شام میں آٹھ سو سالہ ناکام فوجی دخل اندازیاں

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 15 ستمبر 2012 ,‭ 14:36 GMT 19:36 PST

شام میں بیرونی مداخلت سے قبل اس خطے کی تاریخ کا مطالعہ نہایت مفید ثابت ہو گا۔

دنیا بھر کے وہ سفارت کار جو شام میں ہونے والے تشدد کو ختم کرنے کے لیے کوشاں ہیں اگر تھوڑا وقت نکال کر تاریخ کے اُس غیر معمولی دورانیے کا مطالعہ کر لیں جس میں شام بیرونی قوتوں کی توجہ اور دخل اندازی کا مرکز رہا ہے تو ان کو اپنے کام میں زیادہ مدد مل سکتی ہے۔

تاریخ کا مسئلہ یہ ہے کہ جو ہم نہیں جانتے وہ اس سے کہیں زیادہ ہوتا ہے جو ہم جانتے ہیں۔

مثال کے طور پر ہمیں کبھی معلوم نہیں ہو سکے گا کہ برطانوی کرنل واکر جرمنی کے شہنشاہ فریڈرک باربروسا کے بارے میں جانتے تھے۔

ان دونوں صاحبان میں کوئی قدرِمشترک نہیں تھی۔ دونوں کے درمیان آٹھ صدیوں کا زمانی اور کئی سو میل کا مکانی فاصلہ حائل تھا۔ لیکن اس کے باوجود دونوں مشرقِ وسطیٰ میں فوجی مداخلت کی ترغیبات و خطرات کی یاددہانی کرواتے ہیں۔

میں نے اسرائیلی شہر عکا میں کرنل واکر کا نام ایک کتبے پر کندہ دیکھا جس میں ان کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا گیا تھا۔

کتبے میں ان کی زندگی کے بارے کچھ زیادہ روشنی نہیں ڈالی گئی سوائے اس کے کہ وہ اڑسٹھ برس کی عمر میں بطور پیادہ فوج کے افسر کے کچھ عمر رسیدہ تھے۔

ان کا انتقال برطانیہ اور آسٹروہنگیریائی سلطنت کی ایک مشترکہ مہم کے دوران ہوا، جس کا مقصد شام کو عرب تسلط سے نکال کردوبارہ سلطنتِ عثمانیہ کے حوالے کرنا تھا۔

میں جو بات کہنے جا رہا ہوں اگر اس سے کرنل واکر کے لواحقین کے جذبات کو ٹھیس پہنچے تو اس کے پیشگی معذرت، لیکن مجھے نہیں معلوم کہ کرنل کی سفارتی حکمتِ عملی کی اہمیت کیا تھی۔

اسی طرح جب سنہ گیارہ سو نوے میں فریڈرک باربروسا اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے تو اس وقت ان کی عمر کرنل واکر جتنی ہی تھی۔

شہنشاہ فریڈرک تیسری صلیبی جنگ کے دوران دریا میں ڈوب کر ہلاک ہو گئے۔

وہ ارضِ مقدس پر ایک صلیبی جنگ کی قیادت کر رہے تھے۔ اس دوران انھیں موجودہ ترکی اور شام سے گزرنا تھا (اس کے مقابلے پر رچرڈ شیردل نے آسان راستا اختیار کرتے ہوئے بحیرۂ روم کو کشتی کے ذریعے عبور کرنے پر ترجیح دی)۔

چلتے چلتے ایک ایسا مقام آیا جہاں باربروسا کو پل کے ذریعے دریا پار کرنا تھا۔ پل پر فوجیوں کی لمبی قطاریں لگی ہوئی تھیں، اس لیے بے صبر بادشاہ نے تیر کر دریا کو عبور کرنے کا فیصلہ کیا۔

تاہم اگر ریشِ سرخ (باربروسا کا لاطینی زبان میں مطلب ’سرخ داڑھی‘ بنتا ہے) دریا میں کودنے سے پہلے اپنی بھاری بھرکم زرہ بکتر اتار دیتے تو شاید صلیبی جنگوں کی تاریخ مختلف ہوتی۔

قصہ مختصر یہ کہ غرقاب شہنشاہ کی لاش کو دریا سے نکال کر اس امید میں سرکہ لگا کر محفوظ کر لیا گیا کہ انھیں حتمی طور پر مقدس شہر یروشلم میں دفنایا جائے گا۔

لیکن ہوا کیا کہ شاہی حکیموں نے انسانی بدن کو محفوظ رکھنے میں سرکے کی صلاحیتوں پر کچھ زیادہ ہی بھروسا کر لیا تھا۔ مجبوری کے عالم میں شہنشاہ کو یروشلم پہنچنے کا انتظار کیے بغیر ہی ترکی اور شام کی سرحد پر انطاکیہ میں سپردِ خاک کرنا پڑا۔

جب شاہ فریڈرک اور کرنل واکر اپنی اپنی زندگیوں کے ڈراموں میں آخری کردار ادا کر رہے تھے، انطاکیہ اور عکا پہلے ہی سے قدیم تہذیبوں کے حامل شہر تھے۔

دنیا کے فوجی، سفارتی، تجارتی اور مذہبی تانے بانے اسی علاقے سے، خاص طور پر شام سے پھوٹتے تھے۔ اس وجہ سے یہ علاقہ نہ صرف پرکشش بلکہ خطرناک بھی تھا۔

آج کے زمانے میں جب کوئی ملک خودساختہ زخموں سے چور چور ہو تو بین الاقوامی برادری کے لیے ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھنا مشکل ہو جاتا ہے۔

مغربی حکومتیں لیبیا کی مثال دینے پر مائل ہوتی ہیں جہاں ان کی مداخلت اور نیٹو کی فضائی مدد سے کرنل قذافی کا تختہ الٹا گیا تھا۔

بظاہر ایسا لگتا ہے جیسے شام میں بھی ایسی ہی حکمتِ عملی کامیاب رہے گی، لیکن یہ خام خیالی ہے۔

لیبیا میں فردِ واحد کی حکومت تھی جو سیاہ و سفید کا مالک تھا، اس لیے وہاں تبدیلی لانا آسان تھا۔ فوجی اعتبار سے بھی یہ سارا عمل سستا اور صاف ستھرا تھا۔

اس کے مقابلے پر شام کثیر مذہبی ملک ہے جہاں مداخلت کے نتائج غیرمتوقع ہو سکتے ہیں۔

اس کی فضائی دفاعی صلاحیت بہت بہتر ہے اور فوج پیشہ ورانہ استعداد سے عاری نہیں۔

حکومت مخالف شامی دستوں میں بنیاد پرست عناصر کی شمولیت سے معاملات اور زیادہ پیچیدہ ہو گئے ہیں۔

ایران کے پاس بشرالاسد کی امداد کرنے کی مذہبی وجوہات موجود ہیں کیوں کہ اسد علوی ہیں جو شیعوں کا ایک فرقہ ہے۔ ساتھ ہی ساتھ ایران شام کو لبنان میں اپنے حمایت یافتہ حزب اللہ کے درمیان پل کے طور پر بھی دیکھتا ہے۔

ایران کی پہلی ترجیح یہ ہو گی کہ اسد کو مسندِ اقتدار پر فائز رکھا جائے۔ دوسری ممکنہ ترجیح یہ ہو سکتی ہے کہ شام میں ایسے ہی پرتشدد غیریقینی حالات پیدا کر دیے جائیں جیسے پڑوسی ملک لبنان میں خانہ جنگی کے دوران کیے گئے تھے۔

اسی طرح روس اور چین اقوامِ متحدہ میں ویٹو استعمال کر کے مغربی ممالک کی طرف سے شام کی فضاؤں میں ’نو فلائی زون‘ قائم کرنے کی کوششوں میں رخنہ ڈال سکتے ہیں۔

روس کی دلچسپی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ روس کی طرح شام میں بھی قدامت پرست عیسائی فرقہ موجود ہے، اس کے علاوہ وہاں روس کا بحری اڈا ہے اور کچھ معاشی مفادات بھی۔

لیکن روس کا اصل محرک امریکہ کو یہ نکتہ سجھانا بھی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں تبدیلی کا عمل مغربی سرپرستی میں نہیں ہو رہا۔

امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے اور بھی دردِ سر ہیں۔

ان کا پسندیدہ حل تو یہ ہے کہ بشارالاسد کی برخاستگی کے بعد وہاں قومی افہام و تفہیم کا عمل شروع ہو جائے۔ لیکن اگر فریقین میں نفرت اور تشدد کی گہری خلیج حائل ہو جائے تو پھر کیا ہو گا، مغرب یہ نہیں جانتا۔

پھر یہ بھی ہے کہ انتشار کا شکار باغی تحریک کے اندر بنیاد پرست خارجی جنگجوؤں کی شمولیت کی وجہ سے مغرب کے لیے فاتح کا انتخاب مشکل تر ہو گیا ہے۔

یہ سوچ کر عقل چکرا جاتی ہے کہ شام میں کیا کیا کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے۔

شام وہ ملک ہے جو پہلی جنگِ عظیم میں سلطنتِ عثمانیہ کے ملبے سے برآمد ہوا تھا۔ اب اگر یہ ملک باہم متحارب فرقہ وارانہ دھڑوں میں بٹ گیا تو پھر وہ ملک کتنے مستحکم نظر آئیں گے جو مشرقِ وسطیٰ میں اسی دوران وجود میں آئے تھے۔

سو یہ پہلی بار نہیں ہے کہ صاحبانِ تقدیر اس گنجلک علاقے میں فوجی مداخلت کرنے یا نہ کرنے کے سوال پر سر پکڑ کر بیٹھے ہیں۔

کرنل واکر اور شہنشاہ فریڈرک کی آٹھ صدیوں پر محیط کہانیاں ہمیں سبق سکھاتی ہیں کہ یہ کام کس قدر دشوار اور پرخطر ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔