’چالیس ارب ڈالر کے بانڈ خریدنے کا فیصلہ‘

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 14 ستمبر 2012 ,‭ 09:37 GMT 14:37 PST
فیڈرل رزرو کے چیئرمین بین برنانکے

اس برس کے صداراتی انتخابات میں معیشت ایک اہم انتخابی مسئلہ ہے

امریکہ کے مرکزی بینک فیڈرل ریزرو نے اعلان کیا ہے کہ وہ ملک کی معیشت کی شرح ترقی کی رفتار تیز کرنے کے لیے ہر مہینے اضافی چالیس ارب ڈالر کے قرض پر دیے گئے بانڈ خریدے گا۔

اس اعلان سے امریکی اور ایشیائی بازاروں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔

واضح رہے کہ امریکہ میں اس برس ہونے والے صدارتی انتخابات میں ملک کی معیشت ایک بڑا انتخابی مسئلہ ہو گا۔

امریکہ میں کئی برسوں سے سود کی شرح تقریباً نہ ہونے کے برابر رہی ہے اور جمعرات کو مرکزی بینک نے اس کو 25۔0 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

امریکہ کی مرکزی بینک نے ملک کی معیشت میں بہتری لانے کے لیے معیشت میں اضافی سرمایہ کاری کا طریقہ اختیار کیا ہے جس کے تحت اس نے دو مرحلوں میں دو اعشاریہ تین کھرب ڈالر کے بانڈ خریدنے ہیں۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کی مرکزی بینک نے جو قدم اٹھایا ہے وہ تب تک عمل میں لایا جا سکتا ہے جب تک ملک میں ملازمت، قرضوں اور کساد بازاری کا مسئلہ حل نہیں ہوتا ہے۔

حالانکہ کیپیٹل اکنامکس نامی ادارے کے ممبر اور اقتصادی ماہر پال ایشورتھ کا کہنا ہے’مجھے اس بات پر شک ہے کہ یہ نیا قدم امریکی معیشت کو صحیح راہ پر لانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ یہ صرف وقت کی بات ہے کہ کب یہ قیاس آرائیاں شروع ہو جائیں کہ فیڈرل ریزرو ان بانڈز کو خریدنے کی رقم کب بڑھا کر چالیس ارب ڈالر سے زیادہ کرتا ہے۔‘

امریکہ میں ڈیموکریٹ اور ریپبلکن جماعت کے رہنما حکومت کی قرض لینے کی حد میں اضافے کے معاہدے پر متفق ہو گئے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکہ میں بےروزگاری کی شرح 8.1 فیصد ہے۔ سنہ 2009 میں اکتوبر کے مہینے میں یہ شرح دس فیصد پہنچ گئی تھی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔