’شام سے لوگوں کی ہجرت میں اضافہ ‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 4 ستمبر 2012 ,‭ 13:26 GMT 18:26 PST

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ ماہ ایک لاکھ سے زیادہ افراد شام سے فرار ہوئے اور یہ تعداد بشارالاسد کے خلاف گزشتہ سال مارچ سے شروع ہونےوالے مظاہروں میں اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ادارے برائے مہاجرین کی ترجمان کا کہنا ہے کہ فرار ہونے والے افراد نے ہمسایہ ممالک میں پناہ لینے کی کوشش کی۔

دوسری جانب شام کے شمالی صوبے میں منگل کو پانچ افراد ہلاک ہو گئے۔

یہ واقعہ شام کے شہر حلب کے شمال مشرق میں واقع الباب پر ہونے والے ایک فضائی حملے جس میں پچیس افراد ہلاک ہوئے تھے کے ایک روز بعد پیش آیا۔

حکومت مخالف کارکنوں کے مطابق حلب میں منگل کی صبح ہونے والی بمباری میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔

واضح رہے کہ شام میں تشدد کے یہ واقعات اقوامِ متحدہ اور عرب لیگ کے نئے مشترکہ ایلچی اخضر ابراہیمی کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد ہوئے ہیں۔

اخضر ابراہیمی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اپنے مشن کی کامیابی کو تقریباً ناممکن قرار دیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اس سلسلے میں کسی بھی غلط فہمی کا شکار نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا ’مجھے معلوم ہے یہ کس قدر مشکل کام ہے، میں یہ نہیں کہ سکتا کہ یہ ناممکن ہے مگر یہ تقریباً ناممکن ہے۔‘

واضح رہے کہ شام کے شہر حلب اور دارالحکومت دمشق میں جاری لڑائی میں شدت کی وجہ سے شامی پناہ گزینوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ادارے برائے مہاجرین کے اندازے کے مطابق تقربیاً تیس ہزار افراد ترکی، عراق، لبنان اور اردن میں گزشتہ ماہ ایک ہفتے کے دوران فرار ہوئے۔

شام کے بحران کے بعد ترکی میں اسی ہزار سے زیادہ افراد پناہ لے چکےہیں اور اطلاعات کے مطابق شام کی سرحد پر ہزاروں افراد پناہ کے منتظر ہیں جبکہ اردن کا کہنا ہےکہ شام کے بحران کے بعد ایک لاکھ تراسی ہزار افراد اردن میں داخل ہو چکے ہیں۔

ادھر بین الاقوامی امدادی ایجنسی ریڈ کراس کے سربراہ پیٹر ماؤر نے شام کےصدر بشارالاسد کے ساتھ منگل کی صبح ملاقات کی۔ وہ شام کے متعدد سینئیر حکام کے ساتھ ملاقات کریں گے۔

شام کے سرکاری ٹی وی کے مطابق صدر بشار الاسد نے ریڈکراس کی شام میں امدادی سرگرمیوں کی حمایت کی۔

آئی سی آر سی کی ترجمان سسلیا گوئن نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی تنظیم شام میں خوراک کی تقسیم کے عمل کو بڑھانے پر غور کر رہی ہے۔

آئی سی آر سی کے مطابق انہوں نے گزشتہ ہفتے پانچ ہزار خوراک کے پیکٹ اور دو ہزار گدے متاثرہ افراد میں تقسیم کیے تھے تاہم ایجنسی نے یہ تسلیم کیا ہے کہ شام کے عام شہریوں کو امداد کی مزید ضرورت ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔