سعودی کارکن محمد القحطانی کے خلاف مقدمہ

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 1 ستمبر 2012 ,‭ 13:36 GMT 18:36 PST

محمد القحطانی اور عبداللہ الحامد دونوں انسانی حقوق کے کارکن اور یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں

سعودی عرب میں انسانی حقوق کے ایک معروف کارکن محمد القحطانی کے خلاف عدالتی مقدمے کی کارروائی شروع ہو گئی ہے۔

انہیں کئی الزامات کا سامنا ہے جن میں ایک غیر قانونی تنظیم بنانا، بین الاقوامی اداروں کو سعودی عرب کے خلاف کرنا اور سعودی بادشاہ کے ساتھ جفا کرنا وغیرہ شامل ہے۔

محمد القحطانی معاشیات کے پروفیسر ہیں جو سعودی عرب میں انسانی حقوق کی ایک تنظیم کے شریک بانی بھی ہیں۔ اگر وہ مجرم قرار پائے تو انہیں پانچ برس تک قید کی سزا ہوسکتی ہے۔

محمد القحطانی کا بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ وہ سعودی حکام کے ظالمانہ نظام کو دنیا کے سامنے لانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔

ان کے ساتھ ہی انسانی حقوق کے ایک اور کارکن پروفیسر عبداللہ الحامد پر بھی مقدمے چلایا جا رہا ہے۔

یہ دونوں پروفیسر سعودی عرب میں عدالتی مقدمات کا سامنا کرنے والے انسانی حقوق کے کئی کارکنوں میں سے ہیں۔

بی بی سی کے عرب امور کے ایڈیٹر سباسچین اوشر کا کہنا تھا کہ محمد القحطانی کے حمایتی سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر کی مدد سے مقدمے کی تفصیلات شائع کرتے رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے حمایتیوں نے ملزم کے ساتھ اظہارِ یکجحتی کے لیے مقدمے کی سماعت میں موجود انسانی حقوق کے دیگر کارکنوں کی تصاویر بھی شائع کیں ہیں اور ان رپورٹوں کی وجہ سے یہ مقدمہ ایسے انداز میں منظرِ عام پر آ گیا ہے جو کہ سعودی عرب میں کم ہی دیکھا جاتا ہے۔

"میں سعودی عرب کے سابق بادشاہ شاہ سعود کی بیٹی کی حیثیت سے بات کر رہی ہوں۔ میرے والد نے خواتین کی پہلی یونیورسٹی قائم کی، غلامی کو ممنوع کیا اور ایک آئینی بادشاہت بنانے کی کوشش کی جس میں بادشاہ اور وزیرِ اعظم کے عہدوں میں فرق واضح ہو۔ لیکن مجھے افسوس ہے کہ میرے پیارے وطن میں ایسا ہو نہ سکا"

شہزادی بسمہ بنت سعود بن عبدالعزیز

مقدمے کی سماعت کے بعد بی بی سی سے بات کرتے ہوئے محمد قحطانی نے بتایا کہ عدالت نے انہیں اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کا تحریری جواب دینے کے لیے پیر تک کا وقت دیا ہے۔

اس سال اپریل میں قیدیوں کے حقوق کے لیے مہم چلانے والے محمد البجادی کو چار سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی تھی۔

اپریل میں ہی سعودی عرب کے فرمانروا شاہ عبداللہ کو بدنام کرنے کے جرم میں ایک مصری وکیل کو اس وقت گرفتار کر لیا گیا تھا جب وہ عمرہ کے لیے جدہ پہنچے۔

احمد الغزاوی کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ سعودی عرب کی کوئی عدالت نے ان کی غیر حاضری میں انہیں ایک برس قید اور بیس کوڑوں کی سزا سنا چکی ہے۔ اس سزا کے خلاف مصر بھر میں سعودی عرب کے خلاف شدید غصہ پایا جاتا ہے۔

احمد الغزاوی نے سعودی عرب کی جیلوں میں قید مصری قیدیوں کی رہائی کے لیے درخواستیں دائر کرتے تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔