اردن: شامی پناہ گزینوں کے لیے امداد درکار

آخری وقت اشاعت:  اتوار 2 ستمبر 2012 ,‭ 09:27 GMT 14:27 PST
شامی شہری

شام میں جنگی حالات جاری ہیں

اردن نے عالمی برداری سے اپیل کی ہے کہ شام سے آنے والے پناہ گزینوں کی مدد کے لیے امداد میں اضافہ کیا جائے۔

اقوام متحدہ کا پناہ گزینوں سے متعلق ادارہ یعنی یو این ایچ آر سی کے ساتھ ایک مشترکہ اپیل میں اردن نے کہا ہے کہ شامی پناہ گزینوں کی مدد کے لیے انہیں اب سات سو ملین ڈالر کی رقم درکار ہے۔ واضح رہے کہ چند روز قبل انہوں نے چار سو ملین ڈالر کی مدد مانگی تھی۔

یہ اپیل ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب شام میں جنگی حالات بدستور جاری ہیں اور وہاں سے مزید شہری قریبی ممالک میں پناہ لے رہے ہیں۔

دریں اثناء الجیریا کے لخدر براہیمی نے اقوام متحدہ کے شام کے لیے خصوصی ایلچی کے طور پر اپنا عہدہ سنبھال لیا ہے۔

واضح رہے کہ لخدر براہیمی نے کوفی عنان کی جگہ لی ہے۔ اس سے قبل کوفی عنان شام میں امن کی بحالی کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی تھے۔ براہیمی نے عنان کے مقابلے میں امن منصوبے کی کامیابی کے لیے اپنی توقعات کم رکھی ہیں۔

پڑوسی ملک لبنان میں مقیم بی بی سی کے نمائندے جم موئر کا کہنا ہے کہ شام میں دونوں متحارب گروپوں میں کسی قسم کی تبدیلی کے آثار نظر نہیں آ رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ لخدر براہیمی کی جانب سے کسی بھی قابل عمل سیاسی حل کے لیے حالات میں تبدیلی ضروری ہے۔

اطلاعات کے مطابق شام کے سرحدی علاقوں میں بحران میں روزانہ اضافہ ہو رہا ہے۔

سنیچر کو اردن میں منصوبہ بندی کے وزیر جعفر حسن نے کہا کہ شامی پناہ گزینوں کی تعداد ایک لاکھ اسّی ہزار سے تجاوز کر کے جلد ہی دو لاکھ چالیس ہزار ہوجائے گی اور اس کے سبب ملک کے پہلے سے ہی کم وسائل متاثر ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ جس تعداد میں شام سے پناہ گزین آ رہے ہیں ان کی ذمہ داری اٹھانا حکومت کے لیے مشکل ہوتا جارہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے یہ مشترکہ اپیل اس لیے کی ہے تاکہ مستقبل میں ہم اپنے شامی بھائیوں کو مدد فراہم کر سکیں۔

اردن کی جانب سے یہ اپیل ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب شامی حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے سنیچر کو باغیوں کی جانب سے حلب کے ایک ہوائی اڈے پر حملے کو پسپا کر دیا ہے وہیں باغیوں نے ملک کے شمال میں ایک حملے میں اپنی جیت کا اعلان کیا ہے۔

باغیوں نے گذشتہ چند ہفتوں میں شامی فضائیہ پر حملوں میں اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا ہے کہ حکومت ان ہوائی اڈوں کا استعمال شہریوں پر حملوں کے لیے کر رہی ہے۔

باغیوں کا کہنا ہے کہ دیر الزور نامی مشرقی شہر میں فضائیہ کی ایک عمارت پر قبضے کے دوران شامی فضائیہ کے ایک کمانڈر ہلاک ہوگئے جبکہ سولہ اہلکاروں کو حراست میں لیا گیا ہے۔

بہرحال دونوں جانب سے کیے جانے والے دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے کیونکہ ملک میں غیر ملکی صحافیوں کی تعداد انتہائی محدود ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔