لیبیا: ’حکومتی انتظام سے باہر مسلح گروہوں کو ختم کیا جائے گا‘

آخری وقت اشاعت:  اتوار 23 ستمبر 2012 ,‭ 06:25 GMT 11:25 PST

معمر قذافی کی حکومت کو گرانے میں ان مسلح گروہوں کا کلیدی کردار تھا

لیبیا کے عبوری حکمران محمد مغاریف نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں تمام غیر قانونی مسلح گروہوں کو ختم کر دیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومتی انتظام سے باہر تمام کیمپوں اور مسلح گروہوں کو تحلیل کر دیا جائے گا اور کسی بغیر اجازت کسی بھی چوکی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اسی ماہ امریکہ میں توہین آمیز فلم کے خلاف بن غازی میں امریکی قونصل خانے کے باہر ہونے والے مظاہرے پر تشدد ہوگئے جن کے بعد اطلاعات ہیں کہ دہشتگرد گروہ نے موقع کا فائدہ اٹھایا۔ اس واقعے میں امریکی سفیر سمیت تین امریکی اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

سفیر کی ہلاکت کے بعد بن غازی کے شہریوں نے مسلح گرہوں کو شہر سے نکال دیا تھا۔

لیبیا میں گذشتہ سال کرنل قدافی کی حکومت کا تختہ الٹے کے لیے بننے والے مسلح گروہ اور ملیشیا اب ایک اہم طاقت بن گئے ہیں۔

دارالحکومت طرابلس سے بی بی سی کی نامہ نگار رعنا جواد کا کہنا ہے کہ اب تک حکومت نے حفاظتی اقدامات کے لیے انہی مسلح گروہوں کی مدد لی ہے اور اب یہ دیکھنا ہوگا کہ حکومت ان کو توڑنے کا انتہائی مشکل کام کیسے کر پاتی ہے۔

اس سے پہلے عوام اور ملٹری پولیس کے پرتشدد احتجاج کے بعد ایک طاقت ور مسلح گروہ نے اعلان کیا ہے کہ گروہ کو توڑا جا رہا ہے۔

لیبیا کے شہر بن غازی میں جمعہ کو کم از کم تیس ہزار افراد نے مسلح گروہ انصار الشریعہ کے مرکز پر دھاوا بول دیا تھا۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ مسلح گروہوں کا خاتمہ کیا جائے اور قانون کی حکمران کو بحال کیا جائے۔

مسلح گروہوں کے خلاف عوامی احتجاج

لیبیا کے شہر بن غازی میں جمعہ کو کم از کم تیس ہزار افراد نے مسلح گروہ انصار الشریعہ کے مرکز پر دھاوا بول دیا تھا۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ مسلح گروہوں کا خاتمہ کیا جائے اور قانون کی حکمران کو بحال کیا جائے

مسلح گروہ ابو سلم بریگیڈ کے رہنماوں نے اعلان کیا ہے کہ بن غازی کے قریب درنہ میں واقع اڈوں کو تحلیل کیا جا رہا ہے۔

اس کے علاوہ اطلاعات ہیں کہ بن غازی میں امریکی قونصلیٹ پر حملوں میں مبینہ طور پر ملوث گروہ انصار الشریعہ بھی اپنے اڈے ختم کر رہا ہے۔

لیبیا کےخبر رساں ادارے’لانا‘نے ابو سلیم بریگیڈ کے کمانڈر کے حوالے سے بتایا ہے کہ مسلح گروہ کو تحلیل کیا جا رہا ہے اور درنہ میں عمارتوں کو خالی کیا جا رہا ہے۔

اب سلیم کے جنگجو ابو الشیلالی کے مطابق ایک کیمپ میں مسلح گروہ کے جنگجوؤں کی مظاہرین اور فوجی اہلکاروں سے معمولی نوعیت کی جھڑپ ہوئی تھی لیکن جنگجوؤں نے طے کیا کہ ہجوم کے خلاف طاقت کا استعمال نہیں کیا جائے گا۔

’ہم اپنے بھائیوں اور عزیزوں کو ہلاک نہیں کرنا چاہتے‘۔

مظاہرے میں شامل ایک پروفیسر سراج شنیب نے برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ مسلح گرو مقامی سکیورٹی وزارتِ داخلہ کو سپرد کرنے پر رضامند ہو گئے ہیں۔

’درنہ میں مسلح گروہ نے دیکھا کہ بن غازی میں کیا ہوا اور انہوں نے طے کیا کہ اپنے بھائیوں کو نہیں مارے گے اور گروہ کو ختم کر دیا۔‘

واضح رہے کہ مسلح گروہوں کے خلاف جارحیت میں گیارہ ستمبر کو بن غازی میں امریکی قونصلیٹ پر حملے کے بعد اضافہ ہوا ہے جس میں امریکی سفیر سمیت چار امریکی ہلا ک ہو گئے تھے۔

اس حملے میں ملوث ہونے کا الزام مبینہ طور پر ایک اسلام پسند گروہ انصار الشریعہ پر لگایا جاتا ہے۔

اعلیٰ لیبیائی حکام کا کہنا ہے کہ وہ احتجاج کا خیر مقدم کرتے ہیں مگر لوگوں کو غیر قانونی مسلح گروہوں اور ایماندار باغی بریگیڈز میں فرق کرنا چاہیے جنہوں نے پچھلے سال کی بغاوت کے دوران شہر پر قبضے میں مدد کی تھی۔

جمعہ کے روز بن غازی میں ہونے والا احتجاجی مظاہرہ معمر قذافی کے دور حکومت کے اختتام کے بعد ہونے والا سب سے بڑا مظاہرہ تھا۔

معمر قذافی کی حکومت کو گرانے میں ان مسلح گروہوں کا کلیدی کردار تھا اور یہ گروہ لیبیا کی فوج کی بہ نسبت تعداد میں زیادہ اور بہتر ہتھیاروں سے لیس ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔