بنگلہ دیشی معیشت کی شہ رگ

آخری وقت اشاعت:  منگل 4 ستمبر 2012 ,‭ 05:28 GMT 10:28 PST

پچھلے سال اس بندرگاہ سے ساٹھ ارب ڈالر مالیت کی درآمدات اور برآمدت ہوئیں

بنگلہ دیش حالیہ برسوں میں کپڑا برآمد کرنے والے ممالک میں اہم مقام حاصل کر چکا ہے اور اس کامیابی میں کلیدی کردار ملک کے جنوب میں واقع چٹاگانگ کی بندرگاہ کا بھی ہے۔

چٹاگانگ بندرگاہ بنگلہ دیش کی سب سے مصروف اور اہم بندرگاہ ہے اور یہیں سے ملک کا برآمد اور درآمد کیے جانے والا اسّی فیصد سامان یہیں سے جاتا ہے۔

خلیج بنگال کے قریب دریائے کرنافلی پر واقع اس بندرگاہ کو بنگلہ دیشی معیشت کی شہ رگ کہا جاتا ہے۔

آج کل اس بندرگاہ سے کپڑے، چمڑے کی مصنوعات، چائے اور دیگر اشیاء برآمد کی جاتی ہیں۔ پچھلے سال اس بندرگاہ سے ساٹھ ارب ڈالر مالیت کی درآمدات اور برآمدت ہوئیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک سو پچیس سال پرانی اس چٹاگانگ بندرگاہ میں موجود سہولیات میں جدت لائی جائے تو یہ ایک علاقائی بندرگاہ بن سکتی ہے۔

چٹاگانگ یونیورسٹی کے پروفیسر احسان العالم کا کہنا ہے ’ہماری معاشی ترقی میں اس بندرگاہ کا بھی اہم کردار ہے۔ لیکن اس بندرگاہ پر دباؤ روز بروز بڑھ رہا ہے۔ اگر ہم نے اس بندرگاہ میں جدید سہولیات فراہم نہ کیں اور اس پر مزید کام نہ کیا تو بنگلہ دیش اندرونی مانگ کو پورا نہیں کر پائے گا۔‘

پچھلے سال بنگلہ دیش نے یورپی ممالک اور امریکہ کو انیس ارب ڈالر مالیت کے کپڑے برآمد کیے اور اس میں سے زیادہ تر سامان اسی بندرگاہ سے گیا۔

بین الاقوامی کنسلٹنسی کمپنی میکنزی کے اندازے کے مطابق اگر بنگلہ دیش اس بندرگاہ میں جدید سہولیات فراہم کر دے تو بنگلہ دیش کپڑوں کی برآمد اگلے دس سالوں میں دگنی کر لے گا۔

بنگلہ دیش کی معیشت پچھلے کئی سالوں سے چھ فیصد سالانہ بڑھ رہی ہے اور اس بہتری کے ساتھ ساتھ برآمدات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

اس وقت چٹاگانگ بندرگاہ پر ایک جہاز پر سامان لادنے یا اتارنے میں ڈھائی روز لگتے ہیں۔ لیکن تاجروں کا کہنا ہے کہ اگر نظام میں جدت لائی جائے تو یہ وقت کم کیا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر سنگاپور میں ایک جہاز پر سامان لادنے یا اتارنے میں بارہ گھنٹے لگتے ہیں۔

جدید سہولیات

"ہماری معاشی ترقی میں اس پورٹ کا بھی اہم کردار ہے۔ لیکن اس پورٹ پر دباؤ روز بروز بڑھ رہا ہے۔ اگر ہم نے اس بندرگاہ میں جدید سہولیات فراہم نہ کیں اور اس پر مزید کام نہ کیا تو بنگلہ دیش اندرونی مانگ کو پورا نہیں کر پائے گا"

احسان العالم

بنگلہ دیش میں گارمنٹ مینوفیکچررز کی تنظیم کے پہلے نائب صدر نصیرالدین چوہدری کا کہنا ہے ’اگر میں اپنا سامان ایک دن یا چند گھنٹوں میں وصول کر سکوں تو میں وقت اور رقم دونوں بچاؤں گا۔ جہاز پر سامان لادنے یا اتارنے کے وقت کو مزید کم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ’ بندرگاہ پر سہولیات میں اضافہ کیا گیا ہے لیکن اب بھی حکام کو وہاں پر جدید آلات نصب کرنے چاہیے تاکہ مقامی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔‘

حکام کا کہنا ہے کہ بندرگاہ پر سہولیات میں گزشتہ چند سال کے دوران اضافے سے بندرگاہ کی کارکردگی بہتر ہوئی ہے اور بندرگاہ پر جہاز کو گودی پر ٹھہرانے کے نظام کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کے بعد سے اب مزدوروں کے حوالے سے بھی کوئی بڑا تنازع نہیں رہا ہے۔

چٹاگانگ بندرگاہ اتھارٹی کے چیئرمین رئیر ایڈمرل نظام الدین احمد کے مطابق بندرگاہ کی کارکردگی بہتر کرنے کے لیے ایک نیا نظام آئندہ سال سے کام شروع کر دے گا۔

انہوں نے کہا کہ ٹرمینل مینجمنٹ نظام پہلے سے ہی کام شروع کر چکا ہے اور اس کے علاوہ کنٹینرز کے ایک نئے ٹرمینل کی تیاری کے حوالے سے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

چٹاگانگ بندرگاہ سے فائدہ اٹھانے کے لیے اس پر علاقے کے کئی ممالک کی نظریں لگی ہوئیں ہیں۔ بندرگاہ سٹریٹیجک نقطہ نظر سے برما، بھارت، چین، بھوٹان اور نیپال سے سے قریب ہے اور یہ ممالک چاہتے ہیں کہ اپنے تجارتی سامان کی نقل و حرکت کے لیے اس بندرگاہ کو استعمال کیا جائے۔

خشکی سے گھرے بھوٹان اور نپیال کے علاوہ ابھرتی ہوئی معاشی طاقت بھارت بھی چٹاگانگ بندرگاہ تک رسائی چاہتا ہے تاکہ اپنی مصنوعات کو سات شمال مشرقی ریاستوں تک بھیج سکے۔

ایک نئی بندرگاہ کی ضرورت

اب بنگلہ دیش نے گہرے پانی کی بندرگاہ کی ضرورت کو سمجھتے ہوئے چٹاگانگ کے جنوب میں سونادیا کے مقام پر ایک بندرگاہ تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا ہے اور چین سے بھی تعاون کے حوالے سے بات چیت کی ہے۔

چٹاگانگ بندرگاہ کو مستقبل میں کئی چیلنجز کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے ان میں سے ایک برما کی بندرگاہ ستوئی ہے۔

چٹاگانگ بندرگاہ سےتقریباً دو سو کلومیٹر دور گہرے پانی کی اس برمی بندرگاہ کو بھارت کے تعاون سے بہتر کیا جار ہا ہے اور بھارت مستقبل میں اس بندرگاہ کو بھی سات شمال مشرقی ریاستوں میں اپنی مصنوعات بھیجنے کے لیے استعمال کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔

چٹاگانگ یونیورسٹی کے پروفیسر احسان العالم کے مطابق ستوئی بندرگاہ کی تعمیر مکمل ہونے پر کاروبارہ کا ایک بڑا حصہ لازمی یہاں منتقل ہو جائے گا۔

اب بنگلہ دیش نے گہرے پانی کی بندرگاہ کی ضرورت کو سمجھتے ہوئے چٹاگانگ کے جنوب میں سونادیا کے مقام پر ایک بندرگاہ تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا ہے اور چین سے بھی تعاون کے حوالے سے بات چیت کی ہے۔

اس بندرگاہ کی تعمیر سے مستقبل میں یہ نہ صرف بنگلہ دیش بڑھتی ہوئی کاروباری ضروریات کو پورا کرنے کے قابل ہو سکے گا بلکہ چین اور بھارت بھی اس مستفید ہونگے۔

اس بندرگاہ کو مکمل ہونے میں کئی سال لگ سکتے ہیں اور اس وقت تک بنگلہ دیش کی معاشی امیدیں چٹاگانگ کی بندرگاہ سے ہی وابستہ ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔