جرمنی: ختنے پر پابندی کے خلاف احتجاج

آخری وقت اشاعت:  اتوار 9 ستمبر 2012 ,‭ 08:19 GMT 13:19 PST

یورپی ملک جرمنی کے شہر برلن میں آج اتوار کو مسلم اور یہودی تنظیمیں ختنے پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کر رہی ہیں۔

رواں سال جون میں کولون کی ایک عدالت نے حکم دیا تھا کہ صرف مذہبی بنیادوں پر نوزائیدہ بچوں کی ختنہ سنگین جسمانی نقصان کے برابر ہوتی ہے۔

اس فیصلے کے بعد جرمن میڈیکل ایسوسی ایشن نے قانونی کارروائی سے بچنے کے لیے تمام ڈاکٹروں سے کہا تھا کہ وہ بچوں کی ختنہ نہیں کریں سوائے اس کے کہ جب یہ عمل طبی طور پر ضروری ہو۔

اِس سے پہلے یورپ کی یہودی اور مسلمان تنظیمیں اِس ایک معاملے پر متحد ہوگئی تھیں اور انہوں نے مشترکہ طور پر جرمنی کے قانون سازوں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ بچوں کی ختنہ کے حق کا تحفظ کریں۔

بیویریا میں ایک راہب کی جانب سے ختنے کرنے پر ان سے تفتیش کیے جانے کی اطلاع پر آج اتوار کو یہودی اور مسلمان تنظیموں نے مشترکہ طور پر احتجاجی مظاہرہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

مشترکہ احتجاجی مظاہرہ برلن میں بیبل پلیٹرز کے مقام پر کیا جائے گا، اسی جگہ پر سنہ انیس سو تینتیس میں نازیوں نے کتابیں جلائیں تھیں۔

یہودی اور مسلمان تنظیموں کی طرف سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا تھا کہ وہ اپنی اس روایت کا بھرپور دفاع کریں گے۔

جرمنی کی حکومت واضح طور پر اِس فیصلے سے پریشان ہے خاص طور پر اس طرح کے الزامات کے بعد کہ اس ملک میں جہاں ’ہولوکاسٹ‘ یا یہودیوں کا قتل عام کیا گیا اب وہاں ان کے بنیادی عقائد کو ُغیر قانونی قرار دیا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔