یمن میں امریکی سفارتخانے پر حملہ

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 13 ستمبر 2012 ,‭ 12:27 GMT 17:27 PST
یمن میں احتجاج کی فوٹو

مظاہرین سفارتخانے کی چار دیواری میں داخل ہو گئے تھے

پیغمبرِِ اسلام کے بارے میں امریکہ میں بننے والی توہین آمیز فلم سے ناراض یمن کے بعض شہریوں نے دارالحکومت صنعاء میں امریکی سفارتخانے کی چار دیواری میں گھس کر ہنگامہ کیا ہے۔

مظاہرین کو روکنے کے لیے پولیس نے ہوا میں گولی چلائی لیکن انہیں سفارتخانے کے کمپاؤنڈ میں داخل ہونے سے نہیں روک سکی جہاں مظاہرین نے گاڑیوں کو نذر آتش کیا۔

بعد میں سکیورٹی اہلکاروں نے مظاہرین کو سفارتخانے سے باہر نکال کر عمارت کا محاصرہ کر لیا ہے۔

ایک عینی شاہد نے خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا ہے ’سفارتخانے کے کمپاؤنڈ کے اندر آگ کے شعلے دکھائی دے رہے ہیں اور سکیورٹی اہلکار ہوا میں گولی چلا رہے ہیں۔ مظاہرین بھاگ رہے ہیں اور پھر واپس آ رہے ہیں۔‘

اطلاعات کے مطابق احتجاج کرنے والوں کو کمپاؤنڈ سے باہر نکال دیا گیا ہے لیکن وہ سفارتخانے کے باہر کھڑے ہوکر احتجاج کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق کئی مظاہرین اور سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ رائٹرز نے سفارتخانے کا ایک بیان شائع کیا ہے جس کے مطابق اس احتجاج میں کوئی زخمی نہیں ہوا ہے۔

اس طرح کی اطلاعات ہیں کہ سفارتخانے کے اہلکاروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

"پاکستان کی قومی اسمبلی نے جمعرات کو متفقہ طور پر منظور کردہ ایک قرارداد میں اِس فلم کی مذمت کی ہے اور کہا کہ اس سے مختلف مذاہب کے لوگوں میں نفرتیں بڑھیں گی۔"

واضح رہے کہ اس فلم پر مصر کے دارلحکومت قائرہ میں بھی گزشتہ تین دنوں سے مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔

مصر کے صدر نے عوام سے پُرامن رہنے کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ پیغمبرِ اسلام کے خلاف کسی بھی طرح کی توہین کو مسترد کردو۔

واضح رہے کہ جمعرات کو لیبیا کے شہر بن غازی میں امریکی سفارتخانے پر حملے میں لیبیا میں امریکی سفیر ہلاک ہو گئے تھے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس بات پر غور کیا جا رہا ہے کہ کیا یہ حملہ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا ہے؟ اس حملے میں لیبیا میں امریکی سفیر کے علاوہ قونصل خانے کے تین اہلکار بھی ہلاک ہوگئے تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ منگل کو ہونے والا یہ حملہ منظم اور پیشہ ورانہ انداز میں کیا گیا۔

واشنگٹن میں امریکی محمکہِ دفاع کے مطابق امریکی مرینز (کمانڈوز) کی انسدادِ دہشت گردی کی ایک ٹیم کو لیبیا میں بھیجا جا رہا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ امریکی بحریہ کے دو جنگی جہازوں کو بھی لیبیا کے ساحل کے قریب احتیاطی تدبیر کے طور پر بھیجا جا رہا ہے۔

اس حملے میں جہادی تنظیموں سے منسلک گروہوں کے ملوث ہونے کی اطلاعات بھی ہیں۔

واضح رہے کہ لیبیا اور مصر میں احتجاج کے بعد پوری دنیا میں واقع امریکی سفارتخانوں پر سکیورٹی کی انتظامات سخت کردیے گئے ہیں۔

امریکی صدر باراک اوباما نے کہا ہے کہ وہ اس بات کا عہد کرتے ہیں کہ لیبیا کی حکومت کی مدد سے وہ ان افراد کے خلاف کارروائی ضرور کریں گے جنہوں نے بن غازی میں واقع امریکی سفارتخانے پر حملہ کیا ہے۔

لیبیا کی حکومت نے بھی اس حملے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ اس معاملے کی تفتیش کرائے گی۔

ادھر پاکستان کی قومی اسمبلی نے جمعرات کو متفقہ طور پر منظور کردہ ایک قرارداد میں اِس فلم کی مذمت کی ہے اور کہا کہ اس سے مختلف مذاہب کے لوگوں میں نفرتیں بڑھیں گی۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ امریکہ میں نائن الیون جیسے ظالمانہ واقعات کی یاد سے اس طرح کے واقعات کو جوڑنے سے نفرت کو ہوا ملے گی اور مختلف عقائد والے معاشروں میں دشمنی بڑھے گی۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ اِس طرح کی فلم سے پاکستانی عوام اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو دھچکہ پہنچا ہے۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ پاکستان بین المذاہب آہنگی کا بڑا داعی رہا ہے اور ہر قسم کے انتہا پنسدی کے رجحانات کا مخالف ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔