’قربانیوں کیلیے تیار ہیں پر قتل ہونے کو نہیں‘

آخری وقت اشاعت:  پير 1 اکتوبر 2012 ,‭ 20:55 GMT 01:55 PST

رواں سال اب تک افغان سکیورٹی اہلکاروں کے ہاتھوں پچاس غیر ملکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں

افغانستان میں امریکی افواج کے کمانڈر جنرل جان ایلن نے کہا ہے کہ امریکہ افغانستان میں مہم کے لیے بہت داؤ پر لگانے کے لیے تیار ہے لیکن اس میں امریکیوں کا قتل شامل نہیں ہے۔

امریکی ٹی وی سی بی ایس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ وہ اپنے فوجیوں پر افغان فوجیوں کے بڑھتے ہوئے حملوں پر شدید ناراض ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ایمانداری سے بتاؤں تو میں ان پر پاگل پن کی حد تک ناراض ہوں۔ ان واقعات کی گونج امریکہ کے طول و عرض میں سنائی دیتی ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ ہم اس مہم کے لیے بہت کچھ قربان کرنے کو تیار ہیں لیکن ہم اس کے لیے قتل ہونے کو تیار نہیں‘۔

امریکی جنرل کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی فوجی حکام نے تصدیق کی ہے کہ دو ہزار ایک سے جاری فوجی مہم کے دوران افغانستان میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد دو ہزار ہوگئی ہے۔

یہ تعداد اتوار کو افغان سکیورٹی فورسز کے ایک باغی اہلکار کے ہاتھوں دو امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے نتیجے میں پوری ہوئی۔

رواں سال اب تک افغان سکیورٹی اہلکاروں کے ہاتھوں پچاس غیر ملکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس ماہ کے آغاز میں اسی وجہ سے نیٹو افواج نے افغان فوجیوں کے ساتھ مشترکہ گشت کرنا کم کر دیا تھا۔

یاد رہے کہ امریکہ دو ہزار چودہ کے آخر تک افغانستان سے اپنی بیشتر لڑاکا فوج واپس بلانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

گذشتہ چند ماہ میں غیر ملکی فوجیوں کی افغان باغی اہلکاروں کے ہاتھوں ہلاکتوں کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے جس کے بعد بہت سے لوگ یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا افغان حکومت اور اس کی افواج آئندہ دو سال میں اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکیں گی۔

اس حملے میں نیٹو کا ایک نجی کانٹریکٹر اور دو افغان فوجی بھی مارے گئے۔

ہلاکتوں کی بڑی وجوہات

بروکنگز انسٹیٹیو کے جمع کردہ اعداد و شمار کے مطابق چالیس اعشاریہ دو فیصد ہلاکتیں خود ساختہ بموں کی وجہ سے کوئی ہیں جبکہ تیس اعشاریہ چھ فیصد دشمن کی فائرنگ کا نتیجہ تھیں۔

آئی کیژوئلٹیز نامی ایک آزاد تنظیم کے مطابق افغانستان میں اب تک اس کے علاوہ ایک ہزار ایک سو نوے اتحادی فوجی بھی مارے جا چکے ہیں۔

بروکنگز انسٹیٹیوٹ کے جمع کردہ اعداد و شمار کے مطابق چالیس اعشاریہ دو فیصد ہلاکتیں خود ساختہ بموں کی وجہ سے ہوئی ہیں جب کہ تیس اعشاریہ چھ فیصد دشمن کی فائرنگ کا نتیجہ تھیں۔

عام شہریوں کی ہلاکت کی تعداد کا اندازہ لگانا زیادہ مشکل ہے۔ سنہ دو ہزار سات سے گذشتہ اگست تک عام شہریوں کی ہلاکتوں کی تعداد اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق تیرہ ہزار چار سو اکتیس تھی۔ اگر سنہ دو ہزار ایک کے امریکی حملے سے شمار کیا جائے تو یہ تعداد بیس ہزار کے لگ بھگ مانی جاتی ہے۔

دو ہزار امریکی فوجیوں کی ہلاکت خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی شائع کردہ اطلاعات کے مطابق ہے جو افغانستان میں موجود امریکی فوجیوں ہی کو اس گنتی میں شامل کرتی ہے۔ کچھ دیگر ادارے ایسے افراد کو بھی گنتی میں شامل کرتے ہیں جو دوسرے ممالک میں، مگر صدر جارج بش کے شروع کیے ہوئے آپریشن انڈیورنگ فریڈم کے سلسلے میں ہی ہلاک ہوئے۔

سنہ دو ہزار ایک افغانستان پر کیے جانے والے امریکی حملے کا مقصد گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کو ہونے والے واقعات کے بعد القاعدہ اور طالبان کو نشانہ بنانا تھا۔ گیارہ ستمبر کے حملوں میں تقریباً تین ہزار ہلاکتیں ہوئی تھیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔