آسمان سے گرے غیرقانونی مسافر

آخری وقت اشاعت:  اتوار 16 ستمبر 2012 ,‭ 14:14 GMT 19:14 PST

مغربی لندن کی پولیس نے کہا ہے کہ پورٹ مین ایونیو کی سڑک پر ایک لاش ملی ہے جو ایک ایسے آدمی کی ہے جو جہاز سے گرا ہے۔ یہ بات کتنی عام ہے؟

کسی نے اس شخص کو آسمان سے گرتے ہوئے نہیں دیکھا۔

کچھ پڑوسیوں نے بتایا کہ انھوں نے کسی چیز کے گرنے کی آواز ضرور سنی تھی، بھد سے گرنے کی آواز، لیکن مغربی لندن کے متمول رہائشی علاقے کی اس خاموش سڑک پر کسی نے اسے گرتے ہوئے نہیں دیکھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس ہلاکت کو فی الحال ’وجوہات نامعلوم‘ کے کھاتے میں ڈالا جا رہا ہے۔ تاہم میڈیا میں آنے والی رپورٹیں بھی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ یہ شخص سولہ کلومیٹر دور ہیتھرو ایئرپورٹ پر اترنے والی ایک پرواز کی لینڈنگ گیئر میں چھپا ہوا تھا۔

اس علاقے کے اناسی سالہ باسی جان ٹیلر کہتے ہیں کہ میں نے دھم کی آواز سنی تھی۔ ’میرا خیال ہے کہ وہ پہلے ہی فوت ہو چکا تھا۔ لگتا ہے کہ بے چارہ بہت مجبور ہو گا۔‘

ہیتھرو ایئرپورٹ پہنچنے والی پروازوں میں یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔

دو ہزار ایک میں ایک اکیس سالہ پاکستانی محمد ایاز کی لاش لندن کے علاقے رچمنڈ کے ایک ڈیپارٹمنٹل سٹور کے پارکنگ لاٹ میں پائی گئی تھی۔ اس سے چار سال قبل ایک اور چھپا ہوا مسافر اسی سٹور کے قریب گرا تھا۔

جہازوں میں چھپ کر جانے والے کچھ مسافر ہیتھرو ہوائی اڈے پر بھی گرے ہیں۔ چوبیس اگست کو پورٹ مین کے واقعے سے سولہ روز پہلے ایک بوئنگ 747 جہاز جنوبی افریقہ کے شہر کیپ ٹاؤن سے دس ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے جب ہیتھرو پہنچا تو اس کے لینڈنگ گیئر میں سے ایک لاش نیچے گر پڑی۔

اسی طرح دو ہزار دو میں گھانا سے آنے والی ایک پرواز میں سے دو لڑکوں کی لاشیں ملیں جن کی عمریں بارہ سال کے لگ بھگ تھیں۔

امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کے ڈاکٹر سٹیون ویرونو نے انیس سو سینتالیس سے اب تک دنیا بھر میں چھیانوے ایسے افراد تلاش کیے ہیں جنھوں نے جہاز کے پہیوں میں چھپ کر سفر کرنے کی کوشش کی تھی۔

جان کو لاحق خطرات

  • جب پہیے جہاز کے اندر واپس جاتے ہیں تو مسافر کچل کر مارے جا سکتے ہیں
  • جب پہیوں والا دروازہ کھلتا ہے تو زمین پر گر سکتے ہیں
  • آکسیجن کی کمی
  • شدید سردی
  • پالے کی مار (فراسٹ بائیٹ)
  • جسم میں تیزاب کی مقدار بڑھ جانا جس سے بے ہوشی طاری ہو سکتی ہے

یہ واقعات پچاسی فلائٹوں پر پیش آئے۔ ویرونو کا خیال ہے کہ پورٹ مین میں ہلاک ہونے والا شخص بھی چھپ کر سفر کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

ان میں سے تین چوتھائی افراد اپنی منزل پر زندہ نہیں پہنچتے۔ اس کی وجہ سمجھنا مشکل نہیں ہے۔

جہاز کے انڈرکیرج (جہاں پہیے ہوتے ہیں) میں نہ تو حرارت کا بندوبست ہوتا ہے، نہ ہی آکسیجن ہوتی ہے اور نہ ہی دباؤ کا نظام ہوتا ہے۔ جتنی بلندی پر جہاز پرواز کرتا ہے اس میں یہ سب چیزیں زندگی کے لیے اشد ضروری ہوتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اٹھارہ ہزار فٹ کی بلندی پر انسان آکسیجن کی کمی کا شکار ہو جاتا ہے، جس سے کمزوری، رعشہ، ذہن خالی خالی ہونا اور بصارت میں خلل جیسے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ بائیس ہزار فٹ پر چھپے ہوئے مسافر کے خون میں آکسیجن کی کمی کی وجہ سے بے ہوشی کا غلبہ طاری ہونے لگتا ہے۔ تینتیس ہزار فٹ پر پھیپھڑوں کو کام کرنے کے لیے مصنوعی دباؤ کی ضرورت پڑتی ہے۔

اسی دوران درجۂ حرارت منفی تریسٹھ درجے تک گر جاتا ہے جس سے مسافر کے بدن کا درجۂ حرارت خطرناک حد تک کم ہو جاتا ہے۔

اگر یہ چھپے مسافر جہاز کے پہیوں میں کچلے جانے سے اور ان شدید حالات میں بچ بھی جائیں تو بے ہوش ضرور ہو جاتے ہیں۔ جب زمین سے چند ہزار فٹ اوپر جہاز کا دروازہ کھلتا ہے تو یہ اپنے آپ کو سنبھال نہیں پاتے اور جہاز سے گر پڑتے ہیں۔

فلائیٹ انٹرنیشنل رسالے کے ہوابازی کے ماہرڈیوڈ لیئر ماؤنٹ کہتے ہیں ’یہ لوگ یا تو کچلے جانے سے یا سردی سے جم کر ہلاک ہو جاتے ہیں۔ اس کی وجہ ناواقفیت ہے۔ اگر انھیں معلوم ہو کہ ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے تو وہ کبھی بھی ایسا نہ کریں۔‘

چند چھپے مسافر بچ بھی جاتے ہیں۔ عام طور پر یہ کم فاصلے کی پروازوں میں سفر کرتے ہیں، اور عقل سے زیادہ قسمت پر بھروسا کرتے ہیں۔

دو ہزار دو میں رومانیہ سے تعلق رکھنے والا ایک بیس سالہ نوجوان جہاز کے پہیوں میں چھپ کر ویانا سے ہیتھرو پہنچنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ لیکن اس کے بچ نکلنے کی وجہ یہ تھی کہ اس نے جس پرائیوٹ جیٹ میں سفر کیا تھا وہ خراب موسم کی بنا پر پچیس ہزار فٹ سے نیچے اڑا تھا۔

سنہ دو ہزار میں تاہیتی کا ایک شخص چار ہزار میل کا سفر طے کر کے زندہ سلامت لاس اینجلس پہنچنے میں کامیاب ہو گیا۔ دو سال بعد ایک اور شخص کیوبا سے کینیڈا پہنچا۔ یہ سب شدید سردی کے مارے ہوئے تھے۔

سوال اٹھتا ہے کہ جب زندہ بچنے کے امکانات اتنے کم ہوتے ہیں تو پھر یہ لوگ اتنا بڑا خطرہ کیوں مول لیتے ہیں؟

چند چھپے مسافر ناعاقبت اندیشانہ مہم جوئی کی سنسنی کی خاطر ایسا کرتے ہیں۔ دو ہزار دس میں ایک سولہ سالہ امریکی لڑکا ڈیلونتے ٹسڈیل بوسٹن آنے والی ایک پرواز کے پہیوں والے کمپارٹمنٹ میں پایا گیا۔ وہ بظاہر ایک امریکی ہوائی کمپنی کے جہاز میں ریاست نارتھ کیرولائنا سے چڑھا تھا۔

لیکن جہاز کے پہیوں میں چھپ کر سفر کرنے والوں کی اکثریت کا تعلق ترقی پذیر ممالک سے ہوتا ہے جو یورپ یا شمالی امریکہ پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔

یہ تقریباً ہمیشہ مرد ہوتے ہیں۔ باوجود اس کے کہ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے اعداد و شمار کے مطابق دو ہزار پانچ میں دنیا بھر کے تارکینِ وطن میں سے نصف کے قریب خواتین تھیں۔

سفر آسان نہیں!

  • انیس سو سینتالیس سے اب تک 96 ایسے کیس سامنے آئے ہیں
  • ان 96 افراد نے 85 فلائیٹوں پر سفر کی کوشش کی
  • 73 مارے گئے، 23 بچ کر منزل پر پہنچ گئے
  • دو ہزار بارہ میں اب تک دو ایسی اموات
  • اگست میں کیپ ٹاؤن سے ہیتھرو آنے والا ایک مسافر
  • ستمبر میں افریقہ کے کسی ایئرپورٹ سے ہیتھرو آنے والا مسافر
  • کم عمر ترین مسافر کی عمر نو سال
  • ایک مسافر انتالیس ہزار فٹ کی بلندی پر بھی زندہ بچنے میں کامیاب ہو گیا

چاہے اپنے ملک میں ظلم و ستم سے فرار ہونا ہو یا مغرب میں معاشی خوشحالی کی تلاش، سفر کا یہ طریقہ انتہائی درجے کی مجبوری کی نمائندگی کرتا ہے۔

پناہ گزینوں کے ادارے ریفیوجی کونسل کی چیف آپریٹنگ آفیسر ڈیبرا ہیرس کہتی ہیں ’ہمیں نہیں معلوم کہ ان لوگوں کے کیا حالات ہوتے ہیں۔ لیکن پناہ گزینوں کے ساتھ اپنے کام کے نتیجے میں ہمیں معلوم ہوا ہے کہ لوگ اپنے ملکوں سے فرار ہونے کے لیے انتہائی اقدام کر گزرنے سے دریغ نہیں کرتے۔ جنگ زدہ ملکوں میں بعض اوقات لوگوں کو اپنا گھر بار چھوڑنے کا بہت کم وقت ملتا ہے، اکثر ان کے پاس کوئی روپیہ پیسہ یا سامان نہیں ہوتا، اس لیے یہ لوگ سب کچھ کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔‘

مشکلیں جتنی بڑی کیوں نہ ہوں، یہ سمجھنا پھر بھی مشکل ہے کہ کوئی تارکِ وطن ایسا سفر اختیار کرنے کی کوشش کرے گا جس میں اس کی موت تقریباً یقینی ہو۔ اس کے مقابلے پر یہ تسلیم کرنا آسان ہے کہ ان چھپے مسافروں کو اس کا اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ وہ کیا کرنے جا رہے ہیں۔

مغربی ممالک میں اس طرح کی ہلاکتوں کے لیے عوامی آگہی کی مہم چلائی جا سکتی ہے۔ لیکن ترقی پذیر ممالک میں یہ سوچنا بھی مشکل ہے کہ کوئی تنظیم کہاں سے آغاز کرے گی۔

نتیجتاً یہ افراد حکام کے لیے بہت بڑے دردِ سر کی حیثیت رکھتے ہیں۔

جہاں یہ شخص گرا تھا اس گلی میں لوگوں نے پھول رکھنا شروع کر دیے ہیں۔

برطانوی ہوابازی کے ادارے کے سابق سربراہ نارمن شینکس کہتے ہیں کہ جہاز کے پہیوں میں چھپے مسافروں کی وجہ سے جہاز کے دوسرے مسافروں اور زمین پر موجود لوگوں کو زیادہ خطرہ نہیں ہے۔

’بہت سے ملکوں میں جہاز کے آس پاس کے علاقے کا اس طرح کنٹرول نہیں کیا جاتا جتنا ہمارے ہاں۔ برطانیہ کے مقابلے پر کچھ ملکوں میں جہاز تک رسائی زیادہ آسان ہوتی ہے۔ اس کو روکنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ بقیہ دنیا بھی اپنے طریقۂ کار میں سختی لائے۔‘

جہاں تک پورٹ مین میں گرنے والے شخص کا تعلق ہے تو پولیس ابھی تک اس کے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کا انتظار کر رہی ہے۔

سکاٹ لینڈ یارڈ اب تک اس کی شناخت معلوم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ لیکن اس کے لباس سے انگولا کے کرنسی نوٹ برآمد ہوئے ہیں، جس سے اس کی قومیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

جس جگہ وہ گرا تھا وہاں لوگوں نے گلدستے رکھنا شروع کر دیے ہیں، جہاں ہر چند منٹ بعد سر کے اوپر سے ایک جہاز گزرتا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔