہر کی تھی تاہم ابھی تک اس ضمن میں کسی جج کو نامزد نہیں کیا گیا ہے۔

پیرس میں بی بی سی کے نامہ نگار ہگ سکوفیلڈ کے مطابق فرانس کا قانونی نظام سفارتی پہلووں کی وجہ سے اس مسئلے کو سنجیدگے سے دیکھنے کا پابند ہے تاہم طبی ماہرین کو تابکاری مادے سے زہر دینے کے دعووں پر شبہ ہے۔

فلسطین کے اعلیٰ اہلکار سائب اریکات نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی تحقیقات شروع کرنے فیصلے کو خوش آمدید کہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ’ہمیں امید ہے کہ مکمل سچ کو سامنے لانے کے لیے سنجیدگی سے تحقیقات کی جائیں گی۔‘

گزشتہ ہفتے سوئس ادارے کے مطابق انہیں سوہا عرفات اور فلسطینی اتھارٹی سے رام اللہ جانے کی اجازت مل گئی ہے تاکہ تابکار مادے کی باقیات کا مشاہدہ کیا جا سکے۔‘

اس سے پہلےگزشتہ ماہ یاسر عرفات کی بیوہ سوہا عرفات نے فرانسیسی حکام سے اپنے شوہر کی موت کی تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور اس سلسلے میں پیرس میں ایک قانونی درخواست بھی داخل کی گئی تھی۔

یہ مطالبہ ایک دعویٰ سامنے آنے کے بعد کیا گیا کہ یاسر عرفات کو زہر دے کر ہلاک کیا گیا تھا۔

یاسر عرفات کی موت کے متعلق نیا دعویٰ الجزیرہ ٹی وی کی ایک دستاویزی فلم میں سامنے آیا۔ اس دستاویزی فلم میں سوئٹزرلینڈ کے سائنسدانوں نے بتایا ہے کہ 2004 میں عرفات کی موت کے بعد ان کی زیرِاستعمال جو چیزیں ان کی بیوہ کے حوالے کی گئیں ان میں ایک خاص قسم کا تابکاری مادہ پلونیم 210 کے ذرات پائے گئے۔

عرفات کے طبی ریکارڈ کے مطابق ان کی موت خون کی گردش میں بے قاعدگی کے سبب دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی تھی۔

تاہم سوئٹزرلینڈ کے ادارے میں یاسر عرفات کی چیزوں کا تجزیہ کرنے والے ایک طبی ماہر نے کہا ’تابکاری مادے کے سب سے زیادہ ذرات ان کے زیرجامے اور روسی ٹوپی پر پائے گئے جسے پہن کر وہ پیرس گئے تھے یا جسے رام اللہ سے نکلتے وقت انہوں نے پہن رکھا تھا۔ ان کے ٹوتھ برش پر بھی تابکار مادے کے ذرات ملے ہیں‘۔

یاسر عرفات جو پینتیس برس تک فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے قائد رہے 1996 میں فلسطینی اتھارٹی کے پہلے صدر بنے تھے۔

وہ اکتوبر 2004 میں غرب اردن میں واقع اپنی محصور رہائش گاہ پر شدید بیمار ہوگئے تھے۔ دو ہفتے بعد انہیں علاج کے لیے پیرس لے جایا گیا تھا جہاں وہ گیارہ نومبر 2004 کو پچھہتر برس کی عمر میں انتقال کرگئے تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔