ناروے کا خوش قسمت خاندان

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 29 ستمبر 2012 ,‭ 06:53 GMT 11:53 PST
لاٹری

ناروے کے ایک ہی خاندان میں تین بار لاٹری لگی ہے۔

ناروے کے ایک خاندان نےگزشتہ چھ سالوں میں تین بار لاٹری کے ذریعے خطیر انعامی رقم جیت لی ہے۔

گزشتہ دنوں انیس سالہ ٹورڈ آكسنیس خاندان کے ایسے تیسرے فرد ہیں جنہوں نے ناروے کی قومی لاٹری کا جیک پاٹ اپنے نام کیا ہے۔ اس سے قبل ان کی بہن ہیجے جينٹ اوران کے والد لائف کی بھی لاٹری لگ چکی ہے۔

یہ خاندان اب تک لاٹری کے ذریعے تیس لاکھ یورو یعنی بیس کروڑ روپے جیت چکا ہے۔ٹورڈ نے ایک کروڑ بیس لاکھ کرونر (یعنی سولہ لاکھ یورو)، ہیجے نے بیاسی لاکھ کرونر اور لائف نے اکتالیس لاکھ کرونر جیتے ہیں۔

ہیجے کا کہنا ہے کہ جب بھی لکی ڈرا ہوتا ہے تو اس وقت یا تو وہ حاملہ ہوتی ہیں یا انہوں نے بچے کو جنم دیا ہوتا ہے۔

"لاٹری جیتنے کے باوجود میں اپنی ٹیكنيشن کی نوکری نہیں چھوڑوں گا لیکن پیسہ ملنے کے بعد ایک یا دو گھر خریدنا چاہتا ہوں تاکہ اپنا مستقبل محفوظ کر سکوں"

ٹورڈ

ہیجے نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ ان کے جن تین بھائیوں نے ابھی تک لاٹری نہیں جیتی وہ ان سے کم سے کم دس بچے پیدا کرنے کے لیے کہہ رہے ہیں۔

وہ کہتی ہیں ’بچے پیدا کرنا ہمیشہ اچھا لگتا ہے لیکن بچے کسی کے کہنے پر تھوڑے ہی پیدا ہوتے ہیں۔‘

ٹورڈ کا کہنا ہے کہ لاٹری جیتنے کے باوجود وہ اپنی ٹكنيشين کی نوکری نہیں چھوڑیں گے لیکن پیسہ ملنے کے بعد وہ ایک یا دو گھر خریدنا چاہتے ہیں تاکہ اپنا مستقبل محفوظ کر سکیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ساتھ ہی وہ ایک نیا کمپیوٹر، چشمہ اور کچھ کپڑے خریدیں گے۔ ان کا کہنا ہے ’میں بہن کا قرض چکاؤں گا جنہوں نے مجھے ڈرائیونگ لائسنس بنوانے کے لیے پیسے دیے تھے۔‘

نارسك ٹپنگ اےایس لاٹری کمپنی نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ انہوں نے ایسے تو کئی معاملے دیکھے ہیں جب کسی ایک شخص نے تین بار لاٹری جیتی ہو لیکن ایسا پہلے کبھی نہیں دیکھا کہ کسی خاندان کے تین افراد نے لاٹری جیتی ہو۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔