دمشق میں فوج کے ہیڈ کوارٹر پر خودکش حملے

آخری وقت اشاعت:  بدھ 26 ستمبر 2012 ,‭ 10:58 GMT 15:58 PST
فائل فوٹو، دمشق میں دھماکہ

شام کے دارالحکومت دمشق میں حکام کا کہنا ہے کہ باغیوں کی جانب سے فوج کے ہیڈ کوارٹر پر گاڑیوں کی مدد سے کیے گئے خودکش حملوں میں چار فوجی محافظ ہلاک ہو گئے ہیں۔

شام کے سرکاری میڈیا میں نے فوجی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کے حملے میں چودہ اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔

اس سے قبل حکام نے کہا تھا کہ حملے میں کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔

شام میں حکومت کی مخالف فری سیرین آرمی نے دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعوٰی کیا کہ ان واقعات میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ تاہم انہوں نے خود کش حملے کا ذکر نہیں کیا۔

سرکاری ٹی وی پر دکھائے گئے ایک منظر میں ایک منی بس کو ہیڈ کوارٹر کے قریب دھماکے سے قبل آہستہ ہوتے ہوئے دکھایا گیا۔

دمشق میں بی بی سی کے نامہ نگار رافعد جابوری کے مطابق دھماکوں کی جگہ اور وقت کا انتخاب کافی اہمیت رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سٹاف کمانڈ کی عمارت کو شامی فوج کا دل کہا جا سکتا ہے۔

شام کے سرکاری ٹیلی ویژن نے ایک فوجی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ’دہشت گرد حملہ آوروں نے عمارت کے احاطے کی حدود اور قریبی گلی میں فائرنگ کی اور سکیورٹی فورسز نے ان کو روکنے کے لیے جوابی کارروائی کی‘۔

دھماکے مقامی وقت کے مطابق سات بجے کے قریب ہوئے اور دھماکوں کی جگہ پر اہم سرکاری عمارتیں ہیں۔

دھماکے کی جگہ سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر واقع عمارتیں بھر لرز گئیں اور کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔

اس حملے سے ایک دن پہلے ہی فری سیرین آرمی نے اعلان کیا تھا کہ اس نے اپنے ہیڈ کوارٹر کو ترکی سے شام منتقل کر دیا ہے تاکہ شامی حکومت کے خلاف لڑائی میں تیزی لائی جا سکے۔

شام کے سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق دھماکوں کے بعد جائے وقوعہ کی جانب جانے والی سڑکوں کو بند کر دیا گیا ہے اور حکام دھماکے کے بعد کی صورتحال سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

شام میں حکومت مخالف کارکنوں کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے دمشق کے گرد و نواح میں آج یعنی بدھ کو غیر معمولی طور پر متعدد افراد کو ہلاک کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کا صبح کے بم دھماکوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ان کے مطابق ڈسٹرکٹ برزہ اور ضیابیہ سے کئی لاشیں ملی ہیں جنہیں پکڑ کر ہلاک کیا گیا ہے۔

حکومت مخالف آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس گروپ کے مطابق برزہ میں پیش آنے والے ایک واقعے میں ملیشیا کے افراد نے ایک گھر میں گھس کر کئی افراد کو ہلاک کیا جن میں چھ عورتیں اور تین بچے شامل ہیں۔

حکومت مخالف گروہوں کا کہنا ہے کہ دن کے وقت صرف دمشق میں کم از کم اسی افراد ہلاک ہو گئے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔