شام: حلب کا قدیم بازار شعلوں کی لپیٹ میں

آخری وقت اشاعت:  اتوار 30 ستمبر 2012 ,‭ 07:42 GMT 12:42 PST

حلب کا بازار مشرقِ وسطیٰ کے قدیم ترین بازاروں میں سے ایک ہے۔

شام کے حزبِ اختلاف کے کارکنوں نے کہا ہے کہ حکومتی فوجوں اور باغیوں کے درمیان جھڑپوں سے حلب کا قدیم بازار آگ کی لپیٹ میں آ گیا ہے۔

رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ ’سوق‘ میں واقع سینکڑوں دکانیں خاکستر ہو گئی ہیں۔ یہ بازار مشرقِ وسطیٰ کا سب سے محفوظ رکھا ہوا بازار تھا۔

یونیسکو نے حلب شہر کے قدیم حصے کو عالمی ورثہ قرار دے رکھا ہے۔ تنظیم نے بھی اس تباہی کو المیہ قرار دیا ہے۔

یونیسکو کے ڈائریکٹر کشور راؤ نے خبررساں ادارے اے پی کو بتایا ’اس قدیم شہر کا متاثر ہونا بہت بڑا نقصان ہے۔‘

اطلاعات کے مطابق باغیوں کے حملے کے تیسرے روز قدیم شہر اور ارکوب محلے میں جنگ پھوٹ پڑی ہے۔

اس آگ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ جمعے کو گولہ باری کی وجہ سے شروع ہوئی، لیکن اس کے شعلے ہفتے کے روز بھی بھڑک رہے تھے۔

بازار کی دکانیں تیرھویں صدی میں بنائے گئے بلند قلعے کے نیچے واقع ہیں۔ کارکنوں نے کہا ہے کہ وہاں سرکاری فوجیوں اور نشانے بازوں نے پوزیشنیں سنبھال لی ہیں۔

کارکنوں نے روئٹرز کو بتایا کہ نشانے بازوں کی موجودگی کی وجہ سے سوق المدینہ تک پہنچنا مشکل ہو گیا ہے جو پرکشش سیاحتی مرکز تھا۔

رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ اب تک سات سو سے ایک ہزار تک دکانیں تباہ ہو گئی ہیں۔

احمد الحلبی نامی ایک کارکن نے اے پی کو بتایا کہ ’یہ بہت بڑا سانحہ ہے۔ آگ بقیہ دکانوں تک پھیل رہی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ شامی حکام نے پانی کی ترسیل منقطع کر دی ہے جس سے آگ پر قابو پانے کی کوششوں میں دشواری پیش آ رہی ہے۔ باغی اور شہری مل کر آگ بجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

دکانوں کے لکڑی کے دروازوں، اور دکانوں کے اندر کپڑے کے تھانوں اور چمڑے کے سامان کی وجہ سے آگ تیزی سے بھڑک اٹھی ہے۔

روئٹرز نے کہا ہے کہ ہفتے کی شام شہر کی متعدد فوجی تنصیبات پر بھاری جھڑپیں جاری تھیں۔

"کسی کو بھی سبقت حاصل نہیں ہو رہی۔ بس جنگ اور مزید جنگ، اور لوگ وہاں سے بھاگ رہے ہیں۔"

برطانیہ میں قائم شام کے انسانی حقوق کے ایک ادارے نے کہا ہے کہ لڑائی کا مرکز شہر کے جنوب مغرب میں واقع باغیوں کا گڑھ ہے جسے صلاح الدین کہا جاتا ہے۔

بی بی سی کے جم موئر نے بیروت سے خبر دی ہے کہ اگرچہ فریقین نے شہر کے مختلف حصوں میں بھاری جھڑپوں کی اطلاعات تو ہیں، لیکن یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ باغیوں کے پاس کوئی بڑی کامیابی حاصل کرنے کے لیے درکار افرادی قوت اور اسلحے کی قلت ہے۔

ایک کارکن نے روئٹرز کو بتایا ’کسی کو بھی سبقت حاصل نہیں ہو رہی۔ بس جنگ اور مزید جنگ، اور لوگ وہاں سے بھاگ رہے ہیں۔‘

کارکنوں کا کہنا ہے کہ گذشتہ برس صدر بشارالاسد کے خلاف بغاوت پھوٹ پڑنے کے بعد سے اب تک شام میں ستائیس ہزار افرار مارے جا چکے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔