’امریکی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 29 اگست 2012 ,‭ 13:35 GMT 18:35 PST
فیئر کے ’بانی اور سربراہ‘ اگیگی

فیئر کے ’بانی اور سربراہ‘ اگیگی (دائیں) عدالت سے باہر آ رہے ہیں

امریکی ریاست جارجیا میں ایک عدالت کو بتایا گیا ہے کہ ایک حکومت دشمن فوجی دھڑے نے امریکی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش تیار کی تھی۔

یہ الزامات چار فوجیوں کے خلاف قتل کے الزام میں مقدمے کے دوران منظرِ عام پر آئے ہیں۔ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ اس گروپ سے وابستہ تھے۔

استغاثہ نے کہا ہے کہ ان افراد نے ایک فوجی تنظیم قائم کر رکھی تھی جس کا نام ’فِیئر‘ تھا، جس کا مطلب ’ہمیشہ ثابت قدم، ہر دم تیار‘ بنتا ہے۔

انہوں نے مبینہ طور پر ستاسی ہزار ڈالر مالیت کے ہتھیار اور بم خریدے تھے جن کی مدد سے وہ صدر اوباما کو قتل کرنا اور دوسرے اہداف کو نشانہ بنانا چاہتے تھے۔

استغاثہ کے رکن ایزابیل پالی نے فوجی چھاؤنی فورٹ سٹیورڈ کے قریب واقع لانگ کاؤنٹی کے جج کو بتایا کہ فوجی تنظیم نے واشنگٹن ریاست میں زمین خرید رکھی تھی، اور وہ اس علاقے میں ایک ڈیم کو تباہ کرنے اور سیب کی فصلوں کو زہرآلود کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

ان کا حتمی ہدف حکومت کا تختہ الٹنا اور صدر کو قتل کرنا تھا۔

ایزابیل پالی نے جج کو بتایا ’یہ مقامی دہشت گرد تنظیم صرف منصوبہ بندی اور باتیں ہی نہیں کرتی تھی، شواہد بتاتے ہیں کہ گروپ کے پاس وہ معلومات، ذرائع اور مقصد موجود تھا جس سے وہ اپنے منصوبوں پر عمل پیرا ہو سکتے تھے۔‘

ان الزامات کی تفصیل جارجیا کی ایک عدالت میں اس ہفتے چار افراد کے خلاف قتل کے کیس کے دوران سامنے آئی۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے دسمبر میں انیس سالہ سابق فوجی مائیکل روارک اور اس کی سترہ سالہ گرل فرینڈ کو ہلاک کر دیا تھا۔

پیر کے روز ملزم مائیکل برٹ نے نادانستہ قتل کے جرم کا اعتراف کر لیا۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ روارک کو گروپ کے منصوبوں کا علم تھا اور انہیں پردہ ڈالنے کی خاطر قتل کیا گیا۔

سپاہی ایگیگی کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ فیئر کا بانی اور سربراہ ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک سال قبل اپنی حاملہ اہلیہ کی ہلاکت کے بعد انشورنس سے ملنے والی پانچ لاکھ ڈالر کی رقم کو ہتھیار اور زمین خریدنے کے لیے استعمال کیا۔

ان کے ساتھی سپاہی برنیٹ نے عدالت کو بتایا کہ ایگیگی نے انہیں ایک کتاب کا مسؤدہ دکھایا تھا جس کے بارے میں انہوں نے کہا تھا ’یہ کتاب اصل محبِ وطنوں کے بارے میں ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ گروپ چاہتا تھا ’حکومت کو دوبارہ عوام کے حوالے کیا جائے۔‘

استغاثہ نے کہا ہے کہ انہیں نہیں معلوم کہ گروپ کے کل ارکان کتنے ہیں، لیکن اس میں بھرتی ہونے والے افراد مخصوص قسم کے ٹیٹو اور نراج پسند علامات استعمال کرتے تھے۔

ملزموں کے وکیلوں نے تاحال الزامات پر بات کرنے سے انکار کیا ہے جبکہ مقدمے کی کارروائی جاری ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔