عراق کے مفرور نائب صدر کو موت کی سزا

آخری وقت اشاعت:  اتوار 9 ستمبر 2012 ,‭ 18:56 GMT 23:56 PST

طارق الہاشمی اس وقت ترکی میں جلا وطنی کی زندگی گذار رہے ہیں

عراق کی ایک عدالت نے مفرور نائب صدر طارق الہاشمی کو قتل کے الزام میں مجرم قرار دیتے ہوئے ان کی غیرموجودگی میں سزائے موت سنائی ہے۔

ہاشمی سنی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس سال کے اوائل میں وہ اس وقت عراق سے فرار ہو گئے تھے جب ان پر شیعوں اور سیکیورٹی فورسز کے ارکان کے خلاف ’ڈیتھ سکواڈ‘ چلانے کا الزام لگایا گیا تھا۔

وہ اس وقت ترکی میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

ان کے مقدمے نے عراقی حکومت میں اقتدار کے لیے رسہ کشی کا شکار شیعہ، سنی اور کرد دھڑوں میں سیاسی تناؤ پیدا کر دیا تھا۔

طارق الہاشمی نے ملک کے شیعہ صدر نوری المالکی پر الزام لگایا ہے کہ وہ سنی مخالفین کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ خالصتاً قانونی نوعیت کا ہے۔

استغاثہ کا موقف تھا کہ طارق الہاشمی کم از کم ایک سو پچاس افراد کی ہلاکت کے ذمہ دار تھے۔ طارق الہاشمی کی غیر موجودگی میں چلنے والے مقدمے کی سماعت کے دوران ان کے کئی سابق باڈی گارڈوں نے عدالت کو بتایا کہ انہیں نائب صدر نے کئی افراد کو قتل کرنے کے احکامات دیئے تھے۔

طارق الہاشمی کا موقف ہے کہ ان کے خلاف الزامات کے محرکات سیاسی ہیں اور شیعہ صدر نوری المالکی فرقہ واریت کو ہوا دے رہے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔