بنگلہ دیش:بودھ آبادی پر مسلمانوں کے حملے

آخری وقت اشاعت:  پير 1 اکتوبر 2012 ,‭ 21:18 GMT 02:18 PST

بنگلہ دیشی حکومت نے متاثرین کے مکانات کی تعمیرِ نو میں مدد کرنے کا اعلان کیا ہے

سماجی روابط کی مقبول ترین ویب سائٹ فیس بک پر جلے ہوئے قرآن کی تصویر شائع ہونے کے بعد بنگلہ دیش میں مسلمان مظاہرین نے بودھ آبادی کے دیہات پر حملے کیے ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق کاکس بازار کے علاقے میں مشتعل مظاہرین نے گھروں اور خانقاہوں کو نذرِ آتش کر دیا اور مقامی آبادی نے علاقے سے بھاگ کر جان بچائی۔

ان پرتشدد واقعات کے بعد علاقے میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے اور سکیورٹی اہلکار متاثرہ علاقے میں گشت کر رہے ہیں۔

جس شخص پر مذکورہ تصویر ویب سائٹ پر لگانے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے، اسے حفاظتی تحویل میں لے لیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس شخص کو تصویر میں ٹیگ کیا گیا تھا اور اس نے خود یہ تصویر شائع نہیں کی۔

کاکس بازار کی مقامی بودھ آبادی کے مطابق مظاہرین نے ان کی قیمتی املاک لوٹنے کے بعد ان کے مکانات کو تباہ کر دیا۔ ایک مقامی سموتو بروا کا کہنا تھا کہ ’میرے مکان کو آگ لگانے سے قبل انہوں نے سب کچھ لوٹ لیا‘۔

انہوں نے کہا کہ ’وہ نقدی، سونا، کمپیوٹر یعنی ہمارا سب مال و متاع لے گئے۔ پھر انہوں نے ہمارے مکانات کو آگ لگا دی۔ میں اب بے سروسامانی کے عالم میں کھلے آسمان تلے پڑا ہوں‘۔

پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ سنیچر کی رات شروع ہوا اور اتوار کی صبح تک جاری رہا تھا۔

"میرے مکان کو آگ لگانے سے قبل انہوں نے سب کچھ لوٹ لیا۔ وہ نقدی، سونا، کمپیوٹر یعنی ہمارا سب مال و متاع لے گئے۔ پھر انہوں نے ہمارے مکانات کو آگ لگا دی۔ میں اب بے سروسامانی کے عالم میں کھلے آسمان تلے پڑا ہوں۔"

سموتو بروا، متاثرہ شخص

ان مظاہروں میں ہزاروں مشتعل افراد شامل تھے جنہوں نے بودھ اکثریتی علاقوں میں موجود مجسمے توڑ دیے، خانقاہوں کو آگ لگا دی اور مکانات پر حملے کیے۔

تشدد کا یہ سلسلہ کاکس بازار سے چٹاگانگ کے نواحی علاقوں تک بھی پھیلا جہاں ہندوؤں کے ایک مندر کو نذرِ آتش کیا گیا۔

بنگلہ دیش کے وزیرِ داخلہ محی الدین خان عالمگیر نے اتوار کو جائے وقوع کا دورہ کیا اور کہا کہ ’یہ ایک اقلیت کے خلاف جان بوجھ کر تشدد کا واقعہ ہے‘۔

کاکس بازار کے ضلعی کمشنر زین الباری نے بی بی سی کی بنگالی سروس کو بتایا کہ حکومت متاثرین کی مدد کر رہی ہے۔ ’ ہم نے ان میں خوراک اور راشن تقسیم کیا ہے اور فوج مزید خوراک فراہم کرے گی‘۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت متاثرین کے مکانات کی تعمیرِ نو میں مدد کرے گی۔ ’ہم انہیں تعمیراتی سامان دے رہے ہیں۔ وزیرِ داخلہ نے حکم دیا ہے کہ تمام مکانات اور مندر سابقہ حالت میں بحال کیے جائیں اور اس کے لیے حکومتی فنڈز استعمال کیے جائیں‘۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔