لندن میٹروپولیٹن یونیورسٹی کا ویزا لائسنس منسوخ

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 30 اگست 2012 ,‭ 12:10 GMT 17:10 PST

’یونیورسٹی تین مخصوص شعبہ جات میں ناکام رہی ہے‘

برطانیہ کی سرحدی ایجنسی کی جانب سے لندن کی ایک یونیورسٹی کا غیر ملکی طلبہ کو داخلہ اور تعلیم دینے کا لائسنس منسوخ کیے جانے کے بعد وہاں زیرِ تعلیم دو ہزار سے زائد طلباء کی ملک بدری کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔

تیس ہزار طلباء کی مادرِ علمی لندن میٹروپولیٹن یونیورسٹی کو اب ایسے ممالک کے طلباء کو سپانسر کرنے اور ویزوں کی منظوری دینے کی اجازت نہیں ہوگی جن کا تعلق یورپی یونین سے نہیں ہے۔

کلِک میری تو پڑھائی رک گئی: متاثرہ طالبہ کی روداد سنیے

کلِک پاکستانی طلباء کی ہر ممکن مدد کریں گے: پریس منسٹر

برطانوی وزراء کا کہنا ہے کہ یہ یونیورسٹی طلباء کی حاضری کا ریکارڈ رکھنے میں ناکام رہی ہے اور اس میں بہت سے ایسے طلباء داخل ہیں جنہیں وہاں ہونے کا حق نہیں۔

اس فیصلے کے نتیجے میں لندن میٹروپولیٹن یونیورسٹی کے دو ہزار سے زائد غیر ملکی طلباء کے پاس اب دو ماہ کا وقت ہے کہ وہ کسی متبادل یونیورسٹی میں داخلہ لیں بصورتِ دیگر انہیں ملک چھوڑنا پڑ سکتا ہے۔

فیصلے سے متاثر ہونے والے طلباء کی مدد کے لیے ایک ٹاسک فورس بھی قائم کی گئی ہے۔

بدھ کی رات لائسنس کی منسوخی کا اعلان کرتے ہوئے برطانوی بارڈر ایجنسی کا کہنا تھا کہ لندن میٹروپولیٹن یونیورسٹی ’اپنے نظام میں موجود ان سنجیدہ ناکامیوں پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے‘ جن کی نشاندہی چھ ماہ قبل کی گئی تھی۔

انگلینڈ کی ہائر ایجوکیشن فنڈنگ کونسل کا کہنا ہے کہ ’یہ صرف لندن میٹروپولیٹن یونیورسٹی سے جڑے ایسے حالات ہیں جن کی ماضی میں مثال نہیں ملتی‘۔

کونسل کے مطابق ’اس فیصلے کا دیگر برطانوی جامعات کے موجودہ اور آنے والے بین الاقوامی طلباء پر کوئی اثر نہیں پڑے گا کیونکہ نہ تو کسی اور جامعہ کا لائسنس منسوخ ہوا ہے اور نہ ہی اس فیصلے سے دیگر جامعات کے لائسنسنگ کے معاہدوں پر کسی قسم کا سوال اٹھتا ہے‘۔

لندن میٹروپولیٹن یونیورسٹی کے ’انتہائی قابلِ اعتبار‘ تعلیمی ادارہ ہونے کا درجہ گزشتہ ماہ اس وقت معطل کر دیا گیا تھا جب یو کے بارڈر ایجنسی نے یورنیورسٹی کے غیر ملکی طلباء کے معاملے کی تحقیقات شروع کی تھیں

ہوم آفس نظرِ ثانی کرے

"میں لندن میٹروپولیٹن میں تھرڈ ایئر کا طالبعلم ہوں اور کمپیوٹر سائنس میں بیچلر ڈگری کر رہا ہوں۔ میرا ایک سمسٹر باقی ہے۔ میں اپنی فیس پر پچیس ہزار پاؤنڈ خرچ کر چکا ہوں جو کہ پورے کورس کا احاطہ کرتی ہے اور اس میں قیام و طعام کے اخراجات شامل نہیں۔ میں نے کچھ جامعات سے ٹرانسفر کے لیے رابطہ کیا لیکن مجھے بتایا گیا کہ ایسا دوسرے سمسٹر میں تو ممکن ہے تیسرے میں نہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ اب مجھے نہ صرف اپنی تعلیم کا دورانیہ بڑھانا ہوگا بلکہ اس پر مزید اخراجات بھی ہوں گے۔ میں نہیں جانتا کہ میرے پاس اضافی اخراجات کے لیے رقم کہاں سے آئے گی۔ میرے والد ریٹائر ہو چکے ہیں اور وہی میرے تعلیمی اخراجات برداشت کر رہے ہیں۔ میرے پاس آسٹریلیا اور کینیڈا کی جامعات سے بھی داخلے کی پیشکش تھی لیکن میں نے برطانوی ڈگری کی قدر کی وجہ سے یہاں کا چناؤ کیا۔ یہ میرے وقت اور رقم کا مکمل ضیاع ہے۔ اب مجھے کون داخلہ دے گا اور میرا کیا ہوگا؟ میرے خیال میں ہوم آفس کو نظرِ ثانی کرنی چاہیے۔ انہیں موجودہ طلباء کو ان کی ڈگریاں مکمل کرنے کی اجازت دینی چاہیے اور یہ قانون نئے طلباء پر لاگو ہونا چاہیے۔"

عاشق الرحمان، بنگلہ دیش

برطانوی وزیر برائے امیگریشن ڈیمیئن گرین کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی تین مخصوص شعبہ جات میں ناکام رہی ہے۔

ان کے مطابق جامعہ کے جن ایک سو ایک طلباء کے معاملات کا بطور نمونہ جائزہ لیا گیا جن میں سے ایک چوتھائی سے زیادہ کو برطانیہ میں قیام کی اجازت ہی نہیں تھی۔ اس کے علاوہ طلباء کو داخلہ دیتے ہوئے ان کی انگریزی بول چال کی قابلیت کو لازماً جانچنے کے ’باقاعدہ شواہد نہیں ملے‘۔

ڈیمیئن گرین کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی اس بات کا ریکارڈ رکھنے میں بھی ناکام رہی کہ آیا طلباء باقاعدگی سے کلاس میں حاضر ہو رہے ہیں یا نہیں۔

بدھ کو یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر موجود ایک بیان کے مطابق لائسنس کی منسوخی کے بہت ’اہم اور دور رس‘ نتائج ہوں گے۔ بیان کے مطابق ’ہمارے موجودہ اور ممکنہ طلباء ہماری سب سے بڑی ذمہ داری ہیں اور یونیورسٹی اس سلسلے میں اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کرے گی‘۔

یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں پہلے ہی یو کے بارڈر ایجنسی، انگلینڈ کی ہائر ایجوکیشن فنڈنگ کونسل، نیشنل یونین آف سٹوڈنٹس اور یونیورسٹی کی سٹوڈنٹس یونین کے ساتھ مل کر اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کی کوششیں شروع کر دی گئی ہیں۔.

نیشنل سٹوڈنٹس یونین کے صدر لیئم برنز کا کہنا ہے کہ ’یہ فیصلہ نہ صرف لندن میٹروپولیٹن بلکہ ملک بھر کے طلباء کے لیے پریشانی کا باعث ہوگا۔ طلباء، اداروں اور اس ملک کے لیے اس سخت فیصلے کی کوئی وجہ دکھائی نہیں دیتی‘۔

انہوں نے کہا کہ ’اگر بین الاقوامی طلباء کو مستقل تارکینِ وطن کی فہرست میں شامل نہ کیا جاتا تو اس صورتحال سے بچا جا سکتا تھا‘۔

برطانوی یونیورسٹیوں کے صدر پروفیسر ایرک ٹامس کا کہنا ہے کہ یوکے بارڈر ایجنسی کے خدشات دور کرنے کے متبادل طریقے بھی تھے اور ’یونیورسٹی کا لائسنس منسوخ کیا جانا آخری قدم ہونا چاہیے تھا‘۔

تاہم برطانوی سرحدی ایجنسی کا کہنا ہے کہ لندن میٹروپولیٹن یونیورسٹی کو بین الاقوامی طلباء کو سپانسر کرنے اور انہیں تعلیم دینے کی اجازت دینا ’کوئی آپشن نہیں تھی‘۔

جامعات کے وزیر ڈیوڈ ولٹس نے اس فیصلے سے متاثر ہونے والے غیر ملکی طلباء کی مدد کے لیے ایک ٹاسک فورس بنائی ہے جس میں یو کے بارڈر ایجنسی اور نیشنل سٹوڈنٹس یونین کے نمائندے بھی شامل ہوں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’یہ ضروری ہے کہ ایسے اصل طلباء کو فوری مشورہ اور مدد فراہم کی جائے جو اس فیصلے سے متاثر ہوئے ہیں اور اس میں ان کا کوئی قصور بھی نہیں۔ اس میں انہیں اپنی تعلیم کی تکمیل کے لیے دیگر تعلیمی اداروں کی تلاش میں مدد فراہم کرنا بھی شامل ہے‘۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔