صومالیہ:الشباب کے اہم مرکز میں شدید لڑائی

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 28 ستمبر 2012 ,‭ 11:20 GMT 16:20 PST
کینیائی فوج

کینیا کی فوج افریقی یونین افواج کا حصہ ہے۔

کینیا نے کہا ہے کہ افریقی یونین کی فورسز نے باغیوں کے کنٹرول میں صومالیہ کے شہر کسمایو پر حملہ کرتے ہوئے شہر کے کچھ حصے پر قبضہ کر لیا ہے۔

واضح رہے کہ ساحلی شہر کسمایو جنوبی صومالیہ میں القاعدہ سے منسلک شدت پسند تنظیم الشباب کا مضبوط گڑھ مانا جاتا ہے۔

الشباب کے ترجمان نے خبر رساں اداروں کو بتایا ہے کہ علاقے میں شدید لڑائی جاری ہے۔

کینیا کے فوجی افریقی یونین فورسز کا حصہ ہیں جو اقوام متحدہ کی حمایت والے نئے صدر کے لیے ملک کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

کینیا کے فوجی ترجمان سائرس اوگونا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ کسمایو کا کچھ حصہ قبضے میں لے لیا گیا ہے جبکہ باقی حصے بھی جلد ہی حاصل کر لیے جائیں گے۔

ہلاکتوں کا اندازہ نہیں

"فی الحال ہم ہلاکتوں کی تعداد نہیں بتا سکتے کیونکہ ابھی تباہی کا اندازہ نہیں لگایا جا سکا ہے لیکن ہم اتنا ضرور کہہ سکتے ہیں کہ کسمایو میں ہماری فوج داخل ہو چکی ہیں۔"

کینیا کے فوجی ترجمان سائرس اوگونا

اوگونا نے کہا کہ’فی الحال ہم ہلاکتوں کی تعداد نہیں بتا سکتے کیونکہ ابھی تباہی کا اندازہ نہیں لگایا جا سکا ہے لیکن ہم اتنا ضرور کہہ سکتے ہیں کہ کسمایو میں ہماری فوج داخل ہو چکی ہے۔‘

انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا’وہاں کچھ علاقے ایسے ہیں جو ابھی الشباب کے قبضے میں ہیں۔ ہم ابھی چند گھنٹے قبل ہی وہاں داخل ہوئے ہیں اور کسمایو بڑا شہر ہے۔‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایک شخص نے بتایا کہ ساحل پر آپریشن شروع کرنے سے قبل افریقی یونین کے فوجیوں نے کسمایو شہر کی شاہراہ کو شمال میں تیرہ کلومیٹر تک بند کر دیا ہے۔

کسمایو میں الشباب کے کمانڈر شیخ محمد ابو فتومہ نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ ’دشمن فوجی کشتیاں استعمال کر رہے ہیں اور گذشتہ رات اس نے سینکڑوں فوجی ساحل پر تعینات دیے ہیں اور اب جنگجو ان سے زبردست جنگ کر رہے ہیں۔ اللہ کے حکم سے وہ لوگ شکست سے دو چار ہونگے۔‘

کسمایو کے باشندوں نے رائٹرز کو بتایا کہ وہ شہر کے باہر لڑائی کی آواز سن سکتے ہیں۔

شہر کے ایک مکین اسماعیل سوگلو نے کہا ’اب ہم کشتیوں سے بمباری کی آواز سن رہے ہیں اور وہ (عسکریت پسند) طیارہ شکن ہتھیاروں سے ان کا جواب دے رہے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا ’ہم نے صبح سات جہازوں کو دیکھا اور اب ان کی فائرنگ بجلی کی طرح نظر آ رہی ہے۔ الشباب ساحل کی جانب چلے گئے ہیں اور بہت سے شہریوں نے بھی اپنی بندوقیں تھام لی ہیں۔ جہازوں سے بہت سے افریقی یونین کے فوجی ساحل پر اتارے گئے ہیں۔‘

دریں اثناء یہ خبریں بھی ہیں کہ شہر پر ہیلی کاپٹروں سے حملہ کیا جا رہا ہے۔

اس سے قبل اسی ہفتے کینیا کے فوجی جہاز سے کسمایو کے ہوائی اڈے پر حملہ کیا گیا تھا اور مسلم عسکریت پسندوں کے ذریعہ استعمال کیے جانے والے ہتھیاروں کے زخائر اور اسلحہ خانوں کو تباہ کر دیا گیا تھا۔

اقوام متحدہ کی پناہ گزینوں کی ایجنسی نے اندازہ لگایا ہے کہ گذشتہ ہفتوں میں دس ہزار کے قریب لوگ کسمایو سے نکل گئے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔