یو ایس ایڈ کو روس سے نکلنے کا حکم

آخری وقت اشاعت:  بدھ 19 ستمبر 2012 ,‭ 13:27 GMT 18:27 PST

امریکی ترقیاتی ادارہ یو ایس ایڈ تقریباً سو ملکوں میں کام کرتا ہے۔

روس میں حکام نے امریکی ترقیاتی ادارے یو ایس ایڈ کو ملک کی سیاست میں دخل اندازی کے الزام پر روس سے نکلنے کا حکم دیا ہے جس کے بعد یو ایس ایڈ نے وہاں پر اپنے ترقیاتی کام روک دیے ہیں ۔

یو ایس ایڈ نے سویت یونین کے خاتمے کے بعد روس میں کام شروع کیا اور دو دہائیوں میں جمہوریت کی فروغ اور ترقیاتی کاموں پر تقریباً تین بلین ڈالر رقم خرچ کی ہے۔ اب حکام نے یو ایس ایڈ کو یکم اکتوبر تک کام ختم کرنے کی مہلت دی ہے۔

یو ایس ایڈ کو روسی حکام کی طرف سے ملک چھوڑنے کا حکم جمہوریت پسند گروہوں کے خلاف کارروائیوں کا بعد ملا۔

روس کے دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق یو ایس ایڈ کو ملک سے نکلنے کا فیصلہ بنیادی طور پر اس لیے کیا گیا کہ اس ادارے کے لوگ ملک کے سیاسی عمل کو اپنے دیے گئے چندوں (گرانٹ) سے اثر انداز کرنے کی کوششیں کرتے رہے۔

ماسکو میں بی بی سی کے نمائندے سٹیو روزنبرگ کا کہنا ہے کہ روسی حکام غیر سرکاری اداروں پر شک کرتی ہیں کہ یہ ادارے بیرونی چندوں کی مدد سے ملک میں سیاسی انتشار پھیلا رہی ہیں۔

اس سے پہلے سال کے اواخر میں روسی صدر ولادی میر پوتین نے الزام لگایا تھا کہ ان کے دوبارہ منتخب ہونے کے خلاف احتجاج امریکہ کے چندوں سے چلنے والے غیر سرکاری اداروں نے کی تھی۔

یو ایس ایڈ کے چلے جانے سے متاثر ہونے والے گروپوں میں گولاس بھی ہے جس نے پچھلے سال پارلیمانی انتخابات میں فراڈ کا انکشاف کا تھا جس کی وجہ سے حکام کے خلاف بڑے جلسے ہوئے۔گولاس کو یو ایس ایڈ کی طرف سے بھی چندہ ملتا تھا۔

روس میں یو ایس ایڈ کے دفتر بند کرانے کا اعلان کرتے ہوئے امریکہ کے سٹیٹ ڈیپارٹمٹ کے ترجمان وکٹوریا نلنڈ نے کہا کہ ’ہم روس میں جمہوریت، انسانی حقوق اور ایک فعال معاشرے کی فروغ کے لیے کام کرنے کو تیار ہیں اور روس کے غیر سرکاری اداروں کے ساتھ تعلقات کو قائم رکھنے کے خواہاں ہیں۔ ‘

انہوں نے روسی حکام کے فیصلے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا لیکن اتنا کہا کہ شاید اب ان کو اس مدد کی مزید ضرورت نہیں۔

یو ایس ایڈ نے اس سال روس میں ترقیاتی کاموں پر پچاس ملین ڈالر خرچ کرنے تھے۔

روس میں انسانی حقوق کے کارکنوں نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

گولاس کی سربراہ لیلیاشیبانوا نے اس فیصلے کو ایک بری خبر قرار یتے ہوئے کہا کہ انتخابات کی نگرانی کے لیے چندے لینے کے دوسرے ذرائع بہت کم ہیں۔

انھوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ بہت سے دوسرے غیر سرکاری ادارے بھی روس سے چلے جائیں گے۔

ماسکو ہیلیسنکی گروپ کی سربراہ لائوڈیملا الیکسیوا نے کہا کہ اس فیصلے سے روس کے عوام متاثر ہوں گے نہ کہ امریکہ۔

یہ واقعہ دو ہزار سات میں ماسکو میں برٹش کونسل کے خلاف ہونے والی کارروائی سے ملتا جلتا ہے۔

لندن میں الیگزینڈر لیٹوینکو کو زہر کھلا کر مارنے پر روس اور برطانیہ کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کے بعد روسی حکام نے برٹش کونسل کے دفاتر بند کرانے کے احکامات جاری کیےتھے۔ اب کونسل کا روس میں ماسکو میں ایک دفتر ہے۔

.

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔