لیبیا: بن غازی حملے کے پچاس ملزمان گرفتار

آخری وقت اشاعت:  پير 17 ستمبر 2012 ,‭ 01:09 GMT 06:09 PST

اس حملے میں لیبیا میں امریکی سفیر کے علاوہ قونصل خانے کے تین اہلکار بھی ہلاک ہوگئے تھے

لیبیا کی عبوری پارلیمان کے صدر کا کہنا ہے کہ گذشتہ ہفتے بن غازی میں امریکی قونصل خانے پر ہونے والے حملے کی تحقیقات کے سلسلے میں پچیاس افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

محمد مغاریف نے امریکی چینل سی بی ایس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ان کے خیال میں کوئی شک نہیں کہ یہ حملہ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا۔

بظاہر یہ بات اقوام متحدہ میں امریکہ کی نمائندہ سوزن رائس کے دیے گئے بیان کے منافی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ سواہد سے لگتا ہے کہ یہ حملہ احتجاجی مظاہرے کے بڑھنے کی وجہ سے ہوا۔

اس حملے میں لیبیا میں امریکی سفیر کے علاوہ قونصل خانے کے تین اہلکار بھی ہلاک ہوگئے تھے۔

مسلح افراد نے پیغمبرِ اسلام کے خلاف فلم پر احتجاج کے دوران قونصل خانے کی عمارت پر دھاوا بول دیا تھا۔ اس حملے میں لیبیا کے دس شہریوں کے ہلاک ہونے کی اطلاع بھی ملی تھی۔

اس توہین آمیز فلم کے خلاف اسلامی ممالک میں بالعموم اور مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کے ممالک میں بالخصوص پر تشدد مظاہرے پھوٹ پڑے ہیں۔

سنیچر کے روز فلم بنانے والے مشتبہ شخص نکولا باسولی نکولا کو امریکی حکام نے حراست میں لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تھی۔ ماضی میں نکولا کو دوہزار دس میں ایک بینک سے دھوکہ دہی کے الزام میں ملزم ٹھہرایا گیا تھا اور انہیں اس شرط پر رہا کر دیا گیا تھا کہ وہ انٹرنیٹ تک رسائی نہیں حاصل کرینگے اور انٹرنیٹ پر فرضی ناموں کا استعمال بھی نہیں کریں گے۔

محمد مغاریف نے اپنے انٹرویو میں بتایا کہ ان حملوں کے سلسلے میں گرفتار ہونے چند ملزمان غیر ملکی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ملزمان القائدہ اور اس سے تعلق رکھنے والی تنظیموں سے منسلک ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’ہمیں یہ نہیں معلوم کہ ان کے ارادے کیا تھے۔ وہ لیبیا میں دنیا کے مختلف خطوں سے آئے ہیں جن میں مالی اور الجزائر شامل ہیں۔‘

ادھر سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں امریکی سفارتخانے کے باہر بھی مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئی جن میں پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا۔

تیونس میں مظاہرین کی جانب سے امریکی سفارتخانے کی حدود میں داخل ہونے کے بعد سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں دو افراد ہلاک ہوئے۔ مصر اور لبنان میں ہونے والے پر تشدد مظاہروں میں بھی ایک ایک شخص ہلاک ہوا۔

سنیچر کو پاکستان کے مختلف شہروں میں بھی اس متنازع فلم کے خلاف ریلیاں نکالی گئیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔