اردن: الیکٹرونک میڈیا پر قانون کی منظوری

آخری وقت اشاعت:  بدھ 19 ستمبر 2012 ,‭ 01:23 GMT 06:23 PST

ہیومن رائٹس واچ کا کہنا تھا کہ ’پریس اینڈ پبلیکیشنز‘ کے قانون میں ترمیم سے پیدا ہونے والے خدشات کی وجہ اس قانون میں دی گئی ’الیکٹرونک پنلیکیشنز‘ کی مبہم تعریف ہے

اردن کے شاہ عبداللہ نے ذرائع ابلاغ کے لیے ایک نئے قانون کی منظوری دی ہے جس کے بارے میں ناقدین کا کہنا ہے کہ وہ انٹرنیٹ پر آزادیِ اظہارِ رائے پر منفی اثر ڈالے گا۔

قانون کے مطابق اردن میں تمام الیکٹرونک اشاعتوں کو حکومت سے نشریات کے لیے لائسنس لینا پڑے گا۔

قانون کے تحت حکام کے پاس اس بات کا بھی اختیار ہوگا کہ وہ مختلف ویب سائٹوں کو بند کر سکیں اور ان کے مالکان کو ان پر آنے والے بیانات کا ذمہ دار ٹھرا سکیں۔

انسانی حقوق کی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ نے حکومت پر ایسے قوانین کو مخالفین کے خلاف استعمال کرنے کا الزام لگایا ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ میڈیا میں کام کرنے والوں اور عام شہریوں کو اکثر بیانات کی وجہ سے مجرمانہ سزائیں سنائی جاتی ہیں۔

اپریل میں ریاستی سیکورٹی کی عدالت کے استغاثہ نے ’جراسہ نیوز‘ کی ویب سائٹ کے ایڈیٹر کو اس وقت حراست میں لے لیا تھا جب انہوں نے بادشاہ کی جانب سے مبینہ طور پر ایک بدعنوانی کے معاملے میں مداخلت کرنے کی خبر شائع کی۔

ان کے مقدمے کی سماعت ابھی شروع نہیں ہوئی۔

ہیومن رائٹس واچ کا کہنا تھا کہ ’پریس اینڈ پبلیکیشنز‘ کے قانون میں ترمیم سے پیدا ہونے والے خدشات کی وجہ اس قانون میں دی گئی ’الیکٹرونک پنلیکیشنز‘ کی مبہم تعریف ہے۔

قانون میں ہر وہ چیز الیکٹرونک پبلیکیشنز کے زمرے میں آتی ہے جو کہ ’انٹرنیٹ پر کوئی الیکٹرونک سائٹ ہو جس کا کوئی تعین شدہ ایڈرس ہو اور وہ پبلیکیشن سروسز مہیا کرتی ہو‘۔

اس قانون کے مطابق ریاست کے اندرونی یا بیرونی معاملات پر کوئی بھی خبر، تفتیشی مضامین یا بیانات شائع کرنے والی تمام ویب سائٹوں کو وزارتِ تجارت میں اندراج کروانا ہوگا اور وزارتِ ثقافت سے لائسنس لینا ہوگا۔

وزارتِ ثقافت کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ کسی بھی ویب سائٹ کو بند کر دیں جو کہ لائسنس کے بغیر کام کر رہی ہو یا پھر وہ قوانین کی خلاف ورزی کر ہی ہو۔ حکام بغیر عدالتی حکم نامہ یا کوئی وجہ بتائے بغیر ایسی ویب سائٹ کے دفاتر کو بھی بند کرنے کے مجاز ہوں گے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔