’ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے تک لائیں گے‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 12 ستمبر 2012 ,‭ 17:27 GMT 22:27 PST

صدر اوباما کا کہنا تھا کہ وہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کو انصاف کے کٹہرے تک لائیں گے

امریکی صدر باراک اوباما نے لیبیا میں امریکی سفیر کرسٹوفر سٹیونز کی ہلاکت کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے تک پہنچانے کا وعدہ کیا ہے۔

بدھ کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بن غازی میں امریکی قونصل خانے پر حملہ امریکی اور لیبیا کی حکومت کے درمیان روابط نہیں توڑے گا۔

امریکی قونصل خانے پر مسلح افراد کے اس حملے میں امریکی سفیر کرسٹوفر سٹیونز ہلاک ہوگئے تھے۔

مسلح افراد نے پیغمبرِ اسلام کے خلاف فلم پر احتجاج کے دوران قونصل خانے کی عمارت پر دھاوا بول دیا تھا اور اس حملے میں تین مزید امریکی اہلکار بھی ہلاک ہوئے تھے۔

صدر اوباما نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ امریکہ تمام مذاہب کا احترام کرتا ہے اور ہم دوسروں کے مذاہب کی بے حرمتی کی تمام کوششوں کو مسترد کرتے ہیں مگر اس طرح کے بے معنی تشدد کا کوئی جواز نہیں بنتا۔

انہوں نے کہا کہ یہ بات خاص طور پر افسوس ناک ہے کہ کرسٹوفر سٹیونز کی ہلاکت بن غازی میں ہوئی کیونکہ یہ ان شہروں میں سے ہے جنہیں بچانے میں ان کا کردار تھا۔

صدر اوباما نے بتایا کہ لیبیا کی سکیورٹی فورسز نے امریکی سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ مل کر حملہ آوروں کا مقابلہ کیا، لیبیا کے عام شہریوں نے دیگر امریکی اہلکاروں کو حفاظتی مقامات پر پہنچایا اور لیبیا کے شہریوں نے ہی سفیر کرسٹوفر سٹیونز کی لاش کو اٹھا کر ہسپتال پہنچایا۔

لیبیا کی نگراں حکومت کے رہنماء محمد مغارف نے امریکہ سے ان ہلاکتوں پر معافی مانگی ہے اور اس حملہ کو ’بزدلانہ اور مجرمانہ‘ قرار دیا ہے۔

لیبیا کے دارالحکومت طرابلس سے بی بی سی کی رعنا جواد کا کہنا ہے کہ اطلاعات کے مطابق اس حملے میں انصار الشریعہ نامی گروہ ملوث تھا تاہم گروہ نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

مصر میں مظاہرین نے امریکی سفارتخانے کی دیوار پھلانگتے ہوئے امریکی جھنڈا اتار کر پھینک دیا

اس سے پہلے لیبیا کے ایک اہلکار نے کہا ہے کہ کرسٹوفر سٹیونز حملے کے بعد دم گھٹنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے ہیں۔

امریکی صدر نے دنیا بھر میں امریکی سفارتی دفاتر پر سکیورٹی انتظامات کو سخت کرنے کا حکم بھی جاری کیا۔

منگل کو پیش آنے والے اس واقعے میں مسلح افراد نے امریکی قونصل خانے کی عمارت کو آگ لگا دی تھی۔ تاہم جس وقت آگ لگائی گئی عمارت کے اندر کوئی موجود نہیں تھا۔

واضح رہے کہ امریکی قونصلیٹ پر حملہ ایک امریکی فلم کے خلاف احتجاج کے دوران کیا گیا تھا جس میں مبینہ طور پر پیغمبرِ اسلام کی توہین کی گئی تھی۔

یہ فلم ایک امریکی پادری ٹیری جونز نے چند مصری تارکینِ وطن کے تعاون سے بنائی ہے۔

فلم کی مخالفت میں لیبیا کے علاوہ مصر میں بھی مظاہرے ہوئے ہیں۔ مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں بھی مظاہرین نے امریکی سفارتخانے کی دیوار پھلانگتے ہوئے امریکی جھنڈا اتار کر پھینک دیا تھا۔

مصر میں ہزاروں مظاہرین نے آزادیِ اظہار کے بہانے پیغمبرِ اسلام کی توہین کیے جانے کی سخت مذمت کی ہے۔

اس سے پہلے امریکی سفارت خانے نے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ کچھ افراد کی طرف سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش کی مذمت کرتے ہیں۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ ’ہم ان تمام اقدامات کو مسترد کرتے ہیں جس میں آزادیِ اظہار کے نام پر دوسروں کی مذہبی عقیدوں کو ٹھیس پہنچائی جاتی ہے۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔