کھمئیر روژ کی سابق وزیر ایئنگ تھیرت رہا

آخری وقت اشاعت:  اتوار 16 ستمبر 2012 ,‭ 13:10 GMT 18:10 PST
ایئنگ تھیرت

ایئنگ تھیرت کو کھمئیر روژ کے دور کی سب سے طاقتور خاتون سیاست دان مانا جاتا ہے

کمبوڈیا میں سنہ انیس سو ستّر کے عشرے میں ہونے والے قتلِ عام کی تحقیقات کرنے والے ایک خصوصی ٹریبونل نے کھمئیر روژ کی سابق وزیر لینگ تھیرت کی مشروط رہائی کا حکم دے دیا ہے۔

اسی سالہ ایئنگ تھیرت کی رہائی کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ وہ مقدمے کا سامنا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی ہیں کیونکہ انہیں الزائمر کی بیماری ہے۔

رہائی کے لیے ان پر شرائط عائد کی گئی ہیں کہ وہ اپنے گھر کا پتہ رجسٹر کرانے کے علاوہ اپنا پاسپورٹ اور شناختی کارڈ عدالت میں جمع کروائیں گی۔

ایئنگ تھیرت کو جمعہ کو رہا کردیا جائے گا۔ عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ان کی بیماری کی نوعیت کی وجہ سے نہیں لگتا ہے کہ مستقبل میں ان کے خلاف مقدمہ چلایا جاسکے گا۔

عدالت نے ان کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ اس لیے جمع کرایا ہے تاکہ وہ ملک سے باہر نہ جاسکیں اور ان کے دور کے تین اور اعلیٰ کھمئیر روژ اہلکاروں پر مقدمے کی کارروائی میں خلل نہ پڑے۔

عدالت نے ان سے اس معاہدے پر بھی دستخط کرائے ہیں کہ وہ عدالت کے بلانے پر اس کے سامنے پیش ہوں گی۔

ایئنگ تھیرت کھمئیر روژ کے دور اقتدار میں سماجی امور کی وزیر تھیں۔ کھمئیر روژ پر تقریباً بیس لاکھ افراد کی ہلاکت کا الزام ہے۔

ایک تخمینے کے مطابق سنہ انیس سو پچھتر سے اناسی کے دوران کمبوڈیا میں تقریباً بیس لاکھ لوگوں، یعنی ملک کی تقریباً ایک تہائي آبادی، کو یا تو قتل کیا گيا، یا پھر زیادہ کام لینے اور خوراک نہ ملنے کی وجہ سے ان کی موت واقع ہوگئی تھی۔

واضح رہے کہ گزشتہ نومبر کو کمبوڈیا میں سنہ انیس سو ستّر کے عشرے میں ہوئے قتل عام کے معاملے میں کھمئیر روژ کے تین سرکردہ رہنماؤں کے خلاف عدالتی کارروائی کا آغاز ہوا تھا۔

بیس لاکھ ہلاکتیں

ایک تخمینے کے مطابق انیس سو پچھتر سے اناسی کے دوران کمبوڈیا میں تقریباً بیس لاکھ لوگوں، یعنی ملک کی تقریباً ایک تہائي آبادی، کو یا تو قتل کیا گيا، یا پھر زیادہ کام لینے اور خوراک نہ ملنے کی وجہ سے ان کی موت واقع ہوگئی تھی۔

جن رہنماؤں کے خلاف مقدمہ شروع ہوا تھا ان میں نون چی، کیو سمپون اور ایئنگ ساری شامل ہیں جو ماؤ نواز حکومت کے سربراہ پول پوٹ کے قریبی ساتھی رہے ہیں۔

کمیونسٹ حکومت کے سربراہ پول پوٹ کا سنہ انیس سو اٹھانوے میں انتقال ہوگیا تھا۔

تینوں سابق رہنماؤں کو، جن کی عمریں اسّی برس کے لگ بھگ ہیں، قتل عام اور انسانیت کے خلاف جرائم کرنے جیسے سنگین الزامات کا سامنا ہے۔

استغاثہ نے عدالت کو بتایا ہے کہ ان رہنماؤں کے دور اقتدار میں کمبوڈیا کے لوگوں کو طرح طرح کی اذیتوں سے گزرنا پڑا تھا۔

کھمئیر روژ نے کمبوڈیا میں سخت گیر کمیونسٹ نظام قائم کرنے کی کوشش میں عوام پر زبردست مظالم ڈھائے تھے۔ کھمئیر روژ کی حکومت سنہ انیس سو نواسی میں ختم ہوگئی تھی لیکن ان سرکردہ رہنماؤں کے خلاف جرائم کے مقدمات اور قانونی چارہ جوئی میں کافی وقت لگ گيا۔

کمبوڈیا نے نوے کے عشرے میں اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے قتل عام کے معاملے میں ٹریبونل کے قیام کے لیے کہا تھا۔ بالآخر سنہ دو ہزار چھ میں ایک مشترکہ ٹریبونل قائم کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔