امریکی مفرور ڈیوڈ ہیملر کے اٹھائیس سال

آخری وقت اشاعت:  پير 3 ستمبر 2012 ,‭ 18:36 GMT 23:36 PST

ڈیوڈ ہیملر نے امریکی فضائیہ کو چھوڑا اور پھر اٹھائیس سال تک امریکہ کو سب سے زیادہ مطلوب افراد کی فہرست میں رہے۔

اس دوران انہوں نے سویڈن میں جعلی شناخت حاصل کی اور شادی کرکے ایک خاندان کی بنیاد رکھی لیکن بالآخر ان کی حقیقت ظاہر ہو گئی۔

اس سلسلے کی ابتداء اس وقت ہوئی جو سرد جنگ کے عروج کا زمانہ تھا اور امریکی صدر ریگن مغربی جرمنی میں پرشنگ ٹو میزائلز کی تنصیب کر رہے تھے۔

اس دور میں اکیس سالہ ڈیوڈ ہیملر اوگسبرگ کے امریکی فضائی اڈے پر بطور زبان دان کام کر رہے تھے لیکن وہ اس کام سے کچھ زیادہ خوش نہیں تھے۔

انہوں نے اپنے اعلیٰ حکام سے اس سلسلے میں رابطہ کیا اور ان سے درخواست کی کہ ان کو ملازمت چھوڑنے کی اجازت دی جائے کیونکہ وہ اب امن کے حامی بن گئے ہیں۔

ان کے اعلیٰ حکام نے اس پر انہیں دماغی امراض کے ڈاکٹر کے پاس بھیج دیا۔

ہیملر نے کہا کہ جنگ کی حمایت چھوڑ کر ’امن پسند ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ میں ایک ذہنی مریض تھا۔ میں کچھ عرصے سے بہت برا محسوس کر رہا تھا اور راتوں کو جاگا کرتا تھا اور سو نہیں سکتا تھا، مجھے کھانے میں بھی مشکل ہوتی تھی اور میں بہت دفعہ بے ہوش بھی ہوا‘۔

امریکی فضائیہ نے ہیملر کو مستقل رخصت دینے کی بجائے ان سے ان لیا جانے والا انتہائی اہم اور خفیہ کام واپس لے کر انہیں ایک خاکروب کا کام دے دیا۔

ایک سال تک فرش صاف کر کر کے ہیملر کو احساس ہوا کہ فضائیہ انہیں اتنی آسانی سے مستقل رخصت نہیں دے گی۔

ان دنوں کے بارے میں بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’مجھے بہت برا لگا کہ میں تین سال فضائیہ میں گزار چکا تھا اور ابھی مزید تین سال باقی تھے‘۔

اس پر ہیملر نے بغیر اجازت کے رخصت پر جانے کا سوچا کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ ’میں بہت بے چارگی محسوس کر رہا تھا اور میں اس ماحول سے نکلنا چاہتا تھا‘۔

ہیملر کا ابتدائی منصوبہ کچھ عرصہ کے لیے جانے کا تھا اور ان کا خیال تھا کہ ’یہ لوگوں کی مدد حاصل کرنے کا ایک انداز تھا تاکہ وہ سمجھ سکیں کہ میں بہتر محسوس نہیں کر رہا‘۔

لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہوا۔

ہیملر نے سویڈن جانے کا فیصلہ کیا جہاں وہ پہلے بھی جا چکے تھے اور انہیں پتا تھا کہ سویڈن میں ایسے امریکی فوجی رہتے تھا جو ویتنام کی جنگ کے دوران چھوڑ کے گئے تھے۔

سویڈن پہنچنے پر انہوں نے اپنے آپ کو ایک سیاح کے بیٹے ہینس شوارز کے نام سے متعارف کروایا جو پینتیس مختلف ممالک میں رہ چکا تھا۔

سویڈن پہنچنے پر انہوں نے اپنے آپ کو ایک سیاح کے بیٹے ہینس شوارز کے نام سے متعارف کروایا جو پینتیس مختلف ممالک میں رہ چکا تھا۔

سویڈش پولیس ان کے بارے میں مشکوک تھی اور انہیں ملک بدر کرنا چاہتی تھی کیونکہ ان کے بولنے کے انداز سے پولیس نے اندازہ لگایا کہ وہ مشرقی امریکہ سے تعلق رکھتے ہیں۔

ہیملر کے مطابق ’وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ مجھے کہاں بھجوائیں اور میں نے انہیں بتایا کہ میں سوئٹزرلینڈ میں پیدا ہوا تھا‘۔

بالاخر پولیس کو ہیملر کی ابتداء کے بارے میں کافی ثبوت نہیں ملے جس پر سویڈش حکام نے ہیملر کو جیل میں رکھنے کی بجائے انہیں ملک میں رہنے کی اجازت دے دی اور ڈیڑھ سال کے بعد انہیں رہائش کا اجازت نامہ بھی مل گیا۔

اس کے باوجود ہیملر مسلسل خوف کے سائے میں رہے۔ انہیں معلوم تھا کہ ان کا اجازت نامہ جعلی شناخت پر مبنی ہے اور امریکی انہیں ڈھونڈ رہے ہوں گے اور انہیں اتنا خوف تھا کہ ’جب میں فاصلے سے بھی پولیس کے سائرن کی آواز سنتا تھا میں سمجھتا تھا کہ وہ میرے لیے آ رہے ہیں‘۔

ان کی گمشدگی پر امریکی فضائیہ نے انہیں اپنے دس سب سے زیادہ مطلوب افراد کی فہرست میں ہیملر کے بقول قاتلوں اور زانیوں کے ساتھ شامل کر دیا۔

ان کی تازہ تصویر باقاعدگی سے فضائیہ کی ویب سائٹ پر لگائی جاتی تھی اور یہ کچھ ہفتے پہلے ہی ہٹائی گئی ہے۔

پکڑے جانے سے بچنے کے لیے ہیملر نے سویڈش سیکھی اور اپنی وضع قطع میں تبدیلی بھی کی۔ انہوں نے اپنے بال کندھوں تک بڑھائے اور داڑھی رکھ لی۔

اس دوران انہوں نے کئی ملازمتیں کیں جن میں ایک بوڑھے افراد کے ادارے میں نرس کی ملازمت بھی شامل تھی۔ پھر انہوں نے یونیورسٹی میں داخلہ لے کر شماریات میں ڈگری حاصل کی۔ اب وہ سویڈن کے شہر اوپسالہ میں حکومت کی ایک ایجنسی میں ملازمت کرتے ہیں۔

ان اٹھائیس سالوں میں ہیملر نے کبھی بھی کسی پر اپنی اصل شناخت ظاہر نہیں کی نہ ہی اپنی پہلی گرل فرینڈ پر جن سے ان کی ایک بیٹی ہے نہ ہی اس خاتون پر جن سے انہوں نے کئی سال بعد شادی کی اور جن سے ان کے مزید دو بچے ہوئے۔

"میں خوفزدہ تھا کہ اگر میں نہ اپنے والدین سے رابطہ کیا تو مجھے سویڈن سے ملک بدر کر دیا جائے گا اور پھر میں اپنی بیٹی کو دوبارہ نہیں دیکھ پاؤں گا۔"

ڈیوڈ ہیملر

ہیملر اپنے والدین سے رابطے کا بھی خطرہ مول نہیں لے سکتے تھے کیونکہ ان کے مطابق ’میں خوفزدہ تھا کہ اگر میں نے اپنے والدین سے رابطہ کیا تو مجھے سویڈن سے ملک بدر کر دیا جائے گا اور پھر میں اپنی بیٹی کو دوبارہ نہیں دیکھ پاؤں گا‘۔

انہیں اپنے والدین سے رابطے میں اور اپنی بیٹی کے ساتھ رہنے کی صورت میں ایک مشکل فیصلہ کرنا پڑا اور انہوں نے اس میں اپنی بیٹی سے رابطے میں رہنے کو ترجیح دی۔

جب ان کی بڑی بیٹی جوان ہو گئی تو پھر انہیں اپنے والدین سے مزید دوری برداشت کرنا مشکل ہو گئی ’میں ان کے لیے بہت عرصے سے منتظر تھا اور وہ میرے لیے‘۔

جب انہوں نے کال کرنے کی کوشش کی ان کا رابطہ نہ ہو سکا پھر انہوں نے اپنی خالہ کو کال کی لیکن ان کے سویڈش طرز کلام نے ان کی کہانی کو مشتبہ کر دیا۔

بلاخر ہیملر کو اپنی والدہ سے بات کرنی پڑی انہیں ثابت کرنے کے لیے کہ وہ دراصل وہی ہیں جو وہ تھے۔

ان کے بھائی نے ان سے مشرقی پینسلوینیا میں گزارے گئے بچپن کے بارے میں بہت کچھ معلوم کیا اور ’یہ بھی پوچھا کہ بچپن میں جو کچھوا ہم نے رکھا تھا اس کا نام کیا تھا‘؟

ہیملر نے کہا کہ میں نے اس سوال کا جواب صحیح دیا جس پر ’میرا بھائی بہت خوش تھا اور پھر اس نے گزرے ہوئے تیس سال میں ہونے والے تمام واقعات کے بارے میں بتایا اور ہاں مجھے ان سے بات کرکے بہت اچھا محسوس ہوا‘۔

پھر اس کے بعد انہوں نے اپنے والدین سے بات کی۔

"یہ ایک بتدریج عمل تھا مین نہ اپنے آپ کو ایک ایسی مشکل میں پھنسا لیا تھا جس سے میں باہر نہیں نکل سکتا"

’میری توقع تھی کہ سب بہت غصے میں ہوں گے، میں لعن طعن کیے جانے کا حقدار تھا، لیکن سب بہت خوش تھے کہ میں واپس آ گیا تھا اور کسی نے بھی کوئی وضاحت طلب نہیں کی۔ وہ سب اس بات پر خوش تھے کہ میں زندہ تھا اور ٹھیک تھا‘۔

اس کے بعد انہیں یہ سب بات اپنی بیوی کو بتانی تھی۔

’شروع میں تو انہیں یہ بھی اندازہ نہیں تھا کہ کس کی بات پر یقین کریں۔ اس پر میں نے ان کو امریکی فضائیہ کی ویب سائٹ پر دی گئی اپنی تصویر دکھائی جو سب سے زیادہ مطلوب افراد کی فہرست میں تھی‘۔

ہیملر کے کہنا ہے کہ اس کی تھائی سویڈش بیوی نے بالکل دھوکہ دہی محسوس نہیں کی اور اس بات کو سمجھا کہ کیوں انہیں اپنے آپ کو ہینس شوارز کے طور پر ظاہر کرنا پڑا۔ وہ یہ بھی توقع کر رہی تھیں کہ جلد ہی وہ تھائی لینڈ سفر کر کے ان کے خاندان سے مل سکیں گے۔

ہیملر یقیناً اپنی بیوی کے خاندان سے مل کر خوش ہوں گے مگر فی الحال وہ امریکی حکام کی جانب سے تحقیقات کا سامنا کر رہے ہیں اور اگر وہ اس ملک میں قدم رکھتے ہیں تو انہیں تیس سال تک جیل ہو سکتی ہے۔

ہیملر اب ایک سویڈش شہری ہیں اور ان کے وکیلوں نے انہیں بتایا ہے کہ یہ ممکن نہیں کہ انہیں ملک بدر کیا جا سکے۔

شادی شدہ ہونے اور بچوں کے باوجود ہیملر اس بات پر پچھتاتے ہیں کہ انہوں نے فضائیہ کو کیوں چھوڑا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک بتدریج عمل تھا میں نے اپنے آپ کو ایک ایسی مشکل میں پھنسا لیا تھا جس سے میں باہر نہیں نکل سکتا‘۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔