سپین:بجٹ میں کفایت شعاری کے مزید اقدامات

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 27 ستمبر 2012 ,‭ 13:01 GMT 18:01 PST

سپین میں بدھ کے روز بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے ہیں۔

سپین میں ایسی صورتِ حال میں دو ہزار تیرہ کے لیے کفایت شعارانہ بجٹ پیش کیا جا رہا ہے جب وہاں معیشت کی صورتِ حال بگڑتی جا رہی ہے اور بے روزگاری کی شرح پچیس فیصد ہو گئی ہے۔

توقع ہے کہ سپین بچت، ٹیکسوں میں اضافے اور حکومتی ڈھانچے میں تبدیلیوں کی مد میں انتالیس ارب یورو کے برابر بچت کی تجاویز پیش کرے گا۔

اس ہفتے سپین میں مزید مظاہرے ہوئے ہیں اور بڑے پیمانے پر توقع کی جا رہی ہے کہ سپین اپنے یورو زون کے شراکت کاروں سے امدادی پیکیج (بیل آؤٹ) کی درخواست کرے گا۔

جمعہ کو سپین کے بینکوں کی طرف سے دباؤ برداشت کرنے کے ٹیسٹ کے نتائج جاری کیے جائیں گے۔

ہسپانوی سٹاک ایکسچینج کا آئبیکس انڈیکس جمعرات کے روز مستحکم رہا تاہم گذشتہ روز اس میں تین اعشاریہ نو فیصد کی کمی واقع ہوئی تھی۔

بدھ کے دن حصص تیزی سے گرے تھے۔ اس کی وجہ سپین کے دارالحکومت میڈرڈ اور یونان کے دارالحکومت ایتھنز میں پرتشدد مظاہرے اور سپین کے مرکزی بینک کی طرف سے یہ بیان تھا کہ ملک کی معیشت سال کی تیسری سہ ماہی میں بھی سکڑنے کا امکان ہے۔

میڈرڈ میں بی بی سی کے نامہ نگار ٹام برج نے کہا ہے کہ بظاہر سرمایہ کار صبر کا دامن ہاتھ سے چھوڑ رہے ہیں۔

"اگر قرض کی شرح بہت اونچی اور طویل مدت ہوئی تو ’سو فیصد یقین دلاتا ہوں کہ میں بیل آؤٹ کے لیے درخواست کروں گا۔"

سپین کے وزیرِ اعظم

سپین کو توقع ہے کہ جمعرات کو ہونے والے کفایت شعارانہ اقدامات کی وجہ سے یوروزون کی طرف سے اسے مالی امداد ملتے وقت زیادہ شرائط عائد نہیں کی جائیں گی۔

سپین کے وزیرِ اعظم ماریانو راہوئے نے اس وقت ان توقعات کو ہوا دی جب انھوں نے بدھ کو وال سٹریٹ جرنل کو بتایا کہ اگر قرض کی شرح بہت اونچی اور طویل مدت ہوئی تو ’میں سو فیصد یقین دلاتا ہوں کہ میں بیل آؤٹ کے لیے درخواست کروں گا۔‘

بدھ کے روز مرکزی بینک کی طرف سے یہ اشارہ ملنے پر کہ ملک کا بحران گذشتہ تین مہینوں میں مزید بڑھا ہے، سپین کی معاشی صورتِ حال بدستور گمبھیر ہے۔

بینک آف سپین نے ایک ماہانہ رپورٹ میں کہا کہ ’سال کی تیسری سہ ماہی کے دستیاب اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ بلند مالیاتی تناؤ کے ماحول میں پیداوار میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔‘

سپین معاشی لحاظ سے یوروزون کا چوتھا سب سے بڑا ملک ہے۔ دو ہزار گیارہ میں جائیداد کی قیمتیں گرنے کی وجہ سے ملک کو دوسرے مالیاتی بحران کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔