’برطانیہ مبارک دور کے اثاثے منجمد کرنے میں ناکام‘

آخری وقت اشاعت:  پير 3 ستمبر 2012 ,‭ 01:12 GMT 06:12 PST

بی بی سی کی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ سابق مصری صدر حسنی مبارک کی حکومت کے اثاثہ جات منجمد کرنے کے عزم میں برطانوی حکومت ناکام ہو رہی ہے۔

دستاویزات سے معلوم چلا ہے کہ صدر حسنی مبارک اور ان کے قریب ساتھیوں کی جائیداد اور کمپنیوں پر پابندیوں کا کوئی اثر نہیں پڑا ہے۔

مصر کی حکومت نے برطانوی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ چوری کی گئی دولت کو چھپا رہی ہے اور بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔

تاہم برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے میں ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق پچھلے سال گیارہ فروری کو انقلاب کے ذریعے حسنی مبارک کی حکومت ختم ہوئی تھی اور اس سے پہلے حسنی مبارک اور ان کے قریبی ساتھیوں نے اربوں ڈالر چوری کیے۔

صدر مبارک کی حکومت ختم ہونے کے تین روز بعد برطانوی وزیر خارجہ ولیئم ہیگ نے پارلیمنٹ کو بتایا تھا کہ برطانیہ سابق حکومتی اہلکاروں کے اثاثہ جات منجمد کرنے کی مصری حکومت کی درخواست پر تعاون کرے گی۔

تاہم اس اعلان کے 37 روز کے بعد برطانیہ اور یورپی یونین نے پابندیاں عائد کیں۔ اور مصری حکومت کا کہنا ہے کہ اس عرصے میں حسنی مبارک اور ان کے قریبی ساتھیوں نے اپنے اثاثہ جات کہیں اور منتقل کردیے۔

برطانیہ نے صدر حسنی مبارک، ان کی اہلیہ، دو بیٹوں اور دیگر پندرہ مصری افراد کے اثاثہ جات منجمد کیے ہیں جن کی مالیت 135 ملین ڈالر ہے۔

اسی طرح دستاویزات میں منجمد کیے گئے اثاثوں میں کہیں بھی نائٹس برج میں اس مکان کا ذکر نہیں ہے جس کی مالیت آٹھ سے دس ملین پاؤنڈ ہے۔ یہ مکان حسنی مبارک کے چھوٹے بیٹے جمال کی رہائش گاہ تھی۔

تاہم بی بی سی کو تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ وہ کون سے اثاثہ جات ہیں جو برطانوی حکومت منجمد نہیں کرسکی۔

صدر حسنی مبارک کے وزیر برائے ہاؤسنگ کی اہلیہ نے نومبر دو ہزار گیارہ کو اپنے نام ایک کمپنی رجسٹر کرائی۔ یہ کمپنی اس وقت رجسٹر کی گئی جب ان کے اثاثہ جات منجمد کیے ہوئے سات ماہ ہو چکے تھے۔

دستاویزات کے مطابق حسنی مبارک کے چھوٹے بیٹے جمال کی کمپنی اس سال فروری تک قائم تھی اور اس کمپنی نے خود اس کمپنی کو ختم کرنے کا اعلان کیا۔

اسی طرح دستاویزات میں منجمد کیے گئے اثاثوں میں کہیں بھی نائٹس برج میں اس مکان کا ذکر نہیں ہے جس کی مالیت آٹھ سے دس ملین پاؤنڈ ہے۔ یہ مکان حسنی مبارک کے چھوٹے بیٹے جمال کی رہائش گاہ تھی۔

جمال سنہ 2010 تک اس مکان کا پتہ استعمال کرتے رہے ہیں اور ان کی بیٹی فریدہ کے پیدائش کے سرٹیفیکیٹ پر بھی یہی پتہ درج ہے۔

برطانیہ نے مصر کی درخواست قبول کر لی ہے جس میں قانونی مدد مانگی گئی ہے تاکہ مصر کے سابق حکمرانوں کے اثاثہ جات کی کھوج لگائی جاسکے۔ تاہم برطانیہ نے مصر سے مزید معلومات طلب کی ہیں لیکن مصر کا کہنا ہے کہ ان کے پاس مزید معلومات نہیں ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔