افغانستان: خودکش حملے، پچیس افراد ہلاک

آخری وقت اشاعت:  منگل 4 ستمبر 2012 ,‭ 15:10 GMT 20:10 PST

قبائلی عمائد نے طالبان کو اس حملے کا ذمے دار ٹھہرایا ہے

حکام نے خبر دی ہے کہ ایک خودکش حملہ آور نے مشرقی افغانستان کے صوبے ننگرہار میں ایک جنازے پر حملہ کر کے کم از کم پچیس افراد کو ہلاک کر دیا جن میں ایک ضلعی گورنر کے صاحب زادے بھی شامل ہیں۔

دورافتادہ سرحدی ضلع دربابا میں سینکڑوں دیہاتی اور حکام ایک بااثر قبائلی رہنما کے جنازے میں شریک تھے۔

پولیس نے کہا ہے کہ تیس افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جن میں ضلعی گورنر بھی شامل ہیں۔

مقامی افراد نے حال ہی میں اس علاقے میں طالبان کے خلاف ایک مہم میں حصہ لیا تھا۔

ضلع کے عمائد اور مقامی خفیہ اداروں کے اہل کاروں نے طالبان کو حملے کا ذمے دار ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عسکریت پسندوں کی طرف سے اپنے خلاف مہم میں حصہ لینے کا بدلہ ہے۔

ایک عینی شاہد نے بی بی سی کو بتایا ’خودکش حملہ آور (سوگواروں کے) درمیان چل پھر رہا تھا۔‘

’اسے دربابا کے ضلعی گورنر کے بھائی نے شناخت کر لیا تھا، لیکن جوں ہی انہوں نے اسے گرفتار کرنے کی کوشش کی، حملہ آور نے اپنی خودکش جیکٹ کا دھماکہ کر دیا۔ (ہر طرف) خون اور اعضا بکھرے ہوئے تھے۔ جنازے میں بہت زیادہ لوگ تھے۔‘

"کسی نے چیخ کر کہا کہ ادھر ایک خودکش حملہ آور ہے۔ لوگوں میں بھگدڑ مچ گئی۔ جب میں ہوش میں آیا تو ہر طرف لاشیں اور خون تھا۔"

ایک اور عینی شاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ جب بم دھماکہ ہوا وہ سوگواروں کے ہجوم کے پچھلے سرے پر موجود تھا۔

انہوں نے کہا ’کسی نے چیخ کر کہا کہ ادھر ایک خودکش حملہ آور ہے۔ لوگوں میں بھگدڑ مچ گئی۔ جب میں ہوش میں آیا تو ہر طرف لاشیں اور خون تھا۔‘

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ طالبان نے اب تک اس واقعے کی ذمے داری قبول نہیں کی لیکن وہ اکثر اوقات جنازوں اور شادیوں سمیت عوامی تقریبات کے دوران سرکاری حکام اور اپنے مخالفین کو نشانہ بناتے رہتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔