’ایم ٹی وی سے مکہ تک‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 6 ستمبر 2012 ,‭ 14:16 GMT 19:16 PST

کرسٹیان بیکر اس کتاب کی مصنف ہیں

اگر یہ کہا جائے کہ کرسٹیان بیکر مغرب میں اسلام کا ایک ایم ٹی وی ورژن پیش کر رہی ہیں تو غلط نہ ہو گا۔ ایم ٹی وی یورپ میں مغربی انداز کی مقبول عام موسیقی کا ایک سلسلہ چلا رہی ہے۔ ان کی کتاب ’فرام ایم ٹی وی ٹو مکہ‘ اگرچہ تین برس قبل شائع ہوئی تھی مگر برطانیہ کے کچھ مسلم حلقوں نے اس کتب کی تعارفی تقریب کا انعقاد گذشتہ روز برطانوی پارلیمان کے ایک کمیٹی روم میں کیا۔

کرسٹیان کی کتاب کی اس تقریب کا انعقاد لیبر پارٹی کے مقامی رہنما، مشتاق لاشاری کے تھرڈ ورلڈ سالیڈیریٹی فرنٹ نے کیا تھا۔ یاد رہے کہ یہ فرنٹ بالعموم بائیں بازو سے متعلقہ موضوعات پر تقریبات کا اہتمام کرتا ہے۔ بائیں بازو کے اکثر حلقوں اور تنظیموں کی طرح یہ فرنٹ بھی اشتراکیت کے نئے معنی تلاش کر رہا ہے۔

اس تقریب میں ’فرام ایم ٹی وی ٹو مکہ‘ کا تنقیدی جائزہ خود کرسٹیان بیکر نے پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کتاب میں انھوں نے اسلام کی وہ شکل پیش کرنے کی کوشش کی ہے جس کے ذریعے مغرب میں اس مذہب کے بارے میں پھیلے ہوئے غلط تاثرات ختم ہو سکیں۔ ان کی کتاب میں مواد کتنا ٹھوس ہے یہ ایک الگ بات ہے مگر ان کا انداز بیاں بہت ہی جاذب ہے۔

کرسٹیان بیکر جن کا اصل وطن جرمنی ہے، انیس سو پچانوے میں مسلمان ہوئی تھیں جس کے بعد، بقول ان کے، انھیں آہستہ آہستہ ایم ٹی وی کے اینکر پرسن کی پوزیشن سے برطرف کردیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ اسلام قبول کرنے کے بعد جرمنی میں انھیں کافی تعصب کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اب وہ اپنے لندن کا شہری ہونے پر فخر کرتی ہیں۔

انھوں نے اپنی کتاب کی تقریب کے دوران مغرب میں جاری ’اسلامو فوبیا‘ کا بھی ذکر کیا۔ تاہم انھوں نے کسی بھی ایسے موضوع پر بات کرنے سے گریز کیا جو متنازع ہو، مثال کے طور پر انھوں نے نہ رمشا مسیح کا ذکر کیا نہ ہی مسلمان ملکوں میں اقلیتوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کا۔ انھوں نے مشرق وسطیٰ کے موجودہ تلخ سیاسی حالات پر بھی بات کرنے سے گریز کیا۔

کرسٹیان بیکر اپنے وقت میں نوجوان نسل کی مقبول اینکر پرسن تھیں جو مغربی موسیقی کی دلدادہ تھیں۔ ان کے بقول وہ شاید اندر سے ہمیشہ اپنے آپ کو مسلمان سمجھتی تھیں مگر اس کا احساس انھیں کافی عرصے کے بعد ہوا۔ ان کے مطابق، وہ دنیا میں روحانیت کی تلاش میں نکلیں اور اسلام کے تصوف سے متاثر ہوئیں جو محبت کا بہترین درس دیتا ہے۔

"وہ شاید اندر سے ہمیشہ اپنے آپ کو مسلمان سمجھتی تھیں مگر اس کا احساس انھیں کافی عرصے کے بعد ہوا جب وہ روحانیت کی تلاش میں نکلیں اور اسلام کے تصوف سے متاثر ہوئیں جو محبت کا بہترین درس دیتا ہے۔ "

انھوں نے انکشاف کیا کہ ان کا اسلام سے پہلا تعارف انیس سو بانوے میں اس وقت ہوا جو وہ پاکستان کے اس وقت کے کرکٹ کی دنیا کے سٹار عمران خان کے ساتھ پہلی مرتبہ ڈیٹ پر گئی تھیں۔

اس کے بعد ان کے عمران کے ساتھ گہرے مراسم رہے اور وہ پاکستان بھی ان کی مہمان کے طور پر گئیں جہاں، بقول ان کے، وہاں کے غریبوں نے ان کا دل جیت لیا۔ کرسٹیان بیکر ہر ایک سے مسکرا کر ساتھ بات کرتی ہیں جو ظاہر ہے کہ ان کے ایم ٹی وی کے دنوں کی ٹریننگ کا ایک بنیادی حصہ ہے۔

اپنی ایم ٹی وی کے دنوں کی مسکراہٹ کے ساتھ جب وہ مکہ کے سفر کا ذکر کرتی ہیں تو ان کے مداح مسلمان اور خاص کر پاکستان کے مسلمان انھیں اسلام کا مغرب میں ’گڈ ول ایمبیسیڈر‘ (خیر سگالی کا سفیر) قرار دیتے ہیں۔ کرسٹیان بیکر صرف مسکراہٹیں بکھیرنا چاہتی ہیں اسی وجہ سے وہ کسی بھی متازع موضوع پر بات کرنے سے گریز کرتی ہیں۔

مصر اور سوئٹزرلینڈ سے تعلق رکھنے والے آکسفرڈ یونیورسٹی کے اسلام کے سکالر، طارق رمضان نے ان کی کتاب کو ایک پرجوش روح کا روشنی کی سمت سفر قرار دیا جبکہ ایرانی النسل امریکی سکالر سید حسین نصر نے بھی ان کی کتاب کے بارے میں کہا کہ یہ کتاب نہ صرف ان کے لیے دلچسپ ہے جو مذاہب کے درمیان مکالمہ چاہتے ہیں بلکہ یہ ان کے لیے بھی رہنما ہے جو اپنی زندگی کے روحانی معنی تلاش کرنے کے خواہاں ہیں۔

کرسٹیان بیکر حجاب نہیں پہنتی ہیں تاہم وہ حجاب پہنے والی مسلمان خواتین کے لباس کے حقِ انتخاب کی آزادی کا دفاع کرتی ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اسلام میں مخصوص قسم کے حجاب کا حکم نہیں ہے بلکہ ایک مہذب لباس پہننے کی تاکید ہے لہٰذا اگر کوئی خاتون مغرب میں رہتی ہے اور یہاں عام طور پر مہذب لباس لمبی سکرٹ بھی سمجھا جاتا ہے تو یہ بھی درست ہے۔

اسی تقریب میں جب ان سے ایک برطانوی خاتون نے سوال کیا کہ وہ مغرب میں مغربی ثقافت کے مطابق زندگی بسر کر رہی ہیں تو کیا وہ یہ دیکھ رہی ہیں کہ دوسری مسلمان خواتین جو دوسری ثقافتوں سے یہاں آئی ہوئی ہیں وہ ان کو اپنا رول ماڈل سمجھیں گی، اس پر کرسٹیان بیکر نے کہا کہ وہ ہر ایک کی آزادی کا احترام کریں گی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔