خودکشی کے اختیار کے حق میں ووٹ

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 27 ستمبر 2012 ,‭ 22:18 GMT 03:18 PST

سوئٹرزلینڈ میں بدھ کو پارلیمنٹ نے ’ایسسٹڈ سیوسائڈ‘ یعنی کسی کی مدد سے خود کشی کرنے کے ضابطوں کو سخت بنانے سے متعلق ایک ترمیم کو رد کر دیا ہے۔

برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق سوئٹزرلینڈ کی پارلیمنٹ نے اس ترمیم پر ووٹنگ کے دوران ان خدشات کو بھی رد کر دیا کہ غیر ممالک سے لوگ خود کشی کرنے کے لیے سوئٹزرلینڈ آ رہے ہیں۔

سوئٹزرلینڈ میں ایوان زیریں میں خود کشی کرنے سے متعلق ضابطوں کو تبدیل کرنے کے خلاف ووٹ دیا اور کہا کہ ایسی تنظیمیں جو کہ خود کشی کرنے میں معاونت کرتی ہیں ان کے اپنے ضابطے ہیں اور وہ موثر بھی ہیں اور موجودہ ضابطوں سے فرد کی آزادی کو یقینی بنانے میں مدد ملی ہے۔

کرسچن ڈیموکریٹ پارٹی کے ایک رکن کا جو خودکشی کے ضابطوں میں تبدیلی کے حق میں تھے کہنا تھا کہ ایسی تنظیمیں جو خود کشی میں معاونت کرتی ہیں ان کی نگرانی کی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تنظیمیں کمپنیوں کی طرح چلائی جا رہی ہیں، یہ اشتہارات دیتی ہیں اور اپنے کام کا معاوضہ بھی طلب کرتی ہیں۔

سوئٹرزلینڈ میں سنہ انیس سو چودہ سے خود کشی کرنے میں مدد دینے کی اجازت ہے اگر معاونت فراہم کرنے والا طبیب نہ ہو اور اس کا خود کشی کرنے میں مدد دینے سے کوئی فائدہ وابستہ نہ ہو۔

کسی کی مدد سے خودکشی کی امریکہ کی ریاستوں اوریگن اور واشنگٹن میں بھی اجازت ہے۔

سوئٹرزلینڈ کی دوسری بڑی سیاسی جماعت سوشل ڈیموکریٹ کی رکن سوزن لیتہنیگر اوبرہلوزر کا کہنا تھا کہ زندگی کے آخر ایام کا فیصلہ کرنے کے اختیار کو سوئٹزرلینڈ میں بڑی اہمیت دی جاتی ہے۔

انہوں کا کہنا تھا کہ اخلاقی سوالات یہاں بنیادی اہمیت کے حامل ہیں اور قانون ساز اس بارے میں کچھ نہیں کر سکتے۔

وزیر قانون سمونتھا سوماروگا کا کہنا تھا کہ خود کشی میں معاونت کے قوانین میں تبدیلی کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ غیر ممالک سے خود کشی کرنے کی غرض سے سوئٹزرلینڈ آنے والوں کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سنہ دو ہزار چھ میں ایک سو ننانونے غیر ملکیوں نے سوئٹزلینڈ آ کر خود کشی کی تھی لیکن یہ تعداد سنہ دو ہزار دس میں ستانوے رہ گئی۔

"خود کشی میں معاونت کے قوانین میں تبدیلی کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ غیر ممالک سے خود کشی کرنے کی غرض سے سوئٹزرلینڈ آنے والوں کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے۔ سنہ دو ہزار چھ میں ایک سو ننانونے غیر ملکیوں نے سوئٹزلینڈ آ کر خود کشی کی تھی لیکن یہ تعداد سنہ دو ہزار دس میں ستانوے رہ گئی۔"

وزیر قانون سمونتھا سوماروگا

سوئٹزرلینڈ میں زیادہ تر جرمنی، برطانیہ اور فرانس سے لوگ آ کر خودکشی کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ زندگی کا انجام عزت سے کرنے کا سب کو اختیار ہونا چاہیے۔ ہر ایک فرد کو عزت سے مرنے کا حق ہے اور یہ اپنی زندگی کا خود فیصلہ کرنے کا سوال ہے۔

گزشتہ سال زیورئخ میں لوگوں نے ریفرنڈم میں کسی کی مدد سے خودکشی کرنے پر اور خودکشی کی غرض سے آنے والے سیاحوں پر پابندی لگانے کے خلاف ووٹ دیا تھا۔

سوئٹزرلینڈ میں سنہ انیس سو اٹھانوے سے سنہ دو ہزار نو تک کسی کی مدد سے خودکشی کرنے والوں کی تعداد میں سات گنا اضافہ ہوا تھا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سنہ دو ہزار نو میں تین سو کے قریب شہریوں نے کسی کی مدد سے خود کشی کی جب کہ سنہ انیس سو اٹھانوے میں صرف چونتس مرنے والے ایسے تھے جنہوں نے اپنی زندگیوں کو کسی کی مدد سے ختم کیا۔

کینسر کی بیماری ایسی آدھی سے زیادہ ہلاکتوں کا موجب بنی۔ اس کے علاوہ امراض قلب اور دیگر بیماریاں بھی ایسی خودکشیوں کا باعث رہیں۔ ڈپریشن کی وجہ سے صرف تین فیصد لوگوں نے اپنی زندگیاں خود ختم کئیں۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔