ایران سے کوئی کاروباری روابط نہیں: سیمنز

آخری وقت اشاعت:  اتوار 23 ستمبر 2012 ,‭ 11:37 GMT 16:37 PST

سیمنز کا کہنا ہے کہ ان کا ایرانی جوہری پروگرام سے کوئی تعلق نہیں

جرمنی کی انجنئیرنگ کمپنی سیمنز نے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ کمپنی نے ایران کے جوہری پروگرام کے لیے بیچے گئے آلات میں دھماکہ خیر مواد چھپا رکھا تھا۔

سیمنز کا کہنا ہے کہ ان کے ایران کے ساتھ کسی قسم کے کاروباری روابط نہیں۔

اس سے پہلے ایران کے ایک رکنِ پارلیمان کا کہنا تھا کہ یہ مواد پھٹنے سے پہلے ہی دریافت کر لیا گیا۔

ایران پر اقوام متحدہ کی جانب پابندیاں عائد ہیں۔ رکنِ پارلیمان نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ آلات کہاں سے لائے گئے ہیں۔

اس ہفتے کے آغاز میں ایران کے جوہری پروگرام کے سربراہ فریدون عباسی دوانی نے کہا تھا کہ ممنکہ طور پر عالمی ایٹمی توانائی کی نگراں ایجنسی آئی اے ای اے میں ’دہشتگرد‘ گھس گئے ہیں۔

انہوں نے ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ گذشتہ ماہ آئی اے ای اے کے انسپکٹروں کے دورے سے قبل ہی یورینیم کی افزودگی کرنے والے ایک سینٹر کی دھماکوں کے ذریعے بجلی کی رسد منقطع کر دی گئی تھی۔

"چھ سے سات ماہ میں ایران کے پاس جوہری بم بنانے کے لیے نوے فیصد صلاحیت آ جائے گی۔"

اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہ

انہوں نے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے پر بد انتظامی اور چند ممالک کے زیرِ اثر ہونے کے الزامات بھی عائد کیے تھے۔

انہوں نے یہ بیان اس وقت دیا تھا جب اس سے پہلے یورینیم کی افزودگی روکنے سے انکار کے بعد آئی اے ای اے نے ایران پر شدید تنقید کی تھی۔

آئی اے ای اے کے بورڈ نے اس انکار کے بعد ایک قرارداد کے ذریعے ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں خدشات ظاہر کیے تھے۔

ایران کا اصرار ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے جبکہ امریکہ، اسرائیل اور دیگر ممالک کا کہنا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنا رہا ہے۔

ادھر اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ چھ سے سات ماہ میں ایران کے پاس جوہری بم بنانے کے لیے نوے فیصد صلاحیت آ جائے گی۔

امریکی ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کو روکنے کے لیے صرف ایک حل یہ ہے کہ امریکہ اس کی جوہری سرگرمیوں کے بارے میں ایک مخصوص سطح کا تعین کرے اور اس کی خلاف ورزی کی صورت میں عسکری مداخلت کی جائے۔

ایران کا کہنا ہے کہ اگر اس کی جوہری تنصیبات پر حملہ کیا گیا تو وہ جوابی کارروائی کرئے گا۔

آلات میں دھماکہ خیز مواد

سنیچر کو پارلیمان کی سلامتی کمیٹی کے سربراہ علاؤ الدین بروجردی کا کہنا تھا کہ ان آلات نے نصب ہونے کے بعد کام شروع کرتے ہی پھٹنا تھا جس کا مقصد ہمارے نظام کو نقصان پہنچانا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’لیکن ہمارے ماہرین کی ذہانت نے دشمن کی سازش کو ناکام بنا دیا‘۔

اس سے پہلے بھی ایرانی جوہری تنصیبات کے نظام میں ’سٹکس نیٹ‘ نامی ایک کمپیوٹر وائرس پایا گیا تھا

انہوں نےدعویٰ کیا ہے کہ یہ دھماکہ خیز مواد سیمنز کمپنی کی ایک فیکٹری میں آلات میں چھپایا گیا اور اس کی ذمہ دار کمپنی ہے۔

تاہم کمپنی کا کہنا ہے کہ ان کی جوہری شعبہ کے سنہ انیس سو انہتر میں آنے والے انقلاب کے بعد سے ایران کے ساتھکوئی کاروباری تعلقات نہیں۔

جون انیس سو دس میں بھی ایرانی جوہری تنصیبات میں ’سٹکس نیٹ‘ نامی ایک کمپیوٹر وائرس پایا گیا تھا۔ اس وائرس کا تعلق بھی سیمنز کمپنی کے ایک آلہ سے تھا تاہم کمپنی نے اس وائرس کے بارے میں کسی بھی قسم کی معلومات ہونے سے انکار کیا تھا۔

غیر مصدیقہ اطلاعات کے مطابق اس وائرس کا تعلق کسی حکومتی ادارے سے تھا اور اس سلسلے میں امریکی اور اسرائیلی خفیہ اداروں پر شک کیا جاتا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔