چین: طیارہ بردار بحری جہاز بحریہ میں شامل

آخری وقت اشاعت:  منگل 25 ستمبر 2012 ,‭ 08:51 GMT 13:51 PST

چین نے طیارہ بردار بحری جہاز تیار کرنے کی تصدیق گزشتہ سال کی تھی

چین کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ ملک کے پہلے طیارہ بردار بحری جہاز کو باقاعدہ طور پر بحریہ میں شامل کر لیا گیا ہے۔

تین سو میٹر لمبے اس بحری جہاز کو لیاوننگ کا نام دیا گیا ہے اور صوبہ لیاوننگ میں ہی تیار کیا گیا۔

چین نے سابق سوویت یونین کے جنگی بحری جہاز کو یوکرائن سے خریدنے کے بعد دوبارہ کارآمد بنایا ہے۔

چین کا کہنا ہے کہ طیارہ بردار بحری جہاز کو سخت سمندری آزمائش سے گزرا گیا ہے اور اس سے ملکی مفادات کے دفاع کے حوالے سے صلاحتیوں میں اضافہ ہو گا۔

لیاوننگ نامی بحری جہاز آپریشنل نہیں ہو گا اور اسے صرف تربیتی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

چین کے سرکاری خبر رساں ادارے زنہوا نیوز کے مطابق ڈالین کی بندرگاہ پر منعقد ہونے والی ایک تقریب میں سیاسی رہنماوں کی موجودگی میں لیاوننگ کو بحریہ کے حوالے کیا گیا۔

ایک ایسے وقت لیاوننگ کو بحریہ کے حوالے کیا گیا ہے جب جاپان سمیت متعدد ہسمایہ ممالک نے چین کی بڑھتی ہوئی بحری طاقت پر خدشات کا اظہار کیا ہے۔

دفاعی صلاحیت میں اضافہ

"طیارہ بردار بحری جہاز کی بحریہ میں شمولیت سے مجموعی طور پر بحریہ کی جدید پیمانے پر جنگی صلاحتیوں میں غیر معمولی اضافہ ہو گا"

وزارتِ دفاع

چینی وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ’طیارہ بردار بحری جہاز کی بحریہ میں شمولیت سے مجموعی طور پر بحریہ کی جدید پیمانے پر جنگی صلاحتیوں میں غیر معمولی اضافہ ہو گا۔‘

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ’بحری جہاز کی شمولیت سے دفاعی صلاحتیوں میں اضافہ ہو گا، ملک کو کھلے سمندر میں غیر روایتی سکیورٹی خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت حاصل ہو گی اور یہ ملکی خودمختاری کے تحفظ میں موثر ثابت ہو گا۔‘

چینی بحریہ میں شامل کیے جانے والے اس بحری جہاز کو سابق سوویت یونین نے سنہ انیس سو اسی میں اپنی بحریہ کے لیے تیار کرنا شروع کیا تھا اور اس کا نام وریاگ رکھا گیا تھا۔

لیکن اس وقت سوویت یونین اسے مکمل نہیں کر پایا اور سنہ انیس سو اکانوے میں یونین کے ٹوٹنے کے وقت نامکمل بحری جہاز یوکرائن کی بندرگاہ پر خستہ حالت میں کھڑا تھا۔

جب سابق سوویت یونین کے بحری جنگی جہازوں کو سکریپ کرنا شروع کیا گیا تو اس وقت وریاگ نامی بحری جہاز کو چین کی پیپلز لبریشن آرمی سے تعلق رکھنے والی ایک کمپنی نے یہ کہہ کر خرید لیا کہ وہ اس جہاز کو ماکویا میں ایک تیرتے ہوئے کسینو کے طور پر استعمال کرے گی۔

خریداری کے چند سال بعد یہ چینی کمپنی بحری جہاز کو کھینچ کر چین لے آئی اور پھر ڈالین کی بندرگاہ پر منتقل کر دیا گیا۔

گزشتہ سال جون میں چین کی پیپلز لبریشن آرمی نے پہلی بار تصدیق کی تھی کہ وہ بحریہ کا پہلا ائر کرافٹ کیرئیر تیار کر رہا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔