یونان میں پاکستانیوں پر حملے

آخری وقت اشاعت:  منگل 2 اکتوبر 2012 ,‭ 14:54 GMT 19:54 PST

یونان بھی اقتصادی بحران کا شکار ہے جس وجہ سے وہاں عوامی سطح پر بے چینی پائی جاتی ہے

یونان میں معاشی بدحالی کے بعد تارکین وطن پر حملوں میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے اور ان حملوں میں پاکستانی بھی نشانہ بن رہے ہیں۔

یونان میں پاکستانی سفارتخانے کے اہلکار اور وہاں مقیم کئی پاکستانی یہ الزام لگاتے ہیں کہ یہ حملے دائیں بازو کی سخت گیر قوم پرست جماعت گولڈن ڈان کے حمایتی کرتے ہیں۔

اس جماعت کا یہ نعرہ ہے کہ یونان صرف یونانیوں کا ہے اور غیر ملکی وہاں سے باہر نکل جائیں۔

یونان میں تارکین وطن کی تعداد دس لاکھ ہے جن میں سے لگ بھگ ایک لاکھ پاکستانی ہیں۔ ان میں بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو وہاں غیر قانونی طور پر رہتے ہیں۔

پاکستان کے صوبہ پنچاب کے ایک گاؤں کے رہائشی فیاض لیاقت کے دو بھائی بھی یونان میں ہیں۔ ان کا ایک بھائی چھ سال پہلے یونان گیا تھا جبکہ دوسرا بھائی تین سال سے یونان میں ہے۔

فیاض کے مطابق انھوں نے اپنے دونوں بھائیوں کو یونان پہنچانے کے لیےگیارہ لاکھ روپے خرچ کیے۔ ’وہ ٹیلیفون پر ہمیں صرف اتنا بتاتے ہیں کہ بے کار بیٹھے ہیں، کوئی کام نہیں مل رہا، بس اتنا کہتے ہیں‘۔

فیاض کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بھائیوں کو یہی مشورہ دیتے ہیں کہ اگر وہاں کام نہیں تو واپس آجائیں لیکن وہ ہربار یہی جواب دیتے ہیں کہ ٹکٹ کے لیے پیسے جمع ہوجائیں تو واپس آئیں گے۔

لیکن پاکستان میں بہت سے لوگ اس بات سے بے خبر ہیں کہ یونان میں تارکین وطن پر حملے کیے جارہے ہیں۔

اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ میڈیا کے ذریعے بہت کم معلومات فراہم کی جارہی ہیں۔ دوسری یہ کہ خود پاکستانی بھی ان پر ہونے والے حملوں کے بارے میں اپنے عزیزوں کو کچھ نہیں بتاتے تاکہ وہ پریشان نہ ہوں۔

ایسی ایک کہانی یونان کے دارالحکومت ایتھنز میں غیر قانونی طور پر مقیم پاکستانی نوجوان کی ہے جو وہاں ایک حملے میں زخمی ہوئے تھے۔

"’میں اپنے دوسرے پاکستانی دوست کے ہمراہ بس سٹاپ پر بس کا انتظار کررہا تھا، اسی دوران ایک گاڑی وہاں رکی اور تین لوگ گاڑی سے اتر کر میری طرف بڑھے اور مجھ پر چھریوں سے وار کیے۔ میرے جسم پر چار زخم آئے ہیں۔ میں خون میں لت پت ہوا، ایک یونانی نے پولیس کو ٹیلیفون کیا اور پھر پولیس بھی وہاں پہنچی جنھوں نے مجھے اسپتال پہنچایا۔‘"

اس نوجوان نے کہا ’میں اپنے دوسرے پاکستانی دوست کے ہمراہ بس سٹاپ پر بس کا انتظار کررہا تھا، اسی دوران ایک گاڑی وہاں رکی اور تین لوگ گاڑی سے اتر کر میری طرف بڑھے اور مجھ پر چھریوں سے وار کیے۔ میرے جسم پر چار زخم آئے ہیں۔ میں خون میں لت پت ہوا، ایک یونانی نے پولیس کو ٹیلیفون کیا اور پھر پولیس بھی وہاں پہنچی جنھوں نے مجھے اسپتال پہنچایا۔‘

اس پاکستانی کا کہنا ہے ان پر بائیس ستمبر کو شام کے وقت حملہ کیا گیا تھا۔

اس حملے کے بعد ان کی پاکستان میں اپنے گھر والوں سے بات تو ہوتی رہی لیکن انھوں اپنے خاندان والوں کو اس واقعہ کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔

اس نوجوان کے بھائی بھی وہاں مقیم ہیں وہ دونوں ایک پٹرول پمپ پر کام کرتے ہیں۔

اس نوجوان کے ساتھ اسی ہسپتال میں ایک اور پاکستانی زیر علاج ہیں جنھیں اسی رات چھریوں اور چاقوں سے حملہ کرکے شدید زخمی کیا گیا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ اس روز کم از کم چار پاکستانیوں پر حملے کر کے زخمی کیا گیا۔

یونان میں کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ غیر قانونی طور پر رہنے والے اکثر لوگ خوف کی وجہ سے پولیس میں رپورٹ درج نہیں کراتے ہیں۔

بیالیس سال سے یونان میں مقیم پاکستانی کمیونیٹی کے ایک بااثر رہنما محمد جمال شاہ کہتے ہیں کہ تارکین وطن پر خاص طور پر پاکستانیوں پر حملے معمول بن چکے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ ابھی تک کسی بھی پاکستانی کی ہلاکت کی اطلاع نہیں۔

’پولیس تعاون نہیں کرتی، وہ رپورٹ درج نہیں کرتے اس کی وجہ سے بہت سارے لوگوں کی رپورٹ ہی درج نہیں ہوتی ہے۔‘

گولڈن ڈان نے اس سال جون میں ہونے والے انتخابات میں چھ فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل کیے تھے

جمال شاہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ چار مساجد پر بھی حملے کرنے کی کوشش کی گئی اور اگست کے اوائل میں منہاج القرآن کے مرکز اور مسجد کی دیواروں پر اسلام اور پیغمر اسلام کے بارے میں نازیبا الفاظ لکھے گئے تھے جس کے خلاف ہزاروں پاکستانیوں نے چوبیس اگست کو مظاہرہ بھی کیا تھا۔

اکثر پاکستانی یہی الزام لگاتے ہیں کہ یہ حملے گولڈن ڈان کے حمائیتی کرتے ہیں۔

اس سال جون میں یونان میں ہونے والے انتخابات میں دائیں بازوں کی سخت گیر جماعت گولڈن ڈان نے چھ اعشاریہ نو فیصد ووٹ حاصل کیےجس کی بنیاد پر انھیں تین سو کی پارلیمان میں اٹھارہ نشتیں ملیں۔

یونان میں پاکستان کے سفیر عرفان الرحمان راجہ کا کہنا ہے کہ یہ جماعت خود کو نیو نازی بھی کہتے ہیں اور یہ انھیں نظریات کی حامل ہے جو نازی جرمنی سے منسوب کیے جاتے ہیں۔

پاکستانی سفیر کا کہنا ہے کہ نازی جرمنی کے نظریات پر چلتے ہوئے یہ بھی یہی نعرہ لگاتے ہیں کہ یونان صرف یونانیوں کا ہے اور غیر ملکیوں کو باہر نکالو۔ ان کا کہنا ہے کہ اسی نصب العین کے تحت انھوں نے غیر ملکیوں پر سختی شروع کردی ہے۔

’مسئلہ یہ ہے کہ پولیس اور سیکرٹ سروس کے بہت سارے اراکین ان سے ہمدردی رکھتے ہیں۔جب کوئی واقعہ ہوتا ہے پولیس ایک تماشائی کا کردار ادا کرتی ہے، یہ سب (تارکین وطن) کو نشانہ بنا رہے ہیں لیکن پاکستانیوں کی تعداد زیادہ ہے اس لیے وہ زیادہ ٹارگٹ بنتے ہیں‘۔

پاکستانی سفیر عرفان الرحمان راجہ

"مسئلہ یہ ہے کہ پولیس اور سکرٹ سروس کے بہت سارے اراکین ان سے ہمدردی رکھتے ہیں۔جب کوئی واقعہ ہوتا ہے پولیس ایک تماشاہی کا کردار ادار کرتی ہے، یہ سب (تارکین وطن) کو نشانہ بنا رہے ہیں لیکن پاکستانیوں کی تعداد زیادہ ہے اسلیے وہ زیادہ ٹارگٹ بنتے ہیں"

پاکستانی سفیر عرفان الرحمان راجہ نے کہا کہ غیرملکیوں پر اگست کے اوائل سے حملے شروع ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ وہ حتمی طور پر نہیں بتاسکتے کہ کتنے پاکستانیوں پر حملے ہوئے البتہ ایک اندازے کے مطابق دو ماہ کے دوران پینتیسں سے چالیس پاکستانیوں پر حملے ہوئے ہیں۔

پاکستانی سفیر نے تصدیق کی کہ پاکستانی اپنے وطن واپس جا رہے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ ان کی واپسی کی وجہ صرف حملے ہی نہیں بلکہ یونان کی خراب معاشی صورت حال بھی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ دو ماہ کے دوران ان کے سفارتخانے نے واپس جانے والے ساڑھے تین سو پاکستانیوں کو پاس جاری کیے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔