ایمسٹرڈیم اب سیکس شاپس سے نجات چاہتا ہے

آخری وقت اشاعت:  اتوار 2 ستمبر 2012 ,‭ 00:46 GMT 05:46 PST

ایک دہائی قبل ہالینڈ نے جنسی کاروبار اور جرم کو روکنے کے لیے جسم فروشی کو جائز بنا دیا تھا۔ لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ اس اقدام کا برعکس اثر ہوا ہے۔

ایمسٹرڈیم کے میئر کا کہنا ہے کہ شہر کا ریڈ لائٹ علاقہ انسانی سمگلنگ کا مرکز بن گیا ہے۔ اب کوشش کی جا رہی ہے کہ شہر میں سیکس شاپس کم کی جائیں اور ان دکانوں کو نئے كاروبار میں تبدیل کیا جائے۔

ایمسٹرڈیم ایک پرانا شہر ہے اور یہاں کی بندرگاہ بھی کافی پرانی ہے۔ سولہویں صدی میں شہر ایک ایسی جگہ کے طور پر مشہور ہونے لگا جہاں ملاح آرام کے لیے ركتے تھے اور تفریح کے لیے ساحل سے تھوڑی ہی دور پر بسے ریڈ لائٹ علاقے میں ٹہلنے کے لیے جاتے تھے۔

ایک دہائی پہلے جنسی کاروبار کو قانونی اجازت دی گئی تاکہ یہ کام چوری چھپے نہ ہو۔ امید تھی کہ اس سے جرم کم ہوں گے لیکن ہوا اس کا الٹا ہی۔ اور اب نئی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے جس کے تحت شہر کے چالیس فیصد قحبہ خانوں کو بند کر کے ان کی جگہ دوسرے کاروبار شروع کیے جائیں گے۔

شہر میں یہ تبدیلی لانے کی ذمہ داری اپمير لڈوك کو سونپی گئی ہے۔

اپمير لڈوك شہر کی ریڈ لائٹ علاقے میں ایک طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں ’اگلے ہفتے یہاں کتاب کی دکان کھلے گی۔ ایمسٹرڈیم میں یہاں کے قانون اور جنسی کاروبار کی وجہ سے یہاں انسانی سمگلنگ بڑھ گئی ہے اور ہم کوشش کر رہے ہیں کہ حالات کو تبدیل کیا جائے۔‘

مجھے یہاں کھڑکی کے پیچھے آسان لگتا ہے کیونکہ میں یہ کام کرنا چاہتی ہوں: مرسکا

ایمسٹرڈیم کا ریڈ لائٹ علاقہ سیاحوں کے لیے شہر کی سب سے مشہور اور دلکش جگہ ہے۔ تنگ گلیوں میں پچاس سے زیادہ ’سیکس شاپ‘ ہیں جن کے باہر کم کپڑوں میں لڑكياں گاہکوں کو لبھاتي ہیں۔

شہر کی کونسل فیشن سے منسلک کاروبار شروع کرنے کے لیے جنسی کاروبار سے منسلک خواتین کو خصوصی رعایت دے رہی ہے۔ شہر میں کرایہ بہت زیادہ ہے، لیکن اگر کوئی عورت سیکس شاپ کو بند کر کے فیشن کی دکان کھولنا چاہتی ہے تو اسے کرائے میں بڑی رعایت دی جائے گی۔

ریڈ لائٹ علاقے میں فیشن پر کام کرنے والی ایک خاتون روبيا کہتی ہیں ’ایمسٹرڈیم میں جگہ لینا بہت مشکل کام ہے کیونکہ یہاں کرایہ بہت زیادہ ہے۔ اس وجہ سے کئی فیشن ڈیزائنر شہر سے دور چلے جانے پر مجبور ہوتی ہیں جبکہ شہر کا یہ علاقہ ان کے لیے سب سے فائدہ مند رہتا۔‘

لیکن ان لڑکیوں کا کیا جو جسم فروشی کا کام کرتی ہیں؟

مرسكا مجور ایسی ہی ایک خاتون ہیں جو ایک رات میں ایک ہزار یورو کماتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نئے قوانین ٹھیک نہیں ہے کیونکہ یہ سیکس ورکر کے بارے میں قدامت پسند خیالات پھیلاتے ہیں۔

مرسكا کہتی ہیں ’مجھے یہاں کھڑکی کے پیچھے آسان لگتا ہے کیونکہ میں یہ کام کرنا چاہتی ہوں۔ میں ہر روز اتنے جنسی تعلقات قائم کرنے کی پرواہ نہیں کرتی ہوں۔ لیکن مجھے فکر ہے لوگوں کی نظروں کی۔ وہ ہماری طرف ایسے دیکھتے ہیں جیسے کسی چڑیا گھر میں بندر کو دیکھ رہے ہوں۔ لیکن اب شہر کی انتظامیہ ہمیں اور کمزور بنا رہی ہے کیونکہ نئے قوانین سے ہمارے بارے میں لوگوں کی رائے اور منفی ہو جائے گی۔‘

ابھی جن نئے قوانین پر غور کیا جا رہا ہے ان میں کم از کم عمر اٹھارہ سال کرنا اور جنس کے لیے کام کر رہی خواتین کو لازمی اندراج کروانا شامل ہے۔

لیکن یہاں کے حالات پر نظر رکھنے والے لوگوں کو ڈر ہے کہ قحبہ خانوں سے کچھ لڑکیوں کو کم کر دینے سے مسئلے کا خاتمہ نہیں ہو جائے گا۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔