ہانگ کانگ:متنازع تعلیم کے خلاف احتجاج

آخری وقت اشاعت:  منگل 4 ستمبر 2012 ,‭ 06:22 GMT 11:22 PST

پیر کو احتجاج میں آٹھ ہزار کے قریب مظاہرین نے شرکت کی

ہانگ کانگ میں متنازع تعلیمی پروگرام کے خلاف ہزاروں افراد نے سرکاری ہیڈکوارٹرز کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔

مظاہرین نے الزام لگایا کہ حکومت قومی تعلیمی پروگرام کے ذریعے طالب علموں کی دماغ شوئی’برین واشنگ‘ کر کے انہیں چین کا حمایتی بنانا چاہتی ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ چین کی طرف داری کرنے والے اس تعیلمی پروگرام کو ختم کر دیا جائے۔

حکومت کا تعلیمی پرگرام کے بارے میں موقف ہے کہ یہ قومی وقار اور شناخت کے حصول کے لیے ہے۔

متنازع تعلیمی پروگرام کے خلاف گزشتہ کئی ماہ سے احتجاج کیا جا رہا ہے لیکن گزشتہ ہفتے کے اختتام پر اس وقت تیزی آئی جب رواں ہفتے سے نیا تعلیمی سال شروع ہو رہا ہے۔

مظاہرین کی ایک قلیل تعداد نے احتجاجاً بھوک ہڑتال بھی کر رکھی ہے۔

حکومتی منصوبے کے مطابق سکول ابھی سے اس پروگرام کو شروع کر دیں جب کہ سال دو ہزار سولہ تک اس پروگرام کو لازمی قرار دے دیا جائے گا۔

والدین، اساتذہ اور طالب علموں پر مشتمل مظاہرین کا کہنا ہے کہ اس پروگرام کا مقصد چین کے کیمونسٹ حکمرانوں کی حمایت میں اضافہ کرنا ہے۔

منگل کو ہانگ کانگ کے چیف ایگزیکٹو سی وائے لیونگ نے کہا ہے کہ اس پروگرام سے دستبردار ہونا قبل از وقت ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ پروگرام سے اختلاف رائے رکھنے والے حکومت کی قائم کردہ کمیٹی میں شامل ہو کر وہاں اپنے تحفظات سے متعلق آگاہ کریں۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے ڈپٹی رہنما کیری لیم کے حوالے سے بتایا کہ اس مسئلے پر مزید بات چیت کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ’ سب سے اہم بات یہ ہے کہ عوامی خدشات، والدین، ٹیچرز اور طالب علموں کی اس پریشانی کو دور کیا جائے کہ اس پروگرام سے خود ساختہ’ برین واشنگ یا دماغ شوئی‘ نہیں ہو گی۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔