امریکہ میں نائن الیون کی یادیں

آخری وقت اشاعت:  منگل 11 ستمبر 2012 ,‭ 05:41 GMT 10:41 PST

ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے ٹکرانے والے طیارے کے انجن کے حصے، لینڈنگ گیر اور عمارت کی چھت پر لگا ہوا اینٹینا بھی نمائش کے لیے موجود ہے

ایک کمرے میں پچیس سے تیس افراد موجود ہیں، سب کی نظریں کمرے میں موجود ایک بڑی سکرین پر جمی ہوئی ہیں، جس میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر سے ایک طیارہ ٹکراتا اور لوگ سڑکوں پر دوڑتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

اس ویڈیو رپورٹ میں عام شہری اس دن کے خوفناک مناظر بیان کرتے ہیں۔ واقعے کو رپورٹ کرنے والے صحافی بتاتے ہیں کہ اس روز پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرنا کتنا مشکل ہوگیا تھا۔

پندرہ منٹ کے بعد تماشبین نم آنکھوں کے ساتھ باہر نکل آتے ہیں۔ یہ منظر اور یہ ویڈیو فلم گذشتہ کئی سالوں سے واشنگٹن میں موجود ایک میوزیم میں دکھائی جارہی ہے۔ ہر بار لوگ ایسی ہی کیفیت میں باہر نکلتے ہیں اور ان کی یادیں تازہ ہوجاتی ہیں۔

پرنٹ، آڈیو اور ویڈیو رپورٹس اور اُن واقعات کے حوالے سے تاریخی اہمیت کی حامل کئی دستاویزات یہاں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ نائن الیون کی خصوصی گیلری بھی بنائی گئی ہے، جہاں واقعے کے دوسرے روز شائع ہونے والے اخبارات اور تصاویر دیکھے جاسکتے ہیں۔

اس گیلری میں فوٹو گرافر ولیم بگارٹ کو بھی خراج تحسین پیش کیا گیا ہے۔ وہ نائن الیون کے روز اپنی بیوی اور کتے کے ساتھ چہل قدمی کر رہے تھے کہ لوگوں سے انہوں نے یہ سنا کہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے ایک طیارہ ٹکرا گیا ہے۔ وہ گھر واپس دوڑے اور اپنا کیمرا لے کر نکل پڑے۔

جب ولیم کی بیوی نے ان سے موبائل ٹیلیفون پر رابطہ کیا تو ورلڈ ٹریڈ سینٹر کا ایک ٹاور گر چکا تھا اور انہوں نے اپنی بیوی کو بتایا تھا کہ وہ امدادی عملے کے ساتھ بیس منٹ میں گھر پہنچ جائیں گے۔ یہ ان کی اپنی بیوی سے آخری گفتگو تھی اور بعد میں دوسرے ٹاور کے قریب سے ان کی لاش ملی۔

ولیم کے کیمرے سے وہ نایاب تصویریں برآمد ہوئیں جن میں ٹاور ڈھیر ہوتے ہوئے نظر آتا ہے اور لوگوں کی افرا تفری بھی دیکھی جاسکتی ہے۔ مانا جاتا ہے کہ واقعے کے آدھے گھنٹے کے اندر کسی رپورٹر یا فوٹو گرافر کی یہ پہلی یادداشت ہے۔

ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے ٹکرانے والے طیارے کے انجن کے حصے، لینڈنگ گیر اور عمارت کی چھت پر لگا ہوا اینٹینا بھی یہاں نمائش کے لیے موجود ہے۔

پینٹاگون کی عمارت سے ٹکرانے والا طیارہ جس جگہ ٹکرایا، عمارت کا وہ حصہ ابھی نیا ہی تیار ہوا تھا اور اس میں ابھی عملہ منتقل نہیں ہوا تھا

اس کے علاوہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر انیس سو بانوے میں پہلے بم حملے کے مبینہ مرکزی کردار رمزی یوسف کا ایف بی اے کو دھمکی آمیز خط اور بعد میں انہیں لگائی گئی ہھتکڑی بھی نمائش کے لیے موجود ہے۔ سنہ انیس سو پچانوے میں رمزی یوسف کو اسلام آباد سے گرفتار کیا گیا تھا۔

ٹشو پیپر پر تحریر کیے گئے خط میں رمزی یوسف لکھتے ہیں کہ آسمان مر سکتا ہے، سمندر خشک ہوسکتے ہیں، پہاڑ ہوا میں تحلیل ہوسکتے ہیں، پتھر بول سکتے ہیں مگر تمہیں بھول جاؤں یہ نہیں ہوسکتا۔

القاعدہ کے سربراہ اور ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے کی منصوبہ بندی میں مبینہ طور پر ملوث اسامہ بن لادن کا اے بی سی نیوز کو دیا گیا انٹرویو بھی یہاں دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ انٹرویو جان ملر نے افغانستان میں اس وقت لیا تھا، جب نائن الیون کا واقعہ پیش نہیں آیا تھا۔

جان ملر کی یہاں ایک بھی تحریر ہے، جس میں وہ انہوں بتایا ہے کہ انہیں اسامہ کے ساتھیوں نے مشورہ دیا تھا کہ ایسا لباس پہنوں جس سے اِن جیسے نظر آؤ۔ جس کے بعد ان کے لیے اسلام آباد سے قمیض شلوار منگوایا گیا تھا۔

نیو یارک میں واقع ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی جگہ پر کوئی میوزیم نہیں تاہم اس جگہ کو یاد دگار بنادیا گیا ہے۔ روزانہ ہزاروں لوگ اس مقام کا بغیر کسی معاوضے کے دورہ کرتے ہیں تاہم اس کے لیے کم سے کم ایک ہفتہ قبل آن لائن بکنگ کرانی پڑتی ہے۔

گراونڈ زیرو کے ساتھ میں ہی نئے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی عمارت زیر تعمیر ہے جو دو ہزار تیرہ تک مکمل ہوجائیگی۔ 104 منزلوں پر مشتمل یہ نیویارک کی بلند ترین اور مہنگی ترین عمارت ہوگی۔سابق صدر بل کلنٹن بھی اس میں اپنا دفتر قائم کرنے کے خواہش مند ہیں۔

نائن الیون کے روز دوسرا طیارہ امریکہ کے محکمہِ دفاعی پینٹاگون کی عمارت سے ٹکرایا تھا۔ جس جگہ یہ عمارت سے ٹکرایا، عمارت کا وہ حصہ ابھی نیا ہی تیار ہوا تھا اور اس میں ابھی عملہ منتقل نہیں ہوا تھا جس کی وجہ سے حملے میں زیادہ جانی نقصان نہیں ہوا۔

گراونڈ زیرو کے ساتھ میں ہی نئے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی عمارت زیر تعمیر ہے جو نیو یارک کی بلند ترین اور مہنگی ترین عمارت ہوگی

پینٹاگون کے گراؤنڈ فلور پر بھی ایک یادگار بنی ہوئی ہے، جس میں یہاں ہلاک ہونے والے اہلکاروں اور طیارے میں سوار مسافروں کی تصویریں موجود ہیں، اور ساتھ میں ملک بھر کے اسکولوں اور امریکہ کہ ہمدروں کی جانب سے بھیجے گئے پیغامات بھی نمائش کے لیے رکھے گئے ہیں۔

گیارہ ستمبر کے بعد یہاں ایک عبادت گاہ کا اضافہ کیا گیا، جس میں مسلم، عیسائی، ہندو، یہودی اور دیگر مذاہب کے لوگ عبادت کرسکتے ہیں۔

کئی ممالک پر مشتمل اتحادی افواج کے اہلکار یہاں مختلف شعبوں میں کام کرتے ہیں۔ عمارت میں عام استعمال کی ہر چیز موجود ہے، جس کے باعث یہ عمارت دنیا کی سب سے بڑی دفتری عمارت مانی جاتی ہے۔ یہاں اکتیس ہزار ملازمین ہیں جن میں فوجی اور سویلین دونوں شامل ہیں۔

نائن الیون کے بعد امریکہ کے لوگوں کے ذہن میں دہشت بیٹھ گئی ہو یا زندگی مشکل ہوگئی ہو، ایسا تاثر بظاہر تو نظر نہیں آتا۔ واشنگٹن میں بیس بال کے میچ پر جانے کا اتفاق ہوا وہاں صرف ایک جگہ واک تھرو گیٹ سے گزرنا پڑا، مگر اس صورتحال کے برعکس پاکستان میں تو ذہنوں میں دہشت موجود ہے، خیبر سے کراچی تک دہشت گردی اور دہشت گردوں کی کئی داستانیں موجود ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔