برما: آئینی عدالت کا پارلیمنٹ سے ٹکراؤ، تمام جج فارغ

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 7 ستمبر 2012 ,‭ 21:58 GMT 02:58 PST

برما کی پارلیمنٹ نےآئینی عدالت کی طرف سے سیاسی اصلاحات کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے الزام میں تمام نو ججوں کا مواخذہ کر کے ان کے عہدوں سے برخاست کر دیا ہے۔

برما میں جمہوریت کی بحالی کے بعد پارلیمنٹ اور عدلیہ میں سیاسی اصلاحات پر اختلافات پائے جاتے تھے اور اعلیٰ عدلیہ پر الزام لگایا جا رہا تھا کہ وہ سیاسی اصلاحات کے راستے میں روڑے اٹکا رہی ہے۔

برما کی اعلی عدلیہ اور پارلیمنٹ میں اس وقت ٹھن گئی تھی جب عدالت نے رواں برس مارچ میں یہ حکم دیا کہ پارلیمنٹ کی کمیٹیوں کے پاس حکومتی وزراء کو طلب کرنے کے اختیارات نہیں ہیں۔

برما کی عالمی شہرت یافتہ جمہوریت حامی رہنما آنگ سان سو چی کی جماعت نے بھی ججوں کے مواخدے کی حمایت کی ہے۔

بینکاک میں بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن ہیڈ نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ نے اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کا کامیاب مواخذہ کر کے آئین کے آرٹیکل تین سو چوبیس کو براہ راست چیلنج کر دیا ہے جس میں واضح طور پر لکھا ہے کہ کسی آئینی معاملے پر ججوں کا حکم حتمی ہوگا اور اسے پارلیمنٹ میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔

برما کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے خبر دی ہے کہ صدر تھان شین نے ججوں کے استعفے منظور کر لیے ہیں۔

پارلیمنٹ کے ایوان زیریں کے دو تہائی اراکین نے ججوں کے مواخذے کی حمایت کی۔ پارلیمنٹ کا ایوان بالا ایک ماہ پہلے ہی ججوں کے مواخذے کو منظور کر چکا تھا۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔