مجاہدین خلق دہشت گردوں کی فہرست سے خارج

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 29 ستمبر 2012 ,‭ 02:28 GMT 07:28 PST

مجاہدینِ خلق کی بنیاد ساٹھ کی دہائی میں رکھی گئی تھی

امریکہ کی وزارتِ خارجہ نے جمعہ کو ایران کے مجاہدین خلق گروپ کو دہشت گردوں کی فہرست سے خارج کر دیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے مجاہدین خلق کو دہشت گردوں کی فہرست سے خارج کرنے کا فیصلہ کیا۔

امریکہ کی جانب سے یہ فیصلہ مجاہدین خلق کی جانب سے تشدد ترک کرنے اور دہشت گردی نہ کرنے کو سامنے رکھ کر کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ امریکہ نے ایران کے مجاہدین خلق گروپ کو سنہ انیس سو ستتر میں دہشت گرد گروپ قرار دیا تھا۔

’پیپلز مجاہدین آرگنائزیشن آف ایران‘ کے نام سے جانے والے اس گروپ کا اصرار ہے کہ اس نے تشدد ترک کر دیا ہے۔

امریکی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ مجاہدین خلق کی طرف سے تشدد ترک کرنے اورگزشتہ دس سالوں میں دہشت گردی نہ کرنے کو سامنے رکھ کر کیا گیا ہے۔

امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے کہا کہ مجاہدین خلق نے عراق میں اپنے اڈے پر امن طریقے سے ختم کرنے میں بھی معاونت کی تھی۔

دوسری جانب ایرانی حکومت نے امریکہ کے اِس فیصلے کی مزمت کی ہے جبکہ مجاہدینِ خلق نے امریکی حکومت کے فیصلے کو سراہا ہے۔

مجاہدینِ خلق کے رہنما مریم راجاوی نے ایک بیان میں امریکی حکومت کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔

یاد رہے کہ ایران کے مجاہدن خلق گروپ کو عراق کے سابق صدر صدام حسین نے پناہ دی تھی۔

اس سے پہلے برطانیہ نے ایران کے مجاہدین خلق گروپ کو سنہ دو ہزار آٹھ میں دہشت گردوں کی فہرست سے خارج کر دیا تھا۔

مجاہدینِ خلق کی بنیاد ساٹھ کی دہائی میں رکھی گئی تھی اور اِس نے اُس وقت کے شاہِ ایران کے اقتدار کے خلاف مہم کا آغاز کیا تھا۔

سنہ انیس سو اناسی میں مجاہدینِ خلق نے، مذہبی حکمرانوں کے خلاف بھی علم بلند کیا اور عراق سے اپنی سرگرمیوں کو جاری رکھا۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔