’شام کے مسئلے کا کوئی عسکری حل نہیں‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 20 ستمبر 2012 ,‭ 00:12 GMT 05:12 PST

’آزادیِ اظہارِ رائے کو اشتعال انگیزی یا دوسروں کے عقائد کی بے حرمتی کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا‘ ۔ بان کی مون

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کا کہنا ہے شام کے مسئلے کا کوئی عسکری حل نہیں ہے تاہم ایسا لگتا ہے کہ حکومت اور باغی دونوں ہی ایک دوسرے کو فوجی طریقے سے شکست دینے پر اڑے ہوئے ہیں۔

بدھ کی رات نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے پہلے ایک نیوز کانفرنس میں شام کے معاملے پر بات کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ یہ ایک انتہائی افسوس ناک بات ہے کہ اس مسئلے کا کوئی حل نظر نہیں آ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’اس وقت اہم یہ ہے کہ جاری کشیدگی کو دونوں جانب سے روکا جائے، جس کسی ملک کا بھی اثر و رسوخ ہے، وہ فسادات ختم کروائے اور جو کوئی بھی انہیں اسلحہ فراہم کر رہے ہیں وہ ایسا کرنے سے رُک جائیں تاکہ سیاسی بات چیت کا آغاز ہو سکے۔‘

دوسری جانب دمشق اور حلب میں شدید لڑائی کی اطلاعات ہیں۔ باغیوں کا دعویٰ ہے کہ حکومتی فورسز نے کہا جا رہا ہے کہ حجار اسواد کے رہائشیوں کے حالات انتہائی برے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شام کے حل کے لیے سفارتی کوششیں جاری رہنی چاہیئیں۔

ایران کے بارے میں بات کرتے ہوئے بان کی مون کا کہنا تھا کہ حالیہ سوال یہ ہے کہ عالمی برادری اس معاملے سے کس طرح نمٹے۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی کونسل اس معاملے پر کئی قراردادیں لا چکی ہے اور آئی اے ای اے نے کئی رپورٹیں اور تجاویز دے رکھی ہیں۔

"شام میں حکومت اور باغی دونوں ہی ایک دوسرے کو فوجی طریقے سے شکست دینے کے لیے پر عزم ہیں"

بان کی مون

ان کا کہنا تھا کہ اگر ایرانی جوہری پروگرام پرامن ہے تو ان کو عالمی برادری کا اعتماد اس بات کو ثابت کر کے حاصل کرنا ہوگا۔

اس سے پہلے پیر کے روز ایران کے جوہری پروگرام کے سربراہ فریدون عباسی دوانی نے کہا تھا کہ ممنکہ طور پر عالمی ایٹمی توانائی کی نگراں ایجنسی (آئی اے ای اے) میں ’دہشتگرد‘ گھس گئے ہیں۔

انہوں نے ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ گذشتہ ماہ آئی اے ای اے کے انسپکٹروں کے دورے سے قبل ہی یورینیم کی افزودگی کرنے والے ایک سینٹر کی دھماکوں کے ذریعے بجلی کی رسد منقطع کر دی گئی تھی۔

انہوں نے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے پر بد انتظامی اور چند ممالک کے زیرِ اثر ہونے کے الزامات بھی عائد کیے تھے۔

جون کے ماہ میں ایران اور چھ بڑی طاقتوں (امریکہ، برطانیہ، فرانس، چین، روس اور جرمنی) کے درمیان مذاکرات کسی پیش رفت کے بغیر ختم ہو گئے تھے۔

امریکی وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن نے اس موقع پر کہا تھا کہ ایران کی جانب سے دی گئی تجاویز ناقابلِ قبول تھیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔