ایران جوہری ہتھیار نہیں بنا رہا:خامنہ ای

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 30 اگست 2012 ,‭ 09:05 GMT 14:05 PST

سربراہی اجلاس میں دنیا بھر کے پچاس سے زیادہ ممالک کے نمائندے شریک ہیں

ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ ان کا ملک جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر رہا ہے۔

جعرات کو ایران کے دارالحکوت تہران میں غیر وابستہ ممالک کی تحریک یعنی نیم کے دو روزہ سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے امریکہ کی جانب سے دنیا پر اپنی مرضی تھوپنے کا الزام عائد کیا۔

انہوں نے سربراہی اجلاس میں شریک پچاس سے زیادہ ممالک کے نمائندوں کو بتایا کہ ایران نے کبھی بھی جوہری ہتھار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی۔

آیت اللہ خامنہ ای نے اس بات پر زور دیا کہ ایران پر امن جوہری توانائی کے حصول کے اپنے حق سے کبھی بھی دستبردار نہیں ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ ایران پر اس کے جوہری پروگرام کی وجہ سے جو پابندیاں عائد کی گئی ہیں ان سے ایران متاثر ہوا ہے اور نہ ہو گا۔

خبر رساں ایجنسی رائیٹرز کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر منطقی ڈھانچے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس نے امریکہ کو دنیا پر اپنی مرضی تھوپنے کا موقع فراہم کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے بدھ کو ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای سے ملاقات کی

امریکہ اور مغربی ممالک کو شبہہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے لیکن تہران کا اصرار ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

تہران میں ہونے والے سربراہی اجلاس میں پاکستان کے صدر آصف علی زرداری، بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ، مصری صدر محمد مرسی، شام کے وزیر اعظم، قطر کے امیر شیخ حمد بن خلیفہ اور افغان صدر حامد کرزئی شامل ہیں۔

ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد محمد مرسی پہلے مصری صدر ہیں جو سنہ انیس سو اناسی کے بعد ایران کا دورہ کر رہے ہیں۔

اس سے پہلے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے بدھ کو ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای اور صدر احمدی نژاد سے ملاقات کی۔

بان کی مون کے ترجمان کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے ہونے والے سست روی کا شکار مزاکرات میں تیزی لانا چاہتے ہیں۔

ترجمان کے مطابق بان کی مون نے ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای اور صدر احمدی نژاد سے ملاقات میں ان سے شامی قیادت کی جانب سے ملک میں جاری تشدد کو فوری طور پر ختم کرنے کی استدعا کی۔

ادھر امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے بان کی مون کے دورے پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے ’حیران کن‘ قرار دیا تاہم جنوبی کوریا نے ایران میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

تہران میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار جیمز رینولڈ کا کہنا ہے کہ ایران اس اجلاس کے ذریعے اپنے جوہری پروگرام کے خلاف اسے عالمی سطح پر تنہا کرنے کی مغربی کوشش کا مقابلہ کرے گا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔