لیبیا میں مسلح گروہوں کے سربراہ برطرف

آخری وقت اشاعت:  منگل 25 ستمبر 2012 ,‭ 23:15 GMT 04:15 PST

لیبیا کی فوج نے ملک میں مسلح گروہوں کا انتظام سنبھالنے کے اعلان کے تحت بن غازی شہر کے دو مسلح گروہوں کے سربراہوں کو بر طرف کر دیا۔

پیر کو لیبیا کو فوج نے ملک میں تمام غیر قانونی مسلح گروہوں کو ختم کرنے کے لیے اڑتالیس گھنٹوں کا الٹی میٹم دیا تھا۔

لیبیا کے شہر بن غازی میں گزشتہ ہفتے پیغمبرِ اسلام کے بارے توہین آمیز فلم کے خلاف مظاہروں کے دوران امریکی سفیر سمیت تین امریکی اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

اس حملے میں ملوث ہونے کا الزام مبینہ طور پر ایک اسلام پسند گروہ انصار الشریعہ پر عائد کیا جاتا ہے۔

پیر کو حکام کا کہنا ہے کہ دارالحکومت طرابلس میں بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب واقع ایک کمپلیکس سے ایک غیر قانونی مسلح گروہ کو نکال دیا گیا تھا۔

لیبیا میں عبوری حکمران لیبیا نیشنل کانگرس کے سربراہ محمد مغاریف نے اعلان کیا تھا کہ ملک میں تمام غیر قانونی مسلح گروہوں کو ختم کر دیا جائے گا۔

اس فیصلے کا مسلح گروہوں کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین نے خیر مقدم کیا ہے۔

دوسری جانب لیبیا کے اسلامی شدت پسندوں نے پرتشدد واقعہ میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔

دریں اثناء بن غازی کے مشرق میں اسلامی شدت پسندوں کے گڑھ درنہ میں اتوار کو دو مسلح گروہوں کو توڑ دیا گیا۔

لیبیا میں گذشتہ سال کرنل قدافی کی حکومت کا تختہ الٹے کے لیے بننے والے مسلح گروہ اور ملیشیا اب ایک اہم طاقت بن گئے ہیں۔

دارالحکومت طرابلس سے بی بی سی کی نامہ نگار رعنا جواد کا کہنا ہے کہ اب تک حکومت نے حفاظتی اقدامات کے لیے انہی مسلح گروہوں کی مدد لی ہے اور اب یہ دیکھنا ہوگا کہ حکومت ان کو توڑنے کا انتہائی مشکل کام کیسے کر پاتی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔