شام: پٹرول پمپ پر حملہ، تیس افراد ہلاک

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 21 ستمبر 2012 ,‭ 21:06 GMT 02:06 PST

شام میں حکومت مخالف کارکنوں کے مطابق ایک شامی جنگی جہاز نے ملک کے شمال مشرق میں واقع ایک پٹرول پمپ پر حملے کر کے کم سے کم تیس افراد کو ہلاک کر دیا۔

شامی باغیوں کے ایک گروپ کے مطابق حملے کے وقت پٹرول پمپ پر موجود افراد پٹرول اور ڈیزل کے حصول کے لیے قطار میں کھڑے تھے۔

انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کی جانے والی غیر تصدیق شدہ فوٹیج میں متعدد گاڑیاں جلی ہوئی دکھائی دے رہی تھیں اور باغیوں کے ایک گروپ کے مطابق ستر زخمی افراد کو قریبی ہسپتال میں لے جایا گیا۔

شام میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک کارکن نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا دھماکے کے وقت پٹرول پمپ پر کافی رش تھا۔

شام میں حکومت مخالف ارکان کا کہنا ہے کہ پٹرول پمپ پر جہاز کے ذریعے دھماکہ خیز مواد گرایا گیا جس کے نتیجے میں بڑا دھماکہ ہوا۔

واضح رہے کہ شام میں غیر ملکی صحافیوں پر عائد پابندی کی وجہ سے ان حملوں میں ہونے والی ہلاکتوں کی تصدیق کرنا اکثر ناممکن ہوتا ہے۔

اس سے پہلے شامی فوج کا ایک ہیلی کاپٹر دارالحکومت دمشق کے قریب گر کر تباہ ہو گیا تھا۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق سیرین آبزرویٹری گروپ نے دعویٰ کیا تھا کہ باغیوں نے دارالحکومت دمشق کے قریب ایک ہیلی کاپٹر مار گرایا تاہم آزادانہ ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں ہو سکی تھی۔

گزشتہ برس شروع ہونے والی حکومت مخالف تحریک کو کچلنے کے لیے حکومت نے اپنی لڑائی میں ہیلی کاپٹر اور جنگی جہازوں کے استعمال میں اضافہ کیا ہے۔

شام میں جمعرات کو دارالحکومت دمشق اور شمالی شہر حلب میں ایک مرتبہ پھر شدید لڑائی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق شامی فوج نے کم سے کم ایک سو دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔