بدلتے چین کی کہانی، تصویروں کی زبانی

آخری وقت اشاعت:  پير 24 ستمبر 2012 ,‭ 14:59 GMT 19:59 PST

چین کے ایک فوٹو گرافر نے ملک کے دور دراز علاقوں میں چینی خاندانوں کی ان کے مال و اسباب ساتھ تصاویر لیں جو شاید کچھ عرصے بعد ایک گزرے ہوئے دور کی یادگار لگیں گی۔

خوانگ چنگ جنہوں نے تقریباً ایک دہائی چین کے دور دراز علاقوں میں سفر کر کے مختلف لوگوں کو جن کی کبھی بھی تصاویر نہیں لی گئی تھیں رضامند کیا کہ وہ اپنا سب مال و اسباب گھر کے باہر لا کر ان کی تصویر کے لیے پوز کریں۔

اس ساری کوشش کا نتیجہ چینی باشندوں کی مادی زندگیوں کی ایک ایسی جھلک ہے جو پہلی نظر میں چین کی اس جدت سے بے اثر نظر آتی ہیں جس کے لیے لاکھوں لوگوں نے شہروں کا رخ کیا۔

چینیوں کی خرچ کرنے کی عادات

  • حکومت نے کچھ سالوں میں صارفین کے خرچ کو بڑھانے کی کوششیں کیں ہیں جیسا کہ بجلی کی اشیاء، فرنیچر اور کاروں پر رعایتی واؤچرز کی فراہمی۔

  • بہت سارے افراد مادی اشیاء کے حصول کے خواہشمند ہیں، ایک دو ہزار دس کے جائزے کے مطابق لوگ تعلیم، صحت اور رٹائرمنٹ کے لیے بچت میں زیادہ دلچسپی رکھتے تھے۔

لیکن اگر ان تصاویر کو قریب سے دیکھا جائے تو ان میں ایک بہت بڑی معاشرتی تبدیلی نظر آتی ہے جو ایک ہی نسل کے دور میں آئی ہے۔

بیالیس سالہ خوانگ کا کہنا ہے کہ ’لوگوں کی زندگیوں میں بہت بڑے پیمانے پر تبدیلی آئی ہے۔ شاید ان کی آمدن اتنی متاثر نہیں ہوئی جتنی ان کی سوچ میں تبدیلی آئی ہے‘۔

جیسا کہ ایک بزرگ کسان جوڑے کی تصویر جو سیٹلائیٹ ڈش، ڈی وی ڈی پلیئر اور فون کے ساتھ ان کے مٹی سے بنے گھر کے باہر لی گئی ہے ۔

خوانگ سرحدی قصبے داچنگ میں پیدا ہوئے اور اب دارالحکومت بیجنگ میں رہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’اکثر لوگوں نے میری تجویز کو ابتدا میں پاگل پن قرار دیا‘۔

خوانگ نے پہلی تصویر اس وقت کھینچی جب وہ ایک نوجوان تھے اور اپنے ایک چچا سے متاثر تھے۔ یہ وہ دور تھا جس میں نوجوانوں کے مشاغل خطاطی اور گلوکاری ہوا کرتے تھے۔

انہوں نے پہلا کیمرہ اس وقت لیا جب وہ اٹھارہ برس کے تھے اور اس وقت وہ کیمرہ ان کے گھر کی سب سے زیادہ قیمتی چیز تھا۔

ان تصاویر کی سیریز جسے جیادانگ کہا جاتا ہے کا خیال خوانگ کو دو ہزار تین میں آیا جب ان کی کچھ تصاویر چینی نیشنل جیوگرافک جریدے میں شائع ہوئیں۔

لیکن اس پر صحیح طریقے سے کام تین سال بعد تک نہیں شروع ہوا جب خوانگ نے مناسب جگہوں اور لوگوں کی تلاش کے لیے چین کے دور دراز علاقوں کا سفر کرنا شروع کیا۔

انہوں نے بتایا کہ ’اکثر لوگوں نے سوچا جو میں تجویز کر رہا ہوں وہ عقلمندانہ نہیں ہے‘۔

جب میں تصویر بنانے کے لیے گھر کے سارے سامان کو باہر نکالنے کا کہا کرتا تھا تو اس کے لیے مجھے بہت وضاحت کرنی پڑتی تھی‘۔

ان کے مطابق ’تقریباً تمام لوگ میرا نقطۂ نظر سمجھ گئے جب ان کو احساس ہوا کہ میں کیا کرنے کی کوشش کر رہا ہوں‘۔

دودراز اور غریب علاقوں کا سفر کرنے کا ایک فائدہ یہ تھا کہ لوگوں کے پاس بہت زیادہ ساز و سامان نہیں تھا ’وہ شہر کے لوگوں کی طرح نہیں تھے، جن کے پاس بہت سارا ساز و سامان ہوتا ہے اور جب آپ انہیں درخواست کریں تو ان کا جواب ہوتا ہے کہ یہ بہت زیادہ کام ہے‘۔

کچھ تصاویر پر دو دن کے قریب لگے اور بعض پر انہیں مہینوں لگے جب انہیں ایک جوڑے کے گھر بدلنے کا انتظار کرنا پڑا۔

اس جوڑے کے گھر کو گرانے کے احکامات جاری کیے گئے تھے تاکہ اس کی جگہ پر دفاتر یا بلند عمارت بنائی جا سکے۔

جب وہ اپنے بستر پر بیٹھے تھے تو ان کے پیچھے والی دیوار پر لفظ چائی لکھا تھا جس کا مطلب ہے ’گرا دو‘۔

لیکن وہ ایک خوشی کا دن تھا کیونکہ اس جوڑے کو ان کا مطلوبہ ہرجانہ مِل گیا تھا۔

خوانگ اس تصاویر کی سیریز کے لیے چین کے تینتیس صوبوں میں سے چودہ میں گئے۔

اس نے انہیں ایک غیر معمولی وسیع منظر نامہ دیا کہ چین کیسے بدل رہا ہے۔

خوانگ اس عمل سے مطمئن ہیں اور ان کا کہا ہے ’بہت سارے چینی دیہات میں حکومت نے سڑکیں بنائی ہیں اور بجلی فراہم کی ہے۔

یہ ایک بہت بڑی تبدیلی ہے۔ اگر آپ کے نزدیک ایک سڑک ہے آپ نقل و حرکت کر سکتے ہیں۔اگر آپ کے پاس بجلی ہے آپ ٹی وی رکھ سکتے ہیں اور آپ خبروں تک رسائی رکھتے ہیں اور آپ کو پتا ہوتا ہے کہ باہر کی دنیا کیا سوچ رہی ہے‘۔

’دیہی علاقوں میں سب سے بڑا مسئلہ اب یہ ہے کہ لوگ اپنے بچوں کے لیے تعلیم اور صحت کی سہولیات کیسے حاصل کر سکتے ہیں‘۔

بہت ساری تصاویر میں ایسی چیزوں کو دکھایا گیا ہے جو شاید گم ہونے کی نہج پر ہیں۔

یہ ان گھروں کے گرد گھومتی ہے جن کی بہت اچھی تزئین و آرائش کی گئی ہے یا پھر ان کو گرایا جانا مقصود ہے۔

کھانے پینے کے برتنوں کی بہتات، کپڑوں اور اشیائے تعیش کی قلت ایک ایسے طریقۂ زندگی کی جو ناپید ہو رہا ہے۔

اکثر خاندانوں نے ٹی وی جب کہ کچھ نے کپڑے دھونے کی مشینیں حاصل کر رکھیں ہیں۔

پاؤں سے چلنے والی سلائی مشین جو کہ ان کے والدین کی نسل سے تعلق رکھتی ہے اور ایک زمانے میں چار انتہائی ضروری اشیا میں سے ایک سمجھی جاتی تھی، اب کئی تصاویر میں پیچھے دھکیلی دکھائی دے رہی ہے۔

وہ وقت دور نہیں جب برینڈز کے نام اور پرتعیش اشیاء جو اب بہت چین کی شہری آبادیوں میں نظر آتی ہیں ان تصاویر میں گھسنا شروع ہو جائیں گی۔

ایک بی ایم ڈبلیو کار اور ایک فلیٹ سکرین ٹی وی فلمساز ژینگ یوان کی ان کے بیجنگ کے گھر کے باہر لی گئی تصویر میں نظر آتا ہے۔

یہ تصاویر چین سے باہر بہت زیادہ نہیں دیکھی گئیں اگرچہ ان میں سے کچھ نیو یارک اور پیرس میں نمائشوں میں دکھائی گئی ہیں۔

چار بڑی مطلوب چیزیں، مختلف ادوار میں

  • انیسں سو پچاس کے دور کی ایک کہاوت میں نئے شادی شدہ جوڑوں کے لیے چار اشیاء سلائی مشین، سائیکل، گھڑی اور ریڈیو تھیں۔
  • اس کے بعد یہ وقتی رواج میں شامل چیزوں کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

  • انیس سو اسیّ تک چار بڑی چیزوں میں ٹی وی، کپڑے دھونے کی مشین، چاول پکانے والی مشین اور ریفریجریٹر تھیں۔
  • اب صارفین کے استعمال کی اشیا چین کے شہروں میں جا بجا نظر آتی ہیں، جو چینی لوگوں کی نئی اشیا کے حصول کی خواہشات کی عکاسی کرتی ہیں۔

اگلے سال خوانگ کی پہلی تصویر کو ایک دہائی ہو جائے گی اور خوانگ اس کو ان جگہوں پر واپس جا کر یاد کرنا چاہتے ہیں یا پھر ان جگہوں پر جو کہ ابھی تک قابل شناخت ہیں۔ وہ یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ کیا کچھ تبدیل ہوا ہے۔

خوانگ کے مطابق ’پچھلے دس سالوں میں چین نے بہت تیز رفتار ترقی دیکھی ہے اور میں واپس جا کر دیکھنا چاہتا ہوں کہ اس کے کیا اثرات اُن لوگوں کی زندگیوں پر ہوئے ہیں‘۔

وہ یہ بھی امید رکھتے ہیں کہ اس تصاویر کے منصوبے کو وسیع کریں اور وسیع تر پس منظر کے لوگوں کو اس میں شامل کریں جیسا کہ سرمایہ کار اور حکومتی افسران۔

وہ جیک ما کو بھی اس منصوبے میں شامل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جو چین کے امیر ترین افراد میں سے ایک ہیں اور انٹر نیٹ سرمایہ کار ہیں۔

ان کے خیال میں ’ان تصاویر میں ان افراد کی تمام اشیا سمیٹی نہیں جا سکیں گی لیکن ان میں وہ اشیاء شامل کی جا سکتی ہیں جو کہ وہ روزانہ استعمال کرتے ہیں۔ روزمرہ استعمال کی اشیا جو ایک خاندان اپنی روزمرہ کی زندگی میں استعمال کرتا ہے، جن سے آپ کو چین میں رہنے والے لوگوں کی حقیقی زندگی کے بارے میں ایک تصور ملتا ہے‘۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔