مونی مسلک کے بانی سن میونگ مون انتقال کرگئے

آخری وقت اشاعت:  پير 3 ستمبر 2012 ,‭ 09:13 GMT 14:13 PST
سن مون

سن مون کو مونی مسلک کا بانی مانا جاتا ہے۔

عیسائیوں میں مونی مسلک کے بانی سن میونگ مون کا بانوے سال کی عمر میں انتقال ہو گیا ہے۔

ان کا ’یونیفیکیشن چرچ‘ ایک ہی تقریب میں ہزاروں جوڑوں کی اجتماعی شادیاں کرانے کے لیے دنیا بھر میں معروف ہے۔

مون مسلک کے پیروکاروں کو دنیا بھر میں مونیز کے نام سے جانا جاتا ہے۔ انہوں نے جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں انیس سو پچاس کی دہائی میں اپنا چرچ قائم کیا تھا۔

ان کا دعوی تھا کہ ان کے اراکین کی تعداد لاکھوں میں ہے اور بہت سارے لوگ امریکہ میں بھی ان کے معتقد ہیں لیکن ان پر لوگوں کو گمراہ کرنے اور منافع خوری کا الزام بھی لگایا جاتا رہا ہے۔

سن میونگ مون نے عالمی سطح پر ایک انتہائی کامیاب کاروباری شخصیت تھے۔ انہوں نے اخبارات نکالے، اسلحے کی فیکٹریاں قائم کیں، یونیورسٹیاں بنائیں اور خوراک کی تقسیم کا نظام قائم کیا۔

مون کا انتقال سوموار صبح سیول کے شمال مشرق میں گیپیانگ کے مقام پر واقع ان کے گھر کے قریبی ہسپتال میں ہوا۔ واضح رہے کہ ان کے چرچ کا ہیڈکوارٹر بھی اسی علاقے میں ہے۔

وہ نمونیا کے مرض کے باعث دو ہفتوں سے ہسپتال میں زیرِ علاج تھے۔

ان کے چرچ کا کہنا ہے کہ چرچ تیرہ دنوں تک ان کا سوگ منائے گا اور پھر پندرہ ستمبر کو ان کی آخری رسومات ادا کی جائیں گی اور انہیں ان کے گھر کے قریب ہی چیانسیانگ پہاڑ پر دفن کیا جائے گا۔

ان کے معاون بو پاک نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ’وہ ہمارے والد تھے اور خدا کے بھیجے ہوئے مسیحا تھے۔ ان کا جسم خدا کے ہاتھوں سے بنایا گیا تھا اس لیے ہمارا یقین تھا کہ وہ سو سال تک جیتے رہیں گے۔‘

مون کے سب سے چھوٹے بیٹے ہیونگ جن مون کو سنہ دو ہزار آٹھ میں چرچ کا سب سے سینيئر لیڈر بنایا گیا تھا۔

مون انیس سو بیس میں پیانگ گان صوبے میں پیدا ہوئے جو کہ اب شمالی کوریا میں ہے۔

اجتماعی شادیاں

مون کے مسلک کو دنیا بھر میں اجتماعی شادیوں کے لیے جانا جاتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جب وہ پندرہ سال کی عمر میں عبادت کر رہے تھے تو ان کے پاس عیسیٰ مسیح آئے اور ان سے زمین پر خدا کی حکومت قائم کرنے کے لیے کہا۔

مون کا کہنا ہے کہ انہوں نے دو مرتبہ انکار کیا لیکن تیسری بار انہوں نے اسے قبول کر لیا۔ اس کے بعد انہیں پریسبیٹرین چرچ سے خارج کر دیا گیا اور کمیونسٹوں کی جانب سے انہیں جیل بھی ہوئی جس کے بعد وہ بھاگ کر جنوبی کوریا پہنچ گئے۔

انہوں نے کوریا کی جنگ کے خاتمے کے ایک سال بعد انیس سو چون میں ایک چرچ قائم کیا جسے عام طور پر فیملی فیڈریشن چرچ کے طور پر جانا جاتا ہے۔

اس چرچ میں ہزاروں جوڑے ایک بڑی تقریب میں رشتہ ازدواج میں باندھے جاتے تھے اور ان میں سے بیشتر اپنے جوڑے کو نہیں جانتے یا پہچانتے کیونکہ ان کا رشتہ چرچ کے ذریعے طے کیا جاتا تھا۔

لیکن انیس سو ساٹھ اور ستر کی دہائیوں میں ان پر لوگوں کو گمراہ کرنے، خاندانوں کو توڑنے اور بدعنوانی کے الزامات لگائے گئے۔

انہوں نے ان الزامات کی تردید کی لیکن انیس سو براسی میں جب وہ امریکہ میں مقیم تھے، انہیں ٹیکس نہ ادا کرنے کے جرم میں گیارہ ماہ جیل کاٹنی پڑی۔

امریکہ میں انہوں نے واشنگٹن ٹائمز اخبار کی بنیاد رکھی تھی۔

سنہ دو ہزار تین انہوں نے ہالوکوسٹ کو یہ کہتے ہوئے جائز قرار دیا تھا کہ یہ یہودیوں پر عیسی مسیح کے قتل کی سزا تھی۔

وہ سنہ دو ہزار چھ میں جنوبی کوریا واپس آگئے تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔